1953 کے احمدی مخالف فسادات اور مجبوری میں شامل ہونے والے


\"\"

ڈاکٹر اسرار 1953 کے زمانے میں سید مودودی کے قریبی لوگوں میں شامل تھے اور اندرونی حالات سے خوب باخبر تھے۔ گزشتہ مضمون میں ان کے اینٹی احمدی تحریک پر خیالات کا ذکر آیا تھا۔ ڈاکٹر اسرار احمد اپنی کتاب ’مولانا مودودی اور میں‘ میں 1953 کے فسادات میں جماعت اسلامی کے کردار پر کچھ یوں لکھتے ہیں۔

53ء کی اینٹی قادیانی تحریک کا آغاز تو مجلس احرار کے ان زعما نے کیا تھا جو 47 میں قیام پاکستان کی صورت میں جو شکست فاش انہیں ہوئی تھی اس کے زیر اثر پورے چھ سال منقار زیر پر رہے تھے اور اب اچانک اینٹی قادیانی تحریک کا علم اٹھائے منظرعام پر ظاہر ہوئے تھے۔ لیکن بعد میں دوسرے مذہبی عناصر بھی کچھ دلی آمادگی کے ساتھ اور کچھ مجبوراً شامل ہوتے چلے گئے۔ دلی آمادگی کے ساتھ شامل ہونے والوں میں سر فہرست حلقہ دیوبند کے وہ علما کرام تھے جو مولانا حسین احمد مدنی کی زیر قیادت کانگرس کے ہمنوا رہے تھے، اور حالات کے دباؤ کے تحت شامل ہونے والوں میں نمایاں اولاً حلقہ دیوبند کے مسلم لیگی علما اور ثانیاً بریلوی مکتب فکر کے علما و زعما تھے۔

\"\"

جماعت اسلامی اور مولانا مودودی اس معاملے میں بالکل ’نے تابِ وصل دارم نے طاقتِ جدائی‘ والے مخمصے میں مبتلا ہو گئے تھے، اس لئے کہ جماعت کی تاسیس جن اصولی نظریات کی بنیاد پر ہوئی تھی ان کی رو سے اس کا اس تحریک میں حصہ لینا کسی طور سے صحیح نہ بنتا تھا۔ لیکن سیاسی اکھاڑے میں اتر جانے کے باعث عوامی دباؤ کو بالکل نظرانداز کر دینا بھی اس کے لئے ممکن نہ تھا۔

چنانچہ اس کا معاملہ مسلسل ’نیمے دروں نیمے بروں‘ کا رہا، یعنی یہ کہ ’بظاہر‘ تحریک میں شامل بھی ہیں لیکن ’بباطن‘ اس سے علیحدہ اور بری بھی۔ بہرحال اس وقت پیش نظر اس طویل اور تلخ داستان کی تفصیل بیان کرنا نہیں بلکہ اس واقعے کا اظہار ہے کہ اس زمانے میں میرا نہایت قریبی تعلق مولانا سے قائم رہا اور اس پورے معاملے کے دوران کی نشیب و فراز کا علم مجھے بہت قریب سے ہوتا تھا۔

مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ جس روز ’متحدہ مجلس عمل‘ نے ’راست اقدام‘ یعنی Direct Action کے آغاز کا اعلان کیا اور جماعت اسلامی کی طرف سے یہ بیان اخبارات میں شائع ہوا کہ ہم اس راست اقدام میں تو شریک نہیں ہیں ’البتہ ہم نے اپنے حصے کا کام اپنے ذمے لے لیا ہے‘، اس روز میں مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ بہت خوش اور ہشاش بشاش تھے اور میں نے پہلی مرتبہ ان کی زبان سے انگریزی کا ایک محاورہ سنا۔

\"\"مولانا نے فرمایا ’ہم اس پوری صورت حال سے with flying colours نکلے ہیں‘۔ ۔ ۔ لیکن افسوس کہ مولانا کی یہ خوش فہمی بہت عارضی ثابت ہوئی اور نہ صرف یہ کہ حکومت کے ’جوابی اقدام‘ کی لپیٹ میں دوسرے علما و زعما کے ساتھ ساتھ مولانا بھی آ گئے بلکہ وقت کے بعض ’فراعنہ‘ نے جو موقع کی تاک ہی میں تھے بھرپور وار کیا اور مولانا پر مارشل لا کے تحت فوجی عدالت میں مقدمہ قائم کر دیا۔

یہ زمانہ جمعت اور جماعت کے ہزاروں کارکنوں کی طرح مجھ پر بھی رنج و غم کی شدت اور حزن و ملال کے غلبے کا تھا۔ (1953 کو عہد حاضر کی اس اسلامی تحریک کا جو جماعت اسلامی کے تحت جاری تھی ’عام الحزن‘ قرار دیا جائے تو یہ بات غلط نہ ہو گی)۔ جب تک لاہور سنٹرل جیل میں مقدمے کی سماعت جاری رہی میں روزانہ وہاں جاتا رہا اور مقدمے کی کارروائی سننے کے ساتھ مولانا کی زیارت سے مشرف ہوتا رہا اور ان کے صبر و سکون سے خود اپنے جذبے اور ولولے کے لئے حرارت حاصل کرتا رہا۔

چوہدری نذیر احمد مرحوم کا ’دفاع‘ میرے اندازے میں اتنا جاندار نہ تھا جتنی توقع تھی۔ جبکہ سرکاری وکیل (غالباً اعوان صاحب) کا آخری جوابی حملہ بہت زوردار تھا اور میرا دل اسی وقت ڈوب سا گیا تھا۔ تاہم جب تک فیصلے کا اعلان نہ ہوا ایک امید سی قائم رہی۔ لیکن جب پھانسی کی سزا کا اعلان ہوا تو اعصاب پر بجلی سی گری اور ایک بار تو دنیا اندھیر ہو گئی۔ اس وقت جو کیفیت ہم سب کی تھی وہ ناقابل بیان ہے۔

تاہم مایوسی کے اس غلبے اور رنج و غم کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ہم سب کے لئے جو چیز نہایت ہمت افزا اور حد درجہ حوصلہ بخش تھی وہ یہ کہ مولانا نے پھانسی کا حکم بھی نہایت صبر و سکون کے ساتھ سنا اور بعد میں پھانسی کے سزا یافتہ قیدیوں کے مخصوص کپڑے پہننے سے لے کر کال کوٹھڑی میں داخل کیے جانے اور وہاں موت کے انتظار کے صبر آزما لمحات میں کسی بھی مرحلے پر ان کے پائے ثبات میں کوئی تزلزل پیدا نہیں ہوا۔


احمدی خلیفہ کا بلوچستان کو احمدی بنانے اور ہندوستان سے وفاداری کا اعلان

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 664 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar