ٹرمپ کے دیس میں


\"\"تین ہفتے قبل لاہور سے نکلے تو براہ راستہ ابو ظہبی، نیو یارک شریف میں قدم رنجہ فرمایا۔ ابو ظہبی میں امیگریشن حکام نے حسب معمول اضافی سوالات کئے لیکن مطمئن ہونے پر داخلے کی اجازت دی۔ نیو یارک پہنچے میں 14 گھنٹے لگ گئے۔ ہوائی اڈے پر سامان کے انتظار میں ایک گھنٹہ صرف ہوا۔ ہوائی اڈے سے باہر نکلتے ہی ہوا کے ایک سرد تھپیڑے نے احساس دلایا کہ چھجو کا گرم چوبارہ کہیں دور چھوڑ آئے۔ نیو یارک کے جس علاقے میں قیام کا موقع ملا، ’وہ تو بالکل ہم جیسے نکلے‘۔ یقین کیجئے کہ اتنی پنجابی ہم نے لاہور کے کئی علاقوں میں نہیں سنی جتنی Coney Island Avenue پر سننے کو ملی۔ دل ہی دل میں سوچا کہ 14 ہزار کلومیٹر کا سفر (اور اس سفر کو انگریزی والا Suffer بھی کہا جا سکتا ہے) کرنے کی کیا ضرورت تھی، یہ سب لوازمات مملکت خداداد میں بھی تو دستیاب ہیں۔ لیکن جب Staten Island Ferry پر سفر کے دوران قندیل ہاتھ میں لئے ایک دلکش اور فروقد فرانسیسی خاتون سے ملاقات ہوئی تو کچھ دل کو تسلی پہنچی۔ ہم پہلے بھی نیو یارک میں کچھ دن قیام کر چکے تھے لیکن اس قیام کے دوران سمندری طوفان Sandy نے قیامت ڈھا رکھی تھی اور ہم نیو یارک کے ایک مخصوص علاقے میں محصور تھے۔ اس دفعہ کوشش تھی کہ اس شہر کے کچھ چیدہ مقامات کی سیر کی جائے۔ اس دوران مدتوں سے بچھڑے کچھ یار بھی مل جائیں تو مزہ دو بالا ہو جائے۔ اعلیٰ حضرت رضا احمد عرف رضا رومی کچھ سال سے جلا وطنی کا شکار ہیں اور نیو یارک کے گردو نواح میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ ’ہم سب‘ کے باقاعدہ قاری سلمان یونس کئی برس سے نیو یارک کے مقیم ہیں۔ ان دو اصحاب کے علاوہ میڈیکل کالج کے کئی سینئر وطن ترک کر کے یہاں کام کر رہے ہیں۔ ان تمام اصحاب سے ملاقات کے علاوہ نیو یارک کی مشہور زیر زمین ریل گاڑی(Subway) کی سیر کی۔ رضا کے ہمراہ Metropolitan Museum میں قدیم مصر اور سلطنت روم کے نوادر دیکھے۔ اس کے علاوہ، بقول رضا، ہم نے ’شہر کی روشنیاں‘ دیکھیں (یعنی Rockefeller Centre کے گرد کرسمس سے قبل رنگ برنگ لائٹیں نصب کی جاتی ہیں، ان کا نظارہ کیا)۔ سلمان \"\"بھائی کی وساطت سے Jackson Heights نامی علاقہ دیکھنے کو ملا جو بروکلن اور مین ہیٹن سے کافی مختلف تھا۔ میڈیکل کالج کے ایک ہم جماعت کے ساتھ مین ہیٹن میں گھوم رہے تھے تو ایک کافی شاپ کا رخ کیا۔ میں کافی پینا چاہتا تھا لیکن دوست کا ارادہ نہیں تھا، پنجابی میں اسے کہا کہ یار تم بھی پی لو، اس نے انکار کیا تو کاؤنٹر پر کھڑے صاحب نے پنجابی میں کہا: پی لو یار، پیسے مجھ سے لے لینا۔ یہ سننے پر ہم لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ وہ صاحب لاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور کئی سال سے نیو یارک کے باسی ہیں۔

 Subway میں بھانت بھانت کے لوگ ملتے ہیں جو مختلف زبانوں میں بات کرتے ہیں۔ یہاں بھک منگوں کا انداز نرالا ہے۔ پہلے آپ سے سلام دعا کریں گے، کرسمس یا نئے سال کی مناسبت سے مبارک دیں گے اور پھر کچھ رقم کا مطالبہ کریں گے۔ کرسمس کے روز بروکلن کے ایک پارک میں جانا ہوا جہاں بچے اور بڑے برف پر Skating کر رہے تھے۔ اس پارک میں ایک جھیل بھی موجود تھی جو سردی کے باعث جم چکی تھی اور بطخوں کے غول اس پر اٹھکیلیاں کرتے دکھائی دیے۔ خاکسار کو پیدل چلنے کا شوق جنون کی حد تک لاحق ہے۔ یہ شوق پورا کرنے کے لئے سڑک کنارے فٹ پاتھ ہونا ضروری ہیں جن پر مادر وطن میں اکثر موٹر سائیکل بردار حضرات چڑھائی کئے رہتے ہیں۔ دیار غیر میں یہ بد تمیزی دیکھنے کو نہیں ملتی اور آپ پورا شہر پیدل ہی گھوم سکتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں پارک کا رخ ’آج کل کی لڑکیاں، ڈیٹنگ اور ماں باپ کو دھوکہ‘ قسم کے لوگ کرتے ہیں یا وزن کم کرنے کی سعی لاحاصل میں مبتلا افراد و خواتین۔ اس کے برعکس یہاں پارک میں طرح طرح کے لوگ دیکھنے کو ملے۔ سائیکل سواروں کے لئے علیحدہ ٹریک موجود تھا اور پیدل چلنے والوں کے لئے مختلف راستہ۔ اس منجمد جھیل کو دیکھ کر شفیق الرحمان صاحب کی نیلی جھیل بہت یاد آئی۔ یہاں CVS نامی میڈیکل اور جنرل سٹور ملک بھر میں ملتے ہیں۔ ہم کچھ ضروری اشیاء لینے وہاں پہنچے اور کاؤنٹر کی جانب بڑھے تو آواز آئی: بھائی صاحب لائن ادھر ہے۔ دیکھنے پر پتہ چلا کہ کاؤنٹر سے کچھ فاصلے پر ایک طویل قطار موجود تھی۔ اس کے بعد جب بھی کسی سٹور پر گئے، تفصیلی جائزے کے بعد کاؤ نٹر کا رخ کیا۔

کرسمس سے اگلے روز واشنگٹن کی جانب رواں ہوئے۔ بس والے نے ساڑھے چار گھنٹے کا رستہ سات گھنٹے میں عبور کیا تو ڈائیوو بہت یاد آئی۔ واشنگٹن سے ہمیں ٹرین کے ذریعے جڑواں علاقے میری لینڈ جانا تھا۔ وہاں سٹیشن پر اترے تو رات کا وقت تھا اور مسافت ابھی باقی تھی۔ چالیس کلو سامان اٹھائے در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد ایک خالی بس میں سوار ہوئے اور منزل مقصود کے قریب پہنچے۔ میزبان نے\"\" کھانا تیار کر رکھا تھا جسے نوش کرتے ہی نیند نے آلیا۔ یہاں جسمانی طور پر معذور افراد کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ ٹرین ہو یا بس، ویل چیئر کے اترنے چڑھنے کے لئے مخصوص بندوبست موجود ہے اور سواری میں ان کے لئے جگہ مختص ہے۔ جانوروں سے گوروں کی انسیت تو ہمارے ہاں لطائف کا موضوع ہے لیکن ہم اپنے ملک میں جانوروں سے جو سلوک روا رکھتے ہیں، وہ نہایت شرم ناک ہے۔ واشنگٹن میں درجنوں کی تعداد میں میوزیم موجود ہیں اور سرکاری میوزیم میں داخلہ مفت ہے۔ کچھ میوزیم ایسے ہیں جہاں داخلے کے لئے پہلے ٹکٹ خریدنے پڑتے ہیں جیسے Newseum  یا Spy Museum۔ ہم نے دونوں طرح کے میوزیم دیکھے۔ Newseum واشنگٹن کے ایک قدیم ہوٹل کی جگہ قائم کیا گیا ہے (اس ہوٹل میں صدر لنکن کا قاتل ٹھہرا کرتا تھا)۔ یہ میوزیم خبر کی دنیا کو موضوع بناتا ہے اور ماضی قریب کے بہت سے واقعات کی تصاویر یا ان کے آثار یہاں موجود ہیں۔ دیوار برلن کے کچھ حصے اور اس دیوار کے قریب قائم Death Towers میں سے ایک یہاں موجود ہے۔ گیارہ ستمبر کے روز جو طیارے اغوا ہوئے، ان اغوا کاروں کے پاسپورٹوں کی کاپی، وہ گاڑی جو انہوں نے ایک ہوائی اڈے پر چھوڑی تھی اور نارتھ ٹاور کے اوپر لگے اینٹینا کی باقیات یہاں پائی جاتی ہیں۔ نیو یارک کے ٹائمز سکوئر کو بم سے اڑانے کی کوشش کرنے والے پاکستانی بھائی نے جو گاڑی اس مقصد کے لئے استعمال کی، وہ بھی یہاں کھڑی ہے۔ بوسٹن میراتھان کو بم کا نشانہ بنانے والوں کو پکڑنے کے لئے جو آلہ استعمال ہوا، وہ بھی اس میوزیم میں دیکھا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر سے اخبارات یہاں روز جمع کئے جاتے ہیں اور انہیں بغیر معاوضے کے پڑھا جا سکتا ہے۔ Spy Museum ایک الگ دنیا ہے۔ وہاں دنیا بھر میں جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والی اشیاء موجود ہیں۔ جیمز بانڈ کے شائقین کے لئے وہ میوزیم خاص کشش رکھتا ہے کیونکہ ان فلموں میں استعمال ہونے والے کاسٹیوم اور گاڑیاں اس میوزیم میں دیکھنے کو ملیں گی۔ واشنگٹن \"\"میں Smithsonian ادارے کے تحت قائم تمام میوزیم مفت ہیں اور دروازے پر بیگ کی تلاشی کے بعد آپ سارا دن میوزیم میں گھوم سکتے ہیں۔ راقم نے Air and Space میوزیم کا رخ کیا۔ وہاں بھانت بھانت کے جہاز (لاہور والے نہیں)، ڈرون طیارے اور میزائل موجود تھے۔ رائٹ برادران کے لئے ایک گیلری مختص ہے جہاں ان کی زندگی کی کہانی اور ان کا بنایا ایک جہاز کھڑا ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے لئے الگ گیلریاں مختص ہیں اور خلائی سفر کے لئے ایک بڑی گیلری اس کے علاوہ ہے۔ سیکھنے کے لئے وہاں بہت کچھ ہے اور لوگ بچوں سمیت میوزیم کا رخ کرتے ہیں، جو خوش آئند طرز عمل ہے۔ اس کے علاوہ واشنگٹن میں Museum of Natural History اور Museum of American History دیکھا۔ ہم جیسے تاریخ کے رسیا شخص کے لئے یہ ایک سنہری موقع تھا کہ اپنے علم میں اضافہ کیا جائے۔ Trump کے صدر بننے کے باوجود کم از کم ہم نے کسی قسم کے امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کیا بلکہ ہر کسی نے خوش دلی سے جواب دیا اور موقع ملنے پر رہنمائی کی۔

سال نو سے قبل آخری دن (31 December) کو یہاں New Year\’s Eve کہا جاتا ہے۔ اس روز ہمارے میزبان کے دوست گھر پر اکٹھے ہوئے، کھانا کھایا اور مختلف Card Games کھیلیں۔ ہم نے اس روز پہلی دفعہ مشہور زمانہ گیم Scrabble کھیلی۔ قیام کے آخری کچھ دنوں میں تیز بارش کے باعث موسم بہت جلد تبدیل ہوا جس کے باعث ہم سخت زکام کا شکار ہوئے۔ میڈیکل سٹور پر گئے تو وہاں کام کرنے والے ایک صاحب نے تبصرہ کیا: لگتا ہے آج صرف زکام کی دوا ہی بکے گی۔

واشنگٹن کے بعد ہماری منزل مغربی ورجینیا نامی ریاست تھی۔ یہ سفر ہم نے ٹرین میں کیا جس نے ایک دفعہ پھر ہمیں ڈائیوو کی یاد دلا دی۔ \"\"ساڑھے سات گھنٹے کا سفر ختم ہوا تو ایک دور افتادہ قصبے کے سٹیشن پر اترے۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے لیکن شکر گڑھ کا سٹیشن بھی اس ’کمرے‘ سے بڑا ہو گا۔ گزشتہ کچھ دن سے مغربی ورجینیا کے ایک قصبے میں قیام ہے اور ہفتے کے دوران ایک قریبی قصبے میں ہسپتال جانا ہوتا ہے۔ گھر سے کچھ قدم کے فاصلے پر ایک منی بس کا سٹاپ ہے جو قصبے کے تمام ہسپتالوں اور شاپنگ سنٹروں کے سامنے رکتی بس اڈے تک پہنچتی ہے۔ وہاں سے ایک اور بس ہمیں منزل تک لے جاتی ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگوں کے پاس ذاتی گاڑیاں موجود ہیں اور بس پر وہی سفر کرتا ہے جو گاڑی نہ خرید سکے۔ بس پر سفر کرنے والے زیادہ تر افراد ایک دوسرے سے واقف ہیں اور مخصوص لہجے میں ان کی گپ شپ سننا بھی ایک انوکھا تجربہ ہے۔ اس علاقے میں برف خوب پڑتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی سڑک سے برف صاف کرنے والے ٹرک راستے صاف کرتے جاتے ہیں۔ گھر کے اندر درجہ حرارت مناسب ہے لیکن باہر نکلنے کے لئے احتیاطی تدابیر کرنی پڑتی ہیں۔ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ہی رہتا ہے۔ ابھی ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں دو پڑاؤ باقی ہیں۔ اب ٹھہرتی ہے دیکھئے جا کر نظر کہاں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 28 posts and counting.See all posts by abdulmajeed