جماعت احمدیہ پاکستان کی ماتحت اور وفادار ہے: مرزا بشیر الدین محمود


\"\"

انہی صفحات پہ جناب عدنان کاکڑ صاحب کا مضمون ’’ احمدی خلیفہ کا بلوچستان کو احمدی بنانے اور ہندوستان سے وفاداری کا اعلان‘‘ شائع ہوا۔ اس کے جواب آں غزل کے طور پر مدثر ظفر صاحب کا مضمون ’’ پاکستان کی مستحکم بنیادوں میں احمدیوں کا خون شامل ہے‘‘ شائع ہوچکا ہے جس میں کاکڑ صاحب کے اٹھائے سوالات کا جواب مفصل طور پر دے دیا گیا ہے۔ احراریوں کی پاکستان اور قائداعظم سے نفرت اب تاریخ کا حصہ ہے اور جماعت احمدیہ کا قیام اور استحکام پاکستان میں مثالی خدمات انجام بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

عدنان کاکڑ صاحب کے مضمون کا عنوان ’’ہم سب‘‘ کا نہیں بلکہ اشتہار حاصل کرنے والے کسی سستی سی سائیٹ کا انداز معلوم ہوا جو قارئین کو متوجہ کرنے کے لئے ایسا انداز اختیار کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے صفحات ایسے عناوین سے بھرے پڑے ہیں۔ عنوان سے قطعہ نظر کاکڑ صاحب نے جو سوال اٹھایا ہے اس پر کچھ بات کرلیتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

’’ مارچ 1949 کے اوائل میں فرقہ احمدیہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا کہ ’جونہی حالات درست ہو گئے ہم اپنا مرکز فوراً قادیان میں منتقل کر دیں گے اور حکومت ہند کے وفادار شہری بن کر رہیں گے۔ لاہور ہمارا عارضی مرکز ہے۔ ربوہ میں پاکستان کی احمدی تحریک کا مرکز رہے گا لیکن ہم قادیان کے سوا کسی اور جگہ کو دنیا میں احمدی تحریک کے مرکز کی حیثیت دینے کا خیال تک نہیں کر سکتے‘‘۔

دیانت داری کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس بیان کا سیا ق وسباق بھی پیش کردیا جاتا لیکن صرف من پسند بات کرنے پر ہی اکتفا کرلیا گیا۔ جس کتاب میں سے یہ حوالہ لیا گیا اسی کتاب میں دو صفحات چھوڑ کر اسی الزام کا جواب بھی نہایت وضاحت وصراحت کے ساتھ درج ہے۔

جماعت احمدیہ کے خلیفہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ بات درست ہے کہ آپ ہندوستان کے وفادار شہری کی حیثیت سے رہنے کے متمنی ہیں؟ جماعت احمدیہ کے خلیفہ کا جواب تھا:

’’دراصل بات یہ ہے کہ ایک خبررساں ایجنسی کے مالک نے مجھ سے پوچھا کہ کیا احمدی قادیان جانے کا خیال رکھتے ہیں یا ربوہ ان کا مستقل مرکز ہوگا۔ میں نے ان سے جواباً کہا کہ ’’قادیان ایک مذہبی مرکز ہے اور اس سے ہر ملک کے احمدی مذہبی عقیدت رکھتے ہیں اس لئے اس کے مرکز ہونے کی حیثیت کو میں یا کوئی اور تبدیل نہیں کرسکتا۔ جب بھی وہاں حالات سازگار ہوں گے وہ احمدی جو وہاں عقیدت یا کام کی وجہ سے جاسکتے ہوں جائیں گے۔ اس کے علاوہ انتظامی طور پر میں نے ہندوستان یونین کے سوا دوسرے تمام احمدیوں کو پاکستان کے ماتحت کردیا ہے تاکہ کوئی سیاسی پیچیدگی پاکستان کے خلاف پیدا نہ ہو اور اسی وقت دوسرے ممالک کے احمدیوں کو قادیان کے ماتحت کیا جائے گا جب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جو الجھن ہے وہ دور ہوجائے۔ یقیناً یہ بات پاکستان کے حق میں تھی اور ہے۔ اگر پاکستان سے ہمیں وفاداری نہ ہوتی تو پاکستان کے باہر احمدیوں کو ہم پاکستان کے مرکز کے ماتحت کیوں کرتے، ‘‘

اس بیان سے پاکستان سے غیر مشروط وفاداری کے علاوہ کچھ اور ثابت کرنا کسی احراری کا کام تو ہو سکتا ہے جس طرح انہوں نے کیا لیکن ایک غیر جانبدار قاری یا لکھاری کو اس میں صرف پاکستان سے محبت ہی نظر آئے گی۔ نہ صرف قولی بلکہ جماعت احمدیہ اور اس کے خلفاء نے عملاً استحکام پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر یہ بات ثابت کردی کہ اب ہمارا جینا مرنا اسی ملک کے ساتھ ہے اور ہم اسی کے وفادار ہیں۔ ہاں قادیان ہمارا روحانی مرکز ہے اور پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سےہی احمدی وہاں آتے جاتے رہتے ہیں۔

جہاں تک بلوچستان کو احمدی بنانے کی بات تھی اس کا جواب بھی مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب نے خود دیا ہوا ہے۔ منیر ان کوائری کمیشن میں آپ سے سوال کیا گیا کہ

’’اور آپ نے جب یہ کہا تھا کہ بلوچستان کو احمدی بنایا جائے تاکہ ہم کم از کم ایک صوبہ کو تو اپنا کہہ سکیں۔ تو اس سے آپ کا کیا مطلب تھا؟

جواب:’’میرے ایسا کہنے کے دو سبب تھے(1)موجودہ نواب قلات کے دادا احمدی تھے اور (2)بلوچستان ایک چھوٹا سا صوبہ ہے۔ ‘‘

اس بیان سے معاملہ باالکل واضح ہوجاتا ہے کہ دونوں بیانات میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جس پر اعتراض ہوسکے۔ صرف انہیں سیاق وسباق سے الگ کرکے شائع کیا گیا جس کی وجہ سے تاریخ نہ جاننے والے احمدی مخالفین کو احمدیوں پر الزامات لگانے کا مزید موقع مل گیا کہ ہم نہ کہتے تھے یہ پاکستان کے دشمن اور یہودہنود کے ایجنٹ ہیں۔ صرف بلوچستان ہی نہیں جماعت احمدیہ تو پوری دنیا کو احمدی کرنے کے لئے تبلیغ میں مصروف ہے اور پاکستان کا قانون ہر شہری کو اپنے عقیدہ اور مذہب پر عمل پیرا ہونے کی اجازت دیتا ہے تو ایسی تحریر کو عنوان بنا کر مضمون لکھنے کا مقصد سمجھ سے باہر ہے۔

اگر جماعت احمدیہ نے پاکستان سے واپس ہندوستان ہی جانا تھا تو تحریک پاکستان میں قائداعظم کے شانہ بشانہ کیوں کھڑی ہوتی؟ جماعت احمدیہ نے تقسیم سے قبل ہی اپنا فیصلہ سنا دیا تھا کہ
”قادیان اسلامی دنیا کا ایک فعال بین الاقوامی یونٹ بن چکا ہے۔ اس لیے اس یونٹ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ہندوستان میں شامل ہو نا چاہتا ہے یا پاکستان میں، اور ہم نے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے“۔

قیام پاکستان میں اپنی جان مال اور وقت کے نذارنے پیش کرنے والی محب وطن جماعت کو پاکستان پہنچنے پر اس وقت کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود احمدصاحب نے مخاطب ہو تے ہو ئے فرمایا تھا۔

”پاکستان کا مسلمانو ں کو مل جانا اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اب مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سانس لینے کا موقع میسر آ گیا ہے اور وہ آزادی کے ساتھ ترقی کی دوڑ میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ا ب ان کے سامنے ترقی کے اتنے غیر محدود ذرائع ہیں کہ وہ اگر ان کو اختیارکریں تو دنیا کی کوئی قوم ان کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتی اور پاکستان کا مستقبل نہایت شاندار ہو سکتاہے“۔
اس طرح کے واضح اعلانات اورعمل کے باوجود بھی اگر کوئی جماعت احمدیہ کے خلاف ’’ہندوستان سے وفاداری‘‘ کے عنوان سے مضمون لکھے تو پھر یہی کہا جاسکتا ہے کہ

ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہئے۔

احمدی خلیفہ کا بلوچستان کو احمدی بنانے اور ہندوستان سے وفاداری کا اعلان


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

راشد احمد

راشداحمد بیک وقت طالب علم بھی ہیں اور استاد بھی۔ تعلق صحرا کی دھرتی تھرپارکر سے ہے۔ اچھے لکھاریوں پر پہلے رشک کرتے ہیں پھر باقاعدہ ان سے حسد کرتے ہیں۔یہ سوچ کرحیران ہوتے رہتے ہیں کہ آخر لوگ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں۔

rashid-ahmad has 21 posts and counting.See all posts by rashid-ahmad

2 thoughts on “جماعت احمدیہ پاکستان کی ماتحت اور وفادار ہے: مرزا بشیر الدین محمود

  • 12-01-2017 at 8:14 pm
    Permalink

    بہت عمدہ لکھا ماشاءاللہ
    مدلل اور متاثرکن

  • 13-01-2017 at 10:22 am
    Permalink

    سر محمد ظفراللہ خان، جنہیں قائد اعظم رح نے ملک کا اولین وزیر خارجہ مقرر کیا تھا، انھوں نے یو این او میں کشمیر کا مسئلہ اتنی عمدگی سے پیش کیا کہ خود ھندوستانی اخبار ملاپ بھی یہ پکار اٹھا:
    ” کشمیر کے مسئلہ کو یو این او میں لے کر جانا، ھمالیہ جتنی بڑی غلطی تھی – ھم گئے تھے وہاں مستغیث بن کر ـ اور لوٹے مجرم بن کر – ”
    صرف یہی نہیں ـ پاک فوج کے ایک شیر دل جرنیل اختر حسین ملک،کو اگر زبردستی کشمیر کی کمان سے ھٹا نہ دیا جاتا تو آج کشمیر لازمی پاکستان کا حصہ ھوتا – اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ھے –
    65ء کی جنگ میں ھی جنرل اختر ملک کے چھوٹے بھائی جنرل عبدالعلی ملک نے چونڈہ کے محاذ پر اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کیساتھ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ اس انداز سے لڑی کہ:
    چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا کر رکھ دیا- اور یوں ساری دنیا کے عسکری ماھرین کو حیران و ششدر کر دیا !
    الغرض احمدیوں کی اپنے وطن عزیز پاکستان کیساتھ لازوال محبت و شیفتگی بے مثال ھے –
    یہ

Comments are closed.