پیمرا کا مجوزہ ضابطہ اخلاق اور اینکرز کا ناکام انقلاب


\"\"

9 جنوری کوپیمرا کی جانب سے اسلام آباد میں ضابطہ اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری کے موضوع پر ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔ اس ورکشاپ میں بہت سے نامور صحافیوں اور اینکرز نے شرکت کی۔ اس ورکشاپ میں باہمی گفتگو کے تین دور چلے۔ جو صحافی اور میڈیا ہاؤسز کے نمائندے موجود تھے انہوں نے گفتگو میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد میڈیا ہاؤسز سے درخواست کرنا تھا کہ وہ خود ایک ضابطہ اخلاق تجویز کریں اور باہمی گفت و شیند سے ایک ایسا لائحہ عمل تجویز کریں جس سے بہتری کا راستہ نکلے، جہاں صحافی کا تحفظ بھی ہو اور سچ کہنے پر بھی کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کچھ قباحتوں کو چینلز سے دور کیا جائے۔ جھوٹ بولنے پر ممانعت لگائی جائے، خواہشوں کو خبر بنا کر بیچنے پر قدغن لگائی جائے۔ خود ساختہ خبروں کو ایجاد کرنے والوں کی روک تھام کی جائے۔ گھٹیا کرائم شوز جو جرم کی روک تھام کے بجائے جرم سے رغبت پیدا کریں ان کو بند کیا جائے۔ ری اینکیٹمینٹ پر پابندی لگائی جائے۔ ریٹنگ کی ریس میں اخلاقی قدروں کی پامالی کو روکا جائے۔ سوشل میڈیا کی بے ہنگم یلغار سے الیکٹرانک میڈیا کو محفوظ رکھا جائے۔

اس ورکشاپ کے بنیادی شرکاء میڈیا ہاؤسز کے نمائندے تھے۔ انہی کے لئے یہ سارا میدان سجا تھا۔ لیکن ورکشاپ میں ان کی شمولیت مایوس کن تھی۔ جو اس بات کا ثبوت تھا کی سچ کی طرف راغب کرنے کے لئے ابھی بہت وقت لگے لگا۔ چینلوں کو ابھی اپنی ذمہ داری کا ادراک ہی نہیں ہے۔ ریٹنگ ہی فیصلہ کن امر رہے گا چاہے اس کے لئے کچھ بھی کر گذرنا پڑے۔ قبر میں لیٹ کر حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنا ہو، یا کسی کھلاڑی پر لعنت بھیجنی ہو، یا انڈین وزیراعظم کے آمد پر توبہ توبہ کی گردان کرنی ہو، ابھی اصلاح احوال میں بہت وقت لگے گا۔

اس ورکشاپ میں شامل فاضل دوستوں نے بہت کام کی باتیں کیں ان میں سے چند کے اقوال میڈیا سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے فرداً فرداً تحریر کر رہاہوں۔

گریبان اپنا اپنا کے نام سے کالم لکھنے والے وقت ٹی وی کے اینکر مطیع اللہ جان نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ یہ جو خواہشیں چینلز پر بیچ رہے ہیں ان کا پس منظر اتنا سہل نہیں ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں انفارمیشن کی عوام تک رسائی میں بہت سے اور بھی ادارے شامل ہو گئے ہیں۔ مطیع نے ایک اور تجویز بھی دی کی پیمرا ایک ایسی مہم کا آغاز کرے جو عام آدمی کو اپنے حق میں آواز بلند کرنے پر مجبور کرے۔ اس پر سوال کیا گیا کہ لوگوں کو شعور ملنے تک پلوں کے نیچے سے بہت پانی گذر چکا ہوگا۔ کچھ اقدامات فوری نوعیت کے بھی درکار ہوتے ہیں۔

رانا جواد جو جیو کے ڈائریکٹر نیوز ہیں۔ انہوں نے پیمرا کے موجودہ کردار کو تو سراہا مگر ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے دباؤ کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کے حالیہ جہاز کے حادثے میں جہاز کے گرنے سے پیشتر کی ایک وڈیو منظر عام پر آگئی۔ اب ہر چینل کے نیوز روم پر یہ دباؤ تھا کہ وہ یہ وڈیو چلا دیں۔ لیکن جیو نے یہ وڈیو نہیں چلائی کیونکہ اس کی تصدیق صحافتی اصول کے مطابق کم از کم دو ذرائع سے نہیں ہو رہی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا سے بہت زیادہ برق رفتار ہو گیا ہے۔ یہ برائی نہیں ہی ایک چیلنج ہے جسے قبول کرنا ہی پڑے گا۔

مائک حامد میر کے ہاتھ میں آیا تو ہمشہ کی طرح ایک مختلف بات سامنے آئی۔ انہوں نے بڑے دبنگ انداز میں کہا کہ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ پاکستان میں چینلز کی ریٹنگ دینے والا نظام بالکل فراڈ ہے۔ سب ریٹنگ کی دوڑ میں شامل ہیں مگر کسی کو پتہ نہیں کسی پروگرام کی ریٹنگ کیوں اور کیسے آتی ہے۔ یہ ناسور ہے جو الیکٹرانک میڈیا کو کھا گیا ہے۔ انہوں نے میڈیا کے ایک اور پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اب وٹس ایپ گروپس بھی ایک باقاعدہ میڈیا بن چکے ہیں۔ اس کے ذریعے معلومات کا تبادلہ بھی بہت عام ہو گیا ہے۔ کسی شخص، چینل اور ادارے کے خلاف کوئی مہم چلانے کے لئے اس پر بہت کام ہو رہا ہے۔

سلیم صافی گویا ہوئے کہ تازہ تازہ ایک صاحب سے فون پر بات ہوئی وہ اپنا نقطہ نظر دے رہے تھے اور میرا نقطہ نظر ان سے مختلف تھا اس پر انہوں نے فون کی آڈیو ریکارڈ کرکے لوگوں کو وٹس ایپ کرنا شروع کر دی۔ سلیم صافی کے مطابق میڈیا کی توجہ اصل موضوعات سے ہٹ رہی ہے۔ کئی خبریں ہیں جو اہم ہیں جن کے اثرات دوررس ہیں مگر روش یہ ہے کہ ہم بھیڑ چال چل رہے ہیں۔ نئی بات اور نئے خیال کا کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔

ورکشاپ کا سب سے دلچسپ لمحہ وہ تھا جب ایک جذباتی صاحب نے جاوید چودھری سے سوال کیا کہ یہ ہر وقت آپ سیاست پر کیوں ٹاک شوز میں بات کرتے رہتے ہیں۔ اس ملک میں اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے۔ وہ کیوں نہیں ٹاک شوز میں دکھاتے۔ جاوید چودھری تو شاید اس سوال کے منتظر بیٹھے تھے۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا کہ چینلز پر سیاسی گفتگو کے پروگرام رات آٹھ بجے یا دس بجے ہوتے ہیں اس کے بعد کے بائیس گھنٹے وہی ہوتا جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ مزید یہ بھی فرما دیا کی ٹاک شوز میں بات ہی ہو گی اور کیا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سوال کرنے والے سے درخواست بھی کی کہ اگر یہ سیاست آپ کو پسند نہیں ہے تو یہ پروگرام نہ دیکھا کریں۔ سپورٹس، کوکنگ، ڈارمے اور کارٹون کچھ بھی دیکھ لیں کوئی منع تھوڑی کرتا ہے۔

چیئر مین پیمرا ابصار عالم نے پریزینٹیشن دی اس میں انہوں نے جہاں یہ بتایا کہ پیمرا کے پاس شکایات کی نوعیت کیا ہوتی اور ان کی تعداد کتنی ہے۔ وہاں انہوں نے یہ بھی بتایا کی ایک چینل کو بند کرنا ایک انتہائی اقدام ہے۔ اس اقدام کے اٹھانے سے پہلے وراننگ اور جرمانے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ بتایا گا کہ اب تک مختلف چینلز کو 32 بار ایڈوائس دی گئی ہے، 41 بار وارننگ دی گئی ہے، 65 بار شو کاز نوٹس دیے گئے ہیں اور دو کروڑ پینسٹھ لاکھ سے زیادہ جرمانے کیئے گئے ہیں۔

ویسے تو اس ورکشاپ میں بہت سی اور باتیں کام کی تھیں لیکن ایک ٹرینڈ بہت حیران کن تھا کہ چینلز کی خبر کے معاملے میں من مانیوں کی وجہ سے اب لوگوں کی ٹاک شوز دیکھنے میں کافی کمی آئی ہے۔ نیوز چینل پر لوگ اب بھی آتے ہیں مگر ہیڈ لائن دیکھ کر چلے جاتے ہیں۔ ٹاک شوز میں دلچسپی میں گرانقدر کمی ہوئی ہے۔ یہ لمحہء فکریہ ہے اینکرز کے لئے جو ہر شام کو انقلاب لا رہے ہوتے ہیں۔ اب انہیں علم ہونا چاہیے کہ ان کے انقلاب کے قافلے میں شامل لوگ اب بہت کم رہ گئے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 85 posts and counting.See all posts by ammar