\”لیکن\” سے پہلے آپ نے جو کہا، بے معنی ہے


\"\"اُدھر سے آواز آئی، ظلم ہو گیا۔ اِدھر سے نعرہ لگا \’وہ مارا\’، اب آیا \’بھینسا\’ پہاڑ تھلّے۔ بحث شروع ہوئی۔ ایک طرف سے مذہب کو خطرے سے نکالا جا رہا تھا، دوسری طرف انسانی حقوق کے نالے تھے۔ کسی نے کہا جب نفرت پھیلاؤ گے تو \’اٹھائے ہی جاؤ گے نا\’، جواب ملا پھر نفرت پھیلانے والوں کو \’مین سٹریم\’ میں لانے کے لیے محنتیں کیوں کی جا رہی ہیں۔ کسی نے کہا اٹھائے جانے والوں نے گستاخی کی تھی، تو جواب ملا آپ کو کیسے علم ہوا کہ جو اٹھائے گئے ہیں، انہوں نے ہی گستاخی کی تھی۔ جواب در جواب آیا پیج کیسے بند ہو گیا اگر اٹھایا نہیں گیا تو، اور آپ کو کیسے علم کہ اٹھانے والے وہی ہیں جن کا نام آپ لے رہے ہیں۔ جواب ملا کہ اگر اٹھانے والے وہ نہیں ہیں جن کا ہم نام لے رہے ہیں تو پھر آپ کیا پانچ دن سے دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے کسی کو اغوا کرنے کا دفاع کرتے رہے تھے۔ غرضیکہ جتنے منہ اتنی باتیں۔

مگر سب سے مزاحیہ گروہ اس طرح کے معاملات میں وہ ہوتا ہے جو کسی طرف نہیں ہوتا۔ ان کا زور \’اعتدال\’ اور \’introspection\’ پر ہوتا ہے۔ یہ سمجھا رہے ہوتے ہیں کہ دیکھو بھئی کسی کو اٹھانا نہیں چاہیے مگر جب ایسی باتیں کرو گے تو \’اٹھائے ہی جاؤ گے نا\’۔ یہ آپ کو اپنی فیس بک اور بلاگز پر تحاریر کے ذریعے سمجھانے کے انداز میں خبردار کر رہے ہوتے ہیں کہ اپنے جذبات اور احساسات کو باندھ کر رکھو، ورنہ \’اٹھائے ہی جاؤ گے نا\’۔ ان کی تحاریر میں آزادئ اظہار \’مگر اعتدال کے ساتھ\’ کی تبلیغ ہوتی ہے۔ ان کے خیال میں آزادئ اظہار انسان کا بنیادی حق ہے جو آزادی تو ہے لیکن \’اتنی بھی آزادی نہیں\’۔ نصیحت ان کے ہر لفظ میں چھلک رہی ہوتی ہے، کیونکہ ان کے خیال میں یہ حکیم ہوتے ہیں، اور باقی سب \’ایک طرف یا دوسری طرف\’ گمراہ۔

یہی مخلوق ہے جس کی وجہ سے میں آج یہ تحریر لکھ رہا ہوں وگرنہ حقیقت یہی ہے کہ لکھتے ہوئے ڈر رہا ہوں، \’ایک طرف سے یا دوسری طرف سے\’۔ دل کہہ رہا ہے کہ علی صاحب یہ تحریر کہیں چھپے گی نہیں، اور یہ بھی کہ چھپ گئی تو \’اٹھائے ہی جاؤ گے نا\’۔ مگر لکھنے سے باز تو نہیں رہا جائے گا۔ میری التجا ہے کہ اگر آپ اتفاق نہ کرتے ہوں تو اٹھائیے گا نہ، میں فون کال پر ہی \’یرک\’ جاؤں گا۔

گزارش یہ ہے کہ اعتدال نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پیار ہوتا ہے تو ہوتا ہے، یا ہوتا ہی نہیں۔ یا تو آپ کہہ دیجیے کہ آزادی نہیں ہے۔ تاکہ از سرِ نو اس بحث کو شروع کیا جائے۔ لیکن آپ کا کہنا ہے کہ آزادی میں مینگنیاں ہیں اور اس آزادی کو ایسے ہی ہضم کرو، تو یہ ذرا نامناسب بات ہے۔ انسان اپنے خیال میں آزاد ہے۔ جسم پر قید اور گفتار پہ تعزیریں تو لگائی جا سکتی ہیں، مگر سوچ پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ اگر انسان کی ایک سوچ ہے، تو وہ ہے۔ اس کے اظہار سے روکنا، روکنا ہی ہوتا ہے، آزادی نہیں۔

اور یہ جو دل آزاری والی رٹ ہے، یہ بھی سمجھ سے باہر ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ آپ اپنے ہیرو اتاترک کے ترکی میں رہتے ہوتے، اور آپ کی نماز کو، روزے کو، اذان کو، تلاوتِ قرآن کو، داڑھی کو، شلوار کو، غرض آپ کی سوچ اور اس کے اظہار کے تمام طریقوں کو \’عوام الناس کی دل آزاری\’ کے نام پر پابندیوں کا شکار کر دیا گیا ہوتا تو کیا آپ بطور ایک اچھے، سچے مسلمان کے ان پابندیوں کو قبول کر لیتے؟ ذرا تصور کریں کہ آپ ایک ایسے خطے میں موجود ہوں جہاں ملحدین اکثریت میں ہوں اور کلمہ طیبہ کو دل آزاری قرار دے کر آپ کو اپنے عقیدے کے اظہار سے روک دیا جائے تو کیا تب بھی آپ اس دلیل کا سہارا لینے کا دفاع کریں گے؟

عثمان قاضی صاحب سے چند مثالیں ادھار لیتے ہوئے، اگر سوچ کا اظہار کرنا دل آزاری تو کیا کوڑے کھا کر \’احد\’ کہنے والے سیدنا بلالؓ بھی دل آزاری کر رہے تھے؟ بت شکنی پر کیا نمرود کا ابراہیمؑ کو آگ میں پھنکوانے کا فیصلہ بھی درست تھا؟ کیا قریش مکہ کی یہ مبنی بر اعتدال دعوت آپؐ کو قبول کر لینی چاہیے تھی کہ اللہ کو سب سے بڑا خدا مان کر باقی چھوٹے خداؤں کو بھی تسلیم کر لیں؟ کیا امام حسینؓ کو یزید کی بیعت کر کے وظیفے پر اپنی بقایا زندگی گزار دینی چاہیے تھی؟

آپ لوگوں سے گذارش ہے کہ کھل کے سامنے آئیں۔ اعتدال پر آپ نہیں ہیں۔ آزادئ اظہار میں آپ کا ایمان نہیں۔ آپ کا ایمان اپنے ایمان کی حفاظت میں ہے اور اس کے لیے آپ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں؛ منافقت کی حد تک بھی۔ آپ کی \’اٹھانا نہیں چاہیے لیکن۔۔۔\’ کا جواب جارج مارٹن George RR Martin کے الفاظ میں محض اتنا ہے کہ \”جو کچھ بھی انسان ایک جملے میں لفظ \’لیکن\’ سے پہلے کہتا ہے، بے معنی ہوتا ہے\”۔  تو بھائی ہمیں پتہ ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ لفظ \’لیکن\’ سے پہلے والے الفاظ ہم اپنے دماغ میں حذف کر دیتے ہیں، اور شعوری یا لاشعوری طور پر آپ بھی یہی چاہتے ہیں کہ آپ کے پڑھنے والے ان الفاظ کو حذف سمجھیں۔ تو ایک شعر پر شکوے کا اختتام ہے کہ،

عجب تری سیاست، عجب ترا نظام
یزید سے بھی مراسم، حسین کو بھی سلام


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “\”لیکن\” سے پہلے آپ نے جو کہا، بے معنی ہے

  • 12-01-2017 at 9:47 pm
    Permalink

    لیکن کے بعد حدیں لگانے والے یہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں احمدیوں کے بانی اور ان کے مذہب کی توہین سرعام ہوتی ہے اور جو کرتا ہے اسے ملک کا ہیرو سمجھا جاتا ہے، اور لیکن کے بعد والی حد اس وقت کہاں ہوتی ہے، کیا کوئی اس بات کا جواب دے سکتا ہے کہ حد لگانے میں منافقت کیوں، دو پیمانے کیوں؟

Comments are closed.