ایک خود ساختہ جلاوطن کی واپسی


\"\"سندھ میں مشہور ہے کہ اگر کسی کا تبادلہ ایک تعلقہ (تحصیل) سے دوسرے تعلقہ میں ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو پردیسی کہنے اور سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن مجھے سندھ سے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کئے ہوئے کوئی پندرہ برس بیت چکے ہیں اور جلاوطنی بھی ایسے شہر میں اختیار کی ہے جس کو سندھ کے لوگ کئی حوالوں سے کوفہ سمجھتے ہیں۔ ایسی جلاوطنی کہ میں اپنے آپ کو سٹاک ہوم سنڈروم نامی بیماری کا شکار لگتا ہوں (یہ اس نفسیاتی بیماری کا نام ہے جس میں مغوی کو اپنے اغوا کاروں سے محبت ہو جاتی ہے)۔
ان پندرہ برس میں، وقتا ًفوقتا ًپیرول پر رہائی حاصل کرکے اپنے شہر حیدرآباد کے چکر لگتے رہے لیکن یہ چکر اکثر اوقات بے وقت کی راگنی کی طرح رہے یعنی ہماری خصوصی دلچسپی کی تقریبات یا تو ہمارے جانے سے پہلے یا پھر ہمارے واپس آنے کے بعد ہوتی رہیں۔ لیکن ہم بصد اوقات اسلام آباد کے کوفے میں اپنے حصے کی ثقافتی جان ڈالنے یا مختلف تقریبات میں شریک ہو کر اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ ادب، ثقافت و موسیقی کے شائقین کے ہمارے دوستوں کے گروہ (اس گروہ کے تمام ممبران اپنے آپ کو میراثی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں) کے سرغنہ مشہور صحافی ناز سہتو اور دیگر دوست حیدرآباد میں اور ہم اسلام آباد یا کسی اور شہر میں جب کسی محفل ادب، ثقافت و موسیقی میں شرکت کرتے تو ایک دوسرے کے داﺅ گنتے اور چڑھاتے رہتے۔ لیکن اس بار جب ہمارے دوست صحافی اور شاعر اظہار سومرو نے دوسرے حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کا پروگرام ترتیب دیا تو ہم نے بھی پیرول پر رہائی کا مکمل بندوبست کر لیا اور صرف اور صرف فیسٹیول میں شرکت کے لئے میراثیوں کے گروہ کے پاس پہنچ گئے اورچھ جنوری کو شروع ہونے والے اس تین روزہ لٹریچر فیسٹیول میں شرکت کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔
دنیا بھر میں ہر سال سینکڑوں لٹریچر فیسٹیول منعقد ہوتے ہیں اور یہ روایت بہت پرانی ہے۔ برصغیر میں کئی ادبی اور ثقافتی تحریکوں کی جانب سے عظیم الشان مشاعرے اور ادبی محافل کی تاریخ پرانی ہے۔ ان محفلوں کو پاکستان میں غیر سیاسی سرگرمیوں کے نام پر انتہائی سیاسی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر جب ایوب اور ضیا کے بدترین مارشل لا کے دوران ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد تھی تو سندھ میں عظیم شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی سے منسوب ’جشن لطیف‘ منانے کی روایت عام ہو گئی۔ یہ سیاسی پیغام رسانی اور جمہوریت کی بحالی کے لئے اس قدر کار آمد حکمت عملی ثابت ہوئی کہ آمریت کے جاہل کارندوں کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے خلاف ایف آئی آر کاٹنی پڑ گئی اور کچھ کارندے بھٹ شاہ میں عبدالطیف ولد حبیب اللہ شاہ کا پتہ معلوم کرتے نظر آئے۔
پوسٹ ماڈرن دور کی ضروریات کے تحت یہ ادبی محفلیں لٹریچر فیسٹیول میں تبدیل ہو گئیں اور ان کے منتظمین اور شائقین بھی پوسٹ ماڈرن ضروریات کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں پہلا لٹریچر فیسٹیول انڈیا کے جئے پور لٹریچر فیسٹیول کے چار سال بعد2010 ءمیں کراچی لٹریچر فیسٹیول کے نام سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے منعقد کیا گیا اور اس کے بعد اسلام آباد اور لاہور میں بھی لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد شروع ہو۱۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی لٹریچر فیسٹیول ہزاروں شائقین کی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور ان کی افادیت اور اہمیت سے کسی نے کبھی انکار نہیں کیا۔ تاہم یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ اب ان فیسٹیولز میں تعداد اور ٹارگیٹ آڈینس، موضوعات اور زبانوں کے تنوع کا رواج پڑ رہا ہے۔
حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حیدرآباد کو سندھ کے ادب و ثقافت کا مرکز جانا جاتا ہے اور یہاں آئے دن ادبی و ثقافتی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن لٹریچر فیسٹیول اپنی نوعیت کی ایک منفرد اور اعلیٰ تقریب ہے۔ اس فیسٹیول کا محور سندھی ادب، ثقافت، لوک ورثہ، آثار قدیمہ، موسیقی اور دیگر کئی موضوعات تھے۔ – اٹھتر سے زائد نشستوں میں دو سو سے زائد ادیبوں شاعروں، دانشوروں، محققین اور ہزاروں اہل ادب نے شرکت کی۔ جہاں دیگر بڑے لٹریچر فیسٹیولز میں ایک دن مشاعرہ اور ایک دن محفل موسیقی ہوتی ہے یہاں تینوں دن مشاعرے، محافل موسیقی اور دیگر کئی تفریحی سرگرمیاں جیسے تصویری نمائش بھی شامل تھیں۔ اس فیسٹیول میں اردو ادب اور شاعری کے حوالے سے بھی اہم نشستیں منعقد کی گئیں۔
موضوعات اور گفتگو کے حوالے سے ایک سے بڑھ کر ایک نشست منعقد کی گئی۔ مہمان خصوصی مشہور مصنفہ نور الہدیٰ شاہ کی بے لاگ گفتگو سے ادیب اور سماج کے درمیان تعلق پرجس بات کا آغاز ہوا اس کی بازگشت تینوں دن مختلف نشستوں میں سنائی دیتی رہی۔ حال ہی میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے یا قتل ہونے والی سندھ یونیورسٹی کی طالبہ نائلہ رند کے سانحے کی طرف سماج کے رویے کا نوحہ کہتے ہوئے نورالہدیٰ شاہ نے ایوان پہ سکتہ طاری کر دیا اور فرد کی آزادی کا وہ پیغام دیا جس کا ہمارے نام نہاد لبرل دوست تصور بھی نہیں کرپاتے۔ کارو کاری کی لعنتی رسم پر نفیسہ شاہ کی کتاب ہو یا سندھ کی تاریخ دوبارہ لکھنے کی بات، فیض احمد فیض کی شاعری ہو یا نثری نظم کا ارتقا، سندھی فکشن کے انتہائی معتبر نام طارق عالم کے دوستوں کی یادیں ہوں یا سندھ کی آثار قدیمہ کو محفوظ کرنے کی باتیں، سندھ میں میڈیا کے کردار یا تعلیم کی صورتحال پر گفتگو ہو، شاہ عبدالطیف بھٹائی پر تازہ ترین تحقیق ہو یا ان کی شاعری ،گانے کے مختلف انداز، ناولوں، شاعری، لسانیات اور دیگر کئی موضوعات پر کتابوں کی رونمائی ہو؛ ہر نشست میں گفتگو کے معیار، مقررین کے انتخاب اور سامعین کی دلچسپی اور سوالوں کی بے باکی کا کوئی جواب نہیں تھا۔ ایک خوش آئند بات یہ بھی نظر آئی کہ کتابوں کے سٹالز پر بڑی تعداد میں نئے سندھی ناول نظر آئے ورنہ سندھی ادب میں زیادہ تر شاعری حاوی نظر آتی ہے۔ ان ناولوں کے معیار پر تو نقاد ہی بہتر بات کر سکتے ہیں لیکن خود بڑی تعداد میں ناولوں کا شائع ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سندھی ادب اپنے قارئین کے لئے دور جدید کے تمام تقاضے پورے کرتا نظر آ رہا ہے۔ یہ ہر لحاظ سے روایتی ادبی تقاریب سے منفرد موقع تھا۔
ایک خوش آئند بات یہ بھی ہے کئی نامور اردو ادیب اور شاعر فیسٹیول میں شامل تھے۔ اس تعداد کو اگلے برسوں میں مزید بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ 80 ءکی دہائی سے سندھی اور اردو بولنے والی آبادیوں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو پیغام سخن کے ذریعے کم کیا جا سکے۔ کراچی اور اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول کے بانی آصف فرخی کی شرکت اس بات کا عندیہ تھی کہ ان تقاریب میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ بازی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا ماحول موجود ہے۔ ویسے بھی اگر مختلف فیسٹیولز منعقد کرانے والے اس کے مقاصد کے بارے میں مؤثر منصوبہ بندی کریں تو یہ صحیح معنوں میں ادب و ثقافت کی خدمت ہوگی، جو اس فیسٹیول میں نظر آئی۔ آصف فرخی نے میرے ساتھ مختصر گفتگو کے دوران اسلام آباد میں مادری زبانوں کے لٹریچر فیسٹیول میں بھی نہ صرف شرکت کرنے بلکہ منتظمین کی رہنمائی کرنے کی حامی بھرلی۔
سندھ میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران اس کے صوفی اور امن پسند تشخص کے حوالے سے سوال اٹھائے جا رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ یہ محض ایک خوش فہمی ہے کہ سندھ کو انتہاپسندی سے کوئی خطرہ نہیں لیکن اس لٹریچر فیسٹیول میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی شرکت، خاص طور پر نوجوانوں، خواتین اور طلبا کی شمولیت سے لگا کہ یہ نری خوش فہمی نہیں ہے۔ سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ کرپشن، اقربا پروری اور بدترین حکمرانی کا چلن چلنے والی حکومت سندھ کے پاس ثقافت و سیاحت کا ایسا وزیر موجود ہے جو نہ صرف خود اہل قلم کی صفوں کا نکلا ہے بلکہ اس کے پاس ادب، ثقافت و سیاحت کے فروغ کے لئے ضمیر کی آواز کو لبیک کہنے کی جرات بھی ہے۔ فیسٹول میں سید سردار علی شاہ بذات خود اپنے ڈپارٹمنٹ کے تمام وسائل سمیت موجود رہے۔ یہ سندھ حکومت کے واحد وزیر ہیں جنہیں یہ ادراک ہے کہ وزارت کے بعد انہیں جن صفوں میں لوٹنا ہے، اور جہاں جوانی کے بیس سال گزارے ان صفوں کے حق ادائیگی کا تقاضا کیا ہے؟ سردار علی شاہ کی وزارت رہے یا نہ رہے وہ سندھ کی ثقافت، ادب اور آرکیالوجی کے ایک بہترین ایکسپرٹ بن کے ضرور واپس آئیں گے۔

اسی بارے میں: ۔  بڑے شہر والے مہمان نواز نہیں ہوتے

نیاز ندیم کسب حلال کے لئے ایک بین الاقوامی ترقیاتی ادارے میں نوکری کرتے ہیں۔ نوکری کے معاملات سے فارغ ہونے کے بعد اپنے آپ کو ثقافتی رضاکاری کے کاموں میں مصروف رکھتے ہیں۔ سندھی میں شاعری کرتے ہیں اور پاکستان کے پہلے مادری زبانوں کے لٹریچر فیسٹیول کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “ایک خود ساختہ جلاوطن کی واپسی

  • 13-01-2017 at 5:14 pm
    Permalink

    These types of program should continue

Comments are closed.