لندن کے کلچرل شاکس اور راولپنڈی سینما ہاؤس کا مقبول! (1)۔


\"\"

مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں نے دس سال قبل 18 ستمبر 2006ء کو برطانوی اسکالر شپ پر لندن پڑھنے کے لئے فلائٹ پکڑی، تو اس سے دو دن پہلے برٹش کونسل نے اسلام آباد میں ہمیں سب کامیاب امیدواروں ایک بریفنگ کے لئے بلایا۔ اس کا مقصد ہمیں اس نئے شہر اور وہاں کے گورے گوریوں کے بارے میں بتانا تھا تاکہ وہاں پہنچ کر ہمیں “کلچرل شاکس” نہ لگیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ترقی پذیر اور پاکستان جیسے کنزرویٹیو معاشرے سے جانے والے لوگ جہاں لندن شہر اور وہاں کے قوانین کے بارے میں کچھ معلومات رکھتے ہوں وہاں انہیں یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ برطانوی شہریوں کا کیا لائف اسٹائل تھا جہاں لڑکیاں منی اسکرٹ پہنے انگلیوں میں سگریٹ سلگائے، اپنے فرینڈز کے ساتھ پبوں میں شراب پیتی بڑی آزادی سے بغیر کسی ڈر خوف کے رات کو بھی سفر کر سکتی ہیں۔

اس لیے یہ ضروری سمجھا گیا کہ پاکستان سے جانے والوں کے لئے اس طرح کی بریفنگ کا انتظام کیا جائے جہاں شراب پینے پر ستّر کوڑوں کے علاوہ جنرل ضیاء نے اچھی خاصی قید کا بندوبست بھی کیا تھا۔ کسی عورت کے ساتھ بات چیت کرتے دیکھ کر پولیس کو یہ اختیارات حاصل تھے کہ وہ حدود آرڈیننس کے تحت ایسے مرد اور عورت کو جیل بھیجے اور عدالت کو یہ حق بھی نہیں دیا کہ وہ ان کی ضمانت لے سکیں۔ مقصد یہ تھا کہ وہ دونوں جیل میں ہی گل سڑ کر مر جائیں تاکہ انہیں سنگسار نہ کرنا پڑے۔ اس لیے یہ بات سمجھ میں آتی تھی کہ پاکستانیوں کو لندن جانے سے پہلے بریف کیا جائے کیونکہ برطانیہ پر کسی جنرل ضیاء نے حکومت نہیں کی تھی لہذا وہاں شراب پینا یا لڑکیوں کا غیر مردوں کے ساتھ نائٹ کلب میں ڈانس کرنا جرم نہیں تھا۔

لندن پہنچ کر جو مجھے سب سے پہلا کلچرل شاک لگا وہ یہ نہیں تھا جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا تھا کہ کسی کو گھورنا نہیں ہے، کسی کی ذاتی آزادی میں دخل انداز نہیں ہونا اور اپنے کام سے کام رکھنا ہے۔

مجھے جو کلچرل شاک لگا وہ لندن پہنچنے کے ایک ہفتے بعد تھا جب میں اپنے کالج کی پہلی تعارفی کلاس لینے کے لئے ٹیوب اسٹیشن پہنچا۔ اس وقت صبح کے نو بجکر بیس منٹ ہوئے تھے۔ میں جب ٹکٹ کاؤنٹر پر پہنچا تو وہاں بیٹھی ایک گوری لڑکی پہلے تو مجھے دیکھ کر مسکرائی۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ جواب میں، میں نے بھی مسکرانا ہے۔ جب میں نے اسے ون ڈے ٹریول کارڈ کی درخواست کی تو اس نے مجھے آگے سے ایک ایسی بات کہہ دی کہ آج پانچ برس گذر گئے ہیں کہ میں اس کلچرل شاک سے نہیں نکل سکا۔ اس لڑکی نے کہا کہ اگر آپ دس منٹ اور انتظار کر لیں تو ساڑھے نو بجے آپ کا یہ ٹکٹ آپ کو آدھی قیمت پر ملے گا کیونکہ اس وقت تک رش آور کی وجہ سے ٹکٹ زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔ اگر آپ دس منٹ انتظار کر سکتے ہیں تو آپ کو تین پاؤنڈ کا فائدہ ہو جائے گا۔

پہلے تو مجھے اس کی بات سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیا کہہ رہی ہے کیونکہ ہم تو پاکستانی بسوں، ٹرینوں اور ڈرائیوروں کے عادی ہیں جہاں تھوڑا سا بھی رش ہو جائے تو ٹکٹ بلیک میں بکنے لگتی ہے اور سواری سے چار پانچ گنا کرایہ لیا جاتا ہے۔ یہاں تو یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی آپ کو یہ کہے کہ اگر آپ دس منٹ بعد ٹکٹ لیں گے تو آپ کو پانچ سو روپے کی بچت ہو سکتی تھی۔ جب مجھے سمجھ آئی تو میں نے مسکرا کر اس لڑکی سے کہا چلیں ٹھیک ہے میں دس منٹ انتظار کر لیتا ہوں۔ جب میں دس منٹ بعد دوبارہ لوٹا تو وہ میرا ٹکٹ پہلے سے جاری کر کے بیٹھی تھی اور جاتے وقت اس نے مجھے وش کرنا بھی نہیں بھولا کہ Have a good day۔ میں نے پھر اسے حیرانی سے دیکھا اور ٹرین پکڑنے کے لئے سیڑھیاں اتر گیا۔

دوسرا کلچرل شاک ٹرین میں لگا جب ایک سٹیشن پر جلدی میں ایک گورا مجھ سے تھوڑا سا ٹکرا گیا اور اس کے منہ سے نکلا۔ او آئی ایم سوری۔ ابھی میں ٹرین میں ہی کھڑا تھا کہ میں نے تھوڑا سا ایک خاتون کو راستہ دیا تو وہ میرے قریب سے گذرتے ہوئے تھینک یو کہہ گئی۔ مجھے یہ بھی علم نہیں تھا کہ میں نے تھینک یو کے جواب میں کیا کہنا ہے۔ میں نے بڑے عرصے بعد کسی سے سوری اور تھینک یو کے الفاظ سنے تھے اور مجھ سے یہ دونوں الفاظ ہضم نہیں ہو رہے تھے۔

کالج پہنچا تو تیسرا کلچرل شاک میرا منتظر تھا جب مجھ سے آگے جانے والی ایک لڑکی نے اپنے لیے دروازہ کھولا اور تھوڑا سا پیچھے مڑ کر دیکھا کہ میں آ رہا تھا تو وہ اس وقت تک دروازہ کھول کر کھڑی رہی جب تک میں گذر نہیں گیا۔ ٹرین والا واقعہ ابھی تازہ تھا لہذا مجھے یاد آیا کہ اس مرحلے پر تھینک یو کہا جاتا ہے۔ وہ تھوڑا سا مسکرائی اور آگے بڑھ گئی۔

چوتھا کلچرل شاک کلاس روم میں بیٹھ کر لگا جب پروفیسر نے میرا نام لیا اور میں نے روایتی پاکستانی اسٹائل میں یس سر کہا۔ وہ وہیں رک گیا اور مجھے غور سے دیکھ کر کہا کہ میرا نام سر نہیں ہے۔ میں آئرن ہوں۔ آئندہ مجھے میرے نام سے پکارنا۔ میں نے کہا یس سر اور پروفیسر سمیت پوری کلاس ہنس پڑی۔ پانچواں کلچر شاک اس وقت میرے اوپر حملہ آور ہوا جب میں نے کلاس میں کسی ایشو پر بات کی تو سب نے مجھے چپ کر کے سنا اور کسی نے درمیان میں نہیں ٹوکا۔ اس کا مطلب تھا کہ جب تک دوسرا بات پوری نہ کر لے کسی کو درمیان میں نہیں ٹوکا جاتا۔ چھٹا شاک وہ تھا جب میری ساری کلاس فیلوز ایک ہاتھ میں کافی کا مگ اور دوسرے میں چاکلیٹ مفین پکڑ کر صبح کا ناشتہ پروفیسر کے لیکچر کے دوران کرتیں۔ لندن سے واپس آنے سے کچھ دن پہلے ایک اور کلچرل شاک لگا جب ہمارے ایک پروفیسر نے ایک سو سے زیادہ اپنے شاگردوں کو کالج کے بار روم میں الوداعی پارٹی دی اور جس نے شراب پینی تھی شراب پی جس نے کوئی اور مشروب لینا تھا وہ لیا اور اس کا سارا بل اس بوڑھے پروفیسر نے اپنی جیب سے ادا کیا۔

19 ستمبر 2011

لندن کے کلچرل شاکس اور راولپنڈی سینما ہاؤس کا مقبول! (2)۔ 

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔