وزیر داخلہ استعفیٰ دیں ورنہ خاموش رہیں


\"\"کل سینیٹ اجلاس کے دوران اور بعد میں اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جو گفتگو کی ہے، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ ملک کے وزیر اعظم سب عقائد اور مسالک کے مل جل کر رہنے اور انسانیت کے رشتے سے ایک ہونے کی باتیں کر کے تالیاں سمیٹتے اور ان پر خوش ہوتے ہیں۔ لیکن انہیں اپنے چہیتے وزیر داخلہ کے طرز تکلم اور غیر ذمہ دارانہ رویہ پر قطعی تشویش نہیں ہوتی جو کبھی سینیٹ کے فلور پر فرقہ وارانہ قتل و غارتگری میں ملوث تنظیموں کی حمایت میں زور بیان صرف کرتے ہیں اور کبھی کوئٹہ کی دہشت گردی کے اسباب و علل پر سامنے آنی والی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے خود کو درست اور دوسروں کو غلط ثابت کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر وزیراعظم اس ملک میں ہم آہنگی اور اقلیتوں کو تحفظ دینے کی باتیں کسی اقلیتی اجتماع میں صرف اپنی توصیف سننے کےلئے کرتے ہیں تو اس سے زیادہ افسوسناک رویہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر وہ اپنے ان دعوؤں میں سنجیدہ ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے وزیر داخلہ سے اس کی نااہلی اور اشتعال انگیزی کا حساب لینا چاہئے۔ یہ ماننے کے باوجود کہ اس ملک میں بہت سی باتیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کےلئے کی جاتی ہیں، یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والی حکومت ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں غیر سنجیدہ طرزعمل اختیار کرے۔
کسی بھی مہذب معاشرہ میں جہاں لوگ سیاسی عہدہ قبول کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں، چوہدری نثار علی خان جیسا شخص وزیر داخلہ کے طور پر فائز نہیں رہ سکتا۔ اس وقت پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں دہشت گردی کی بنیاد فرقہ پرستی کے مزاج پر استوار ہے۔ پاکستان میں بھی اس کا آغاز عقائد کے اختلاف سے ہی ہوا ہے۔ کیونکہ ایک خاص عقیدہ و مسلک کے حامل لوگ و زعما دوسرے مسلک کے ماننے والوں کو قبول کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں۔ نفرت کا یہ پرچار اور تفہیم اس قدر شدت اختیار کرچکی ہے کہ ایک دوسرے کے مسلک کے خلاف تنظیمیں بنائی جاتی ہیں اور وہ دوسرے مسالک کے لوگوں کو قتل کرنا عین ثواب سمجھتی ہیں۔ مولانا احمد لدھیانوی کی قیادت میں قائم ہونے والی جماعت اہلسنت و الجماعت ایسی ہی انتہا پسند فرقہ وارانہ تنظیم ہے جو اس سے پہلے سپاہ صحابہ اور ملت اسلامیہ کے نام سے متحرک رہی ہے۔ اب وہ اہلسنت و الجماعت کے نام سے موجود ہے۔ اس تنظیم پر 2012 میں پابندی لگائی گئی تھی لیکن اس کی سرگرمیوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ حتیٰ کہ گزشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ نے اس کے سربراہ احمد لدھیانوی کو طویل قانونی جنگ کے بعد انتخاب میں حصہ لینے کی بھی اجازت دے دی۔ وزیر داخلہ نے سینیٹ میں اسی تنظیم کے سربراہ سے ملاقات کو درست ثابت کرنے کےلئے یہ ’’عالمانہ‘‘ موقف اختیار کیا ہے کہ مسلکی اور فرقہ وارانہ اختلاف تیرہ سو برس سے موجود ہے۔ اور یہ کہ فرقہ وارانہ تنظیموں کو دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ گویا اگر کوئی گروہ ملک میں مسلک اور فرقہ کی بنیاد پر دھماکے کرنے اور قتل و غارتگری کا اعلان و اقرار کرتا ہے تو وہ چوہدری نثار علی خان کے نزدیک سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے ہونے والی دہشت گردی کے مقابلے میں یہ چھوٹا جرم ہے۔ اگر یہ فرقہ واریت کا پرچار نہیں ہے تو اسے دوسرا کیا نام دیا جا سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں سرگرم داعش اور پاکستان و افغانستان کے طالبان گروہ اگرچہ سیاسی عزائم کے لئے مذہب کو استعمال کرتے ہیں لیکن ان کی حکمت عملی بھی فرقہ واریت پر مبنی ہے۔ اگر ملک کے وزیر داخلہ کے زاویہ نظر سے دیکھا جائے گا تو یہ گروہ جو دھماکے مخالف مسلک کے لوگوں کو ہلاک کرنے کےلئے کرتے ہیں، انہیں غیر اہم قرار دینا پڑے گا۔ البتہ جو حملہ مسلکی تخصیص کے بغیر ہوگا، اسے دہشت گردی شمار کیا جا سکے گا۔ چوہدری نثارعلی خان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے والی وزارت کی سربراہی کرنے سے پہلے اس بات کا سبق لینا چاہئے کہ دہشت گردی کسے کہتے ہیں۔ جب بھی کوئی گروہ یا تنظیم یا فرد اپنا کوئی بھی مقصد حاصل کرنے کےلئے مروجہ قانونی و آئینی طریقہ اختیار کرنے سے گریز کرے گا اور اس کی بجائے تشدد اور قتل و غارتگری کا راستہ اختیار کرے گا ۔۔۔۔۔۔ اسے دہشت گرد کہا جائے گا۔ دہشت گردی کی اس واضح تصریح کے باوجود جب وزیر داخلہ فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ گروہوں کو کم خطرناک قرار دینے پر اصرار کرتے ہیں تو اس بیان سے ان کے سیاسی عزائم کے بارے میں فطری طور پر متعدد سوال جنم لیتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) پر پنجاب میں فرقہ وارانہ گروہوں سے مراسم استوار کرنے اور سیاسی استفادہ کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ اپنے بیانات اور افعال کے ذریعے فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا جو اظہار کرتے رہے ہیں، اس سے بھی اسی طرزعمل کا پتہ چلتا ہے۔ اب چوہدری نثارعلی خان نے سینیٹ میں اس رویہ کی تصدیق کرکے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیراعظم نواز شریف کے موقف اور پالیسی کے بارے میں شبہات پیدا کئے ہیں۔
سیاست میں اختلاف رائے معمول کا حصہ ہے۔ اسی طرح سیاسی و انتظامی اقدام کرتے ہوئے غلطی سرزد ہونا بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ تاہم ایک قابل احترام سیاسی انتظام میں اگر کوئی سیاسی عہدے دار غلطی کرتا ہے تو وہ اس کا اعتراف کر لینے میں مضائقہ نہیں سمجھتا۔ اگر یہ غلطی معمولی نوعیت کی ہو تو اپوزیشن یا مخالفین اس سے درگزر کرتے ہیں۔ اور یہ غلطی سنگین ہو تو انگلیاں اٹھنے سے پہلے ہی متعلقہ عہدیدار اس ذمہ داری سے علیحدہ ہونا مناسب سمجھتا ہے۔ چوہدری نثارعلی خان طویل عرصہ میدان سیاست میں رہنے کے باوجود ان میں سے کسی بھی رویہ کو اختیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی ذمہ داری قبول کرنے کی روایت موجود نہیں ہے۔ لیکن غلطی کے بعد ہر شریف آدمی شرمندگی محسوس کرتا ہے اور اس رویہ پر معذرت خواہ ہوتا ہے۔ تاہم چوہدری نثار علی خان ایسے مہذب ہیں کہ نہ تو مولانا احمد لدھیانوی جیسے کالعدم انتہا پسندی تنظیم کے سربراہ سے ملاقات کو غلطی مانتے ہیں اور نہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں جب جسٹس فائز عیسیٰ کا عدالتی کمیشن کوئٹہ حملہ کے بارے میں وزارت داخلہ کی کوتاہیوں اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد میں تساہل کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے برعکس وہ کمزوریوں کی نشاندہی کرنے والوں پر کسی ’’خونخوار درندے‘‘ کی طرح حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ سینیٹ میں دہشت گردی کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے انہوں نے نہ صرف کوئی غلطی قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ کوتاہی کی ساری ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر عائد کرنے کی بھی کوشش کی۔ حالانکہ یہ عام فہم سی بات ہے کہ دہشت گردی، مجرمانہ فعل کے ذریعے معصوم اور بے گناہ لوگوں کو مارنے کا نام ہے۔ ان حرکتوں پر گرفت کرنے کےلئے اگر علاقہ پولیس کی طرح وفاقی وزیر بھی اپنے اور دوسروں کے دائرہ کار کی بحث کا آغاز کریں گے تو اس سے صرف یہ مطلب اخذ کیا جائے گا کہ وہ یا تو اس کام کے اہل نہیں ہیں یا اسے سرانجام نہیں دینا چاہتے۔
سینیٹ میں بیان کے دوران انہوں نے 2014 میں کراچی ائر پورٹ پر حملہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ذمہ داری بھی وفاقی حکومت پر ڈالی جاتی ہے حالانکہ وفاقی حکومت نے تین مرتبہ سندھ حکومت کو اس بارے میں متنبہ کیا تھا۔ بلکہ یہ بھی بتا دیا تھا کہ دہشت گرد کس گیٹ سے حملہ کریں گے۔ حیرت اور مضحکہ خیز بات ہے کہ اگر چوہدری نثار علی خان کی نگرانی میں کام کرنے والے اداروں کو دہشت گردی کی اس گھناؤنی واردات کی اتنی تفصیلات معلوم تھیں تو، الف) وہ ان دہشت گردوں کو نشان زدہ دروازے تک جانے سے پہلے گرفتار کیوں نہ کر سکے۔ ب) اگر دہشت گرد کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کر رہے تھے تو کیا وفاقی حکومت اور اس کے ادارے صرف صوبائی خود مختاری کے احترام میں اس گھناؤنی واردات کو روکنے سے گریز کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ناقابل فہم طرز استدلال ہے۔ اگر کوئی ہمسایہ بھی اپنے ساتھ والے گھر میں چور داخل ہوتے دیکھتا ہے تو وہ بھی پولیس یا مالک مکان کو اطلاع دینے کےلئے بھاگنے کی بجائے، چور کو روکنے یا لوگوں کو جمع کرکے اسے بھگانے کی کوشش کرے گا۔ البتہ وفاقی وزیر داخلہ صرف اطلاع دینا ہی کافی سمجھتے ہیں تاکہ بعد میں یہ اعلان کر سکیں کہ انہوں نے تو ذمہ داری پوری کی تھی لیکن صوبائی حکومت نااہل اور نکمی تھی۔
کچھ ایسی ہی مضحکہ خیز باتیں انہوں نے سینیٹ کے اجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے وفاقی وزارت داخلہ سے 94 مشکوک مدرسوں پر پابندی لگانے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ مدرسوں پر پابندی کیوں کر لگائی جا سکتی ہے۔ تاہم ان کے خیال میں اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ سندھ حکومت کی فہرست میں ایسے مدارس بھی شامل ہیں جو دوسرے صوبوں میں ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ وزیر داخلہ کو یہ سنگین و سنجیدہ مسائل ’’مضحکہ خیز‘‘ لگتے ہیں۔ اگر کسی مدرسہ میں انتہا پسند پناہ لیتے ہیں، اسلحہ ذخیرہ ہوتا ہے یا وہاں دہشت گردی کی تبلیغ کی جاتی ہے تو ایسے مدرسے کو تو قومی ایکشن پلان کی رو سے فوری طور سے بند کر دینا چاہئے۔ نہ جانے وزیر داخلہ ایسی تجویز کو کیوں کر ’’مزاحیہ حرکت‘‘ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر ایک صوبائی حکومت دوسرے صوبے میں ناجائز اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اداروں کے بارے میں اطلاع دیتی ہے تو یہ تو قابل تعریف بات ہے۔ کجا کہ وزیر داخلہ اس کا مذاق اڑانے اور صوبائی حکومت کو غیر ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کریں۔
ان حالات میں وزیر داخلہ جناب چوہدری نثار علی خان سے صرف یہی عرض کی جا سکتی ہے کہ حضور بہتر ہے آپ اس عہدہ سے علیحدہ ہو جائیں ، یہ آپ پر بھاری پڑ رہا ہے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو خاموشی اختیار کیا کریں۔ اس سے بہت سے عیب چھپ جاتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  ’غدار‘ احمد فراز کی سرکاری موٹر کار

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 683 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali