بجواب: احمدی خلیفہ کا بلوچستان کو احمدی بنانے اور ہندوستان سے وفاداری کا اعلان


\"\"محترم عدنان خان کاکڑ صاحب کی تحریر کا عنوان اگر کچھ اور رکھ لیا جاتا تو بہتر تھا،اس عنوان سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ شاید احمدی پاکستان میں رہ کر بھارت سے وفاداری کا کوئی عہد کررہے ہیں،جو کہ حقائق کے برخلاف ہے۔محترم مصنف نے دو حوالے پیش کئے ہیں ،لیکن ان سے جو نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کی ہے وہ درست نہیں،جماعت احمدیہ کے بارے تھوڑا سا علم رکھنے والا شخص بھی اصل حقیقت سے واقف ہے۔
پہلا اعتراض یہ کہ بلوچستان کو احمدی بنانے کا اعلان کیا، اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ جماعت احمدیہ کے مشن میں یہ بات شامل ہے کہ تبلیغ کے ذریعے اس کا پیغام بلوچستان تو کیا پوری دنیا میں پہنچایا جائے۔ کیا بلوچستان کو احمدی کرنے کا مطلب اس کو پاکستان سے الگ کرنا کہا گیا؟ کیا پاکستان سے بغاوت کی کوئی بات کی گئی؟ پاکستان کا قانون اس وقت جماعت کو تبلیغ کی اجازت دیتا تھا۔
دوسرے حوالے سے احمدیوں کی ہندوستان سے وفاداری کا معاملہ اٹھایا گیا۔ یہ واضح معاملہ ہے جو جس ملک کا رہائشی ہوگا اس ملک کا وفادار ہوگا۔ قادیان کا معاملہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا یہ مذہبی عقیدہ ہے کہ آخرکار جماعت کا مرکز قادیان میں ہی قائم ہوگا،اور یہ بات ظاہر ہے کہ جماعت کے سربراہ مرکز میں ہی رہیں گے۔ اگر مرکز قادیان میں قائم ہوتا ہے تو جماعت کے خلیفہ کے قادیان میں رہائش پذیر ہونے کی صورت میں وہ بھارت کے وفادار ہوں گے۔ اس میں کچھ غلط نہیں،جس طرح بھارت کے مسلمان اس کے وفادار ہیں،یہ عقیدہ عین اسلامی ہے۔ اس بات کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ پاکستان کے احمدی ہندوستان کے وفادار ہوجائیں گے یا تمام احمدی ہندوستان واپس چلے جائیں گے۔جماعت کے دوسرے خلیفہ ساری زندگی پاکستان میں ہی رہے،اسی کی وفاداری کا دم بھرتے رہے،کیا ہم ان کی قائم کردہ فرقان فورس کو بھی بھول گئے کہ جس نے جہاد کشمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
احمدی جس ملک میں رہتا ہے، اس کا وفادار ہے،یہ بات اس کو بچپن سے سکھائی جاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے۔ جنرل اختر حسین ملک ہوں ، سر ظفراللہ یا ڈاکٹر عبدالسلام ،پاکستان میں رہنے والا ہر ایک احمدی ہمیشہ پاکستان سے ہی وفاداری کا دم بھرتا رہا ہے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

7 thoughts on “بجواب: احمدی خلیفہ کا بلوچستان کو احمدی بنانے اور ہندوستان سے وفاداری کا اعلان

  • 13-01-2017 at 11:22 pm
    Permalink

    Note the hypocrisy of the fake liberals like Adnan Kakar and Wajahat Masood who have no problem calling Ahmadi Muslims as traitors and thus inciting hatred against Ahmadis just like extremists mullahs. How are these fake liberals any less dangerous then mullahs?

  • 13-01-2017 at 11:23 pm
    Permalink

    ابھی عدنان کاکڑ نے ہم سب پہ پہلے سے ہی تشدد کے شکار احمدی مسلمانوں کو انڈیا کا ایجنٹ قرار دے کر نفرت پھیلائی ہے- یہ کس طرح سے جائز ہے؟ اگر اوریا کرے تو برا اگر عدنان کاکڑ لبرل ازم کے نام پہ کرے تو اچھا اور وجاہت اور دیگر لبرل ہونے کا دعوا کرنے والوں کے لئے قابل قبول؟ یہ کیا منطق ہے جعلی لبرلو؟ منافقت اور بدمعاشی، اور کس کو کہتے ہیں؟

    ہم سب کے صفحات اور مدیر خود تو نفرت پھیلا رہے ہیں اور دوسروں کو برا کہ رہے ہیں- تم جعلی لبرل دوسروں کی جان کو خطرے میں ڈالو تو ٹھیک تمہاری جان کو خطرہ ہو تو رونے لگ پڑتے ہو-

  • 13-01-2017 at 11:24 pm
    Permalink

    وجاہت کی لبرل منافقت دیکھو- عدنان کاکڑ نے جو نفرت پھیلائی ہے اس ہاتھی کو چھوڑے کے ایک دم پکڑ کر بیٹھ گۓ ہیں-

    یہ جعلی لبرل بھی ملاؤں ہی کی طرح نفرت اور منافقت کے سوداگر ہیں فرق یہ ہے کہ اس سے زیادہ بس نہیں چلتا-

  • 14-01-2017 at 3:41 am
    Permalink

    Osman saab mughay bhi acha nhi laga par aap zyada naraaz ho rahe hen hum ne jawab de kr clear kr diya hai so bus kren atleast ye baqion se behter hen

  • 14-01-2017 at 7:00 am
    Permalink

    آپ سب کے کامنٹس پڑھ کر بہت افسوس ہوا۔ یہ تو بہت غلط بات ہے کہ جب یہ لوگ آپ کے حق کی بات کریں تو آپ ان کی تعریف کریں اور اگر ذرا سا سوال اٹھا دیا تو انکو برا بھلا کہنا شروع کردیں۔ مجھے نہیں معلوم آپ کون لوگ ہیں مگر آپ کی سوچ غلط ہے۔ ہم سب نے ایک مضمون کے جواب میں تین مضامین شائع کئے ہیں ، اس سے بڑھ کر انصاف کیا ہوسکتا ہے۔

  • 16-01-2017 at 7:36 pm
    Permalink

    معاملہ ربلرز اور اسلام پسندوں کا نہیں ۔ ۔ ۔الحمد اللہ یہ دونوں مسلمان ہیں۔ ۔ ۔ طریقہ کار میں اختلاف رکھتے ہیں۔ قادیانی حضرات تو پاکستان کے قوانین کے نطابق غیر مسلم ہیں۔ ۔ ۔ کاکڑ سے ہمیں اختلاف ہے مگر اس نے تاریخی طور پر ثابت بات لکی ہے۔ ۔ ۔ آپ ٹھگوں کی باتوں میں نہ آئیں۔یہ حضرات ٹھگی کر کے آپنے آپ کو عوام مسلمانوں میں اپنے آپ کو فرقہ کہہ کر مسلمان ثابت کرتے ہیں اور آپنے علاوہ سب مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ ۔ ۔ مرزا صاحب کا یہ بیان کہ جو ان کو نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ ۔ ۔ مرز صاحب نے ان کو نبی ہ نہ ماننے والوں کو گالیاں تک دیں ہیں۔ ۔ ۔ جس سر ظفراللہ خان کہ یہ بات کرتے ہیں اس نے قائد اعظم(ر) کی نماز جنازہ یہ پڑھ کے نہیں پڑھی تھی کہ وہ مسلمان ہیں۔ ۔ ۔ ان ملالہ ٹائپ، عبدلسلام سائسدان کو نوبل انعام ملا کہ وہ اسلام کا دشمن تھا۔ ۔ ۔ امریکا کو پاکستان کے ایٹم بم کا ماڈل پہنچایا تھا۔قادیانیوں کے لکھنے لکھانے پر پاکستان کے قانون کے مطابق پابندی ہے۔ ۔ ۔ کہیں آپ کی ویب قانون کے دائرے کے اندر نہ آ جائے۔ہوشیار باش۔
    میر افسر امان

  • 16-01-2017 at 10:45 pm
    Permalink

    اپ کے پروفیسر غفور اور میاں طفیل محمد کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ مولانا مودودی نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تھا اور نہ ہی جنازہ پڑھنا ضروری تھا۔ یہ لوگ کس منہ سے سر ظفر اللہ خان پر اعتراض کرتے ہیں-

Comments are closed.