میری آواز کو قفل ڈال، سچ کی گونج لے جا!


\"\"بچپن میں جب کچھ غلط کرتے ہیں ہیں تو گھر کے بڑے بزرگ ڈانٹ مار کر سمجھاتے ہیں، بتاتے ہیں کہ سچ بولو اور اچھا کرو لیکن دستور وطن کچھ اور ٹھہرا۔ سچ بولنے کو خاموشی کا سبق دیا جاتا ہے اور حق کی آواز اٹھانے والوں کو ہی اٹھا لیا جاتا ہے۔

وطن عزیز میں مثالیں تو بہت ہیں جب ہمیں یاد دلایا جاتا ہے کہ ہم نے انگریزوں سے تو آزادی حاصل کرلی، لیکن خود سے آزاد نہ ہو سکے۔

سلمان حیدر، احمد رضا، احمد وقاص گورایا اور عاصم سعید وہ چند نام ہیں جو 4 جنوری سے 7 جنوری کے بیچ پاکستان کے مختلف علاقوں سے غائب کر دئے گئے۔ 2016 تک تو ہم بس سنتے تھے کہ گمشدہ یا تو بلوچ ہوتے ہیں یا پھر متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان لیکن 2017 نے تو مجھ جیسی عام انسان کی آنکھیں ہی کھول دی ہیں اور ساتھ ہی عقل نے زبان پر تالہ ڈالنے کا تقاضا کر دیا ہے۔ آج ملک کے ہر علاقے سے لوگ غائب کیے جا رہے ہیں، پھر چاہے وہ پنجاب کے اہم شہر ہوں جیسے لاہور، ملتان اور اسلام آباد۔ آج اس جبری گمشدگی کے قہر میں سب برابر کے شریک ہوچکے ہیں۔

مگر سوال پوچھنا چاہئے کہ کیا لوگوں کی جبری گمشدگی ان کی طرف سے اٹھائی جانے والی آوازوں کو بھی ختم کر دے گی، کیا ان کے اٹھائے سوال گم ہوجائیں گے؟ یا پھر یہ اشارہ ہے اس خاموشی کا جو خوف کی صورت پیدا ہوتی ہے۔

لے جا،
میری زبان سے
نکلے الفاظ
لے جا

میرے ذہن پہ
لکھےخیال
لے جا
میری جنگ کے
ہتھیار لے جا

کوئی چارہ گر
رہ نہ جائے
میرے یار
میرے احباب
لے جا

میری سوچ کا
قاتل بن کر
میری نظموں کا
مضمون
لے جا

جنوں کو ضرب
لگانے والے
زمانے بھر سے
مرہم لے جا

میری آواز کو
قفل ڈال
اور
سچ کی گونج
لے جا!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔