لندن کے کلچرل شاکس اور راولپنڈی سینما ہاؤس کا مقبول! (2)۔


\"\"

لندن کے کلچرل شاکس اور راولپنڈی سینما ہاؤس کا مقبول! (1)۔ 
لندن جا کر ہر دفعہ کوئی نیا کلچرل شاک ضرور لگتا ہے۔ اس دفعہ جب پچھلے مہینے لندن گیا تو وہاں فسادات ہو رہے تھے لہذا لندن زیادہ اجنبی نہیں لگا اور محسوس ہوا کہ شاید پاکستان سے اڑ کر پاکستان آ گیا ہوں۔ شاک اس وقت لگا جب پولیس نے اختیارات ملنے کے بعد ایک دن میں ان فسادات پر قابو پا لیا اور سات سو سے زائد فسادیوں کو برطانوں ججوں نے دن رات ایک کر کے سزائیں سنائیں۔ اور تو اور ایک ماں نے اپنے بیٹے کا فوٹو ٹی وی پر لوٹ مار کرتے دیکھا تو اسے پکڑ کر خود تھانے لے گئی۔ اس طرح کی کئی مثالیں وہاں سامنے آئیں کہ کیسے والدین اپنے بچوں کو خود قانون کے حوالے کر کے آئے۔

3 ستمبر کی فلائیٹ لے کر لندن چھوڑنے سے ایک دن قبل ابھی ایک اور کلچرل شاک میرا منتظر تھا۔ میری بیوی نے لندن کے علاقے الفرڈ کی ایکسچینج مارکیٹ میں واقع آرگس سٹور سے اپنے لیے ایک رِنگ لینی تھی۔ جب ہم ادائیگی کرنے لگے تو کاؤنٹر پر کھڑی ایک لڑکی نے کہا کہ اگر آپ بیس پاؤنڈ اور دے دیں تو اس کی دو سال کے لئے انشورنس کر دوں گی۔ میں نے پوچھا اس سے کیا ہوگا تو وہ بولی دو سال کے اندر اگر یہ رِنگ گم ہو جائے یا چوری تو ہم یا تو نئی رِنگ دیں گے یا پیسے واپس کر دیں گے۔

میں نے پوچھا اس بات کا مجھے کیا ثبوت دینا ہوگا کہ یہ رِنگ گم ہو گئی تھی یا چوری؟

وہ حیرانی سے بولی کہ آپ اس رسید کو اپنے پاس محفوظ رکھیں اور اگر آپ کی انگوٹھی چوری یا گم ہو جائے تو اس کو لے کر ہمارے کسی بھی سٹور پر چلے جائیے گا اور جا کر صرف اتنا کہہ دیں کہ یہ گم ہو گئی تھی یا چوری تو آپ کا پورا کلیم آپ کو مل جائے گا۔ ہم آپ کی بات پر ہی یقین کریں گے ہمیں ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک لمحے کے لئے تو مجھے بڑا شدید جھٹکا لگا کہ کیا یہ معاشرے اتنے ترقی کر گئے تھے کہ اب ایک دوسرے کا کہا ہی ان کے لئے سب سے بڑا ثبوت تھا۔ وہاں جھوٹ بولنا اتنا برا سمجھا جاتا ہے کہ کوئی یہ توقع نہیں کرتا کہ ان سے کوئی جھوٹ بول کر اپنے دو سو پاؤنڈ واپس لے جائے گا۔ مجھے اچانک وہ ساری کہانیاں یاد آنے لگیں جو میں نے اپنے بہت سارے پاکستانی دوستوں سے سنیں تھیں کہ کیسے وہ اعتماد اور سچ پر تعمیر کیے گئے برطانوی معاشرے کو دھوکہ دے کر لوٹ رہے تھے۔ برطانیہ میں ہر سال اس طرح کے کروڑوں کے فراڈ ہوتے ہیں۔ ہمارے بہت سارے پاکستانی طالبعلم یہی کچھ کرتے ہیں کہ وہاں سے موبائل فون لے کر پاکستان میں فروخت کر کے وہاں واپس جا کر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ چوری ہو گیا ہے اورانشورنس کے نام پر نیا لے لیتے ہیں۔

یہی کچھ وہاں بینکوں کے ساتھ کیا گیا ہے کہ لندن چھوڑنے سے پہلے کریڈٹ کارڈز پر بھاری رقوم نکلوا کر وہ پاکستان لوٹ آتے ہیں۔ کاؤنٹر پر کھڑے ہوئے مجھے اپنے ایک پاکستانی جاننے والے دوست کی وہ آفر بھی یاد آ گئی جو اس نے مجھے 2007ء میں کی تھی کہ تمہیں دس ہزار پاؤنڈ ملیں گے اگر تم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایک گاڑی میں بیٹھ کر دوسری کے ساتھ ایک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ کر لو۔ تم پیسے لے کر پاکستان چلے جانا ہم پیچھے سے انشورنس والوں سے نکلوا لیں گے کیونکہ اس کی انشورنس زیادہ ملتی ہے جس ایکسیڈنٹ میں بچے موجود ہوں۔ موصوف مظفر گڑھ کالج کے پرنسپل کے بیٹے تھے اور میں کتنے دن اسی دکھ میں رہا کہ ایک پروفیسر جو اپنے بچے کو نہیں سدھار سکا اس نے مظفر گڑھ کی نسلوں کو کیا سدھارا ہوگا۔

اسی بارے میں: ۔  کیا احمدیوں کا معاملہ ہم خدا پر نہیں چھوڑ سکتے؟

میں نے ایک لمحے کے لئے سوچا اور اس لڑکی کو بیس پاؤنڈ دیے بغیر باہر نکل آیا۔

پاکستان واپس پہنچا تو بچوں نے کہا کہ چل کر راولپنڈی کے ایک سینما ہاؤس میں فلم دیکھتے ہیں۔ میں نے سینما ہاؤس کا ممبر شپ کارڈ لیا ہوا ہے جس میں ایڈوانس پیسے ڈلوائے ہوئے ہیں۔ اس ممبر شپ کارڈ کا یہ فائدہ بتایا گیا تھا کہ آپ فون پر ایڈوانس بکنگ کرا کر ٹکٹ لے سکتے تھے۔ بکنگ کرنے والے لڑکے نے کہا کہ آپ کو فلم شروع ہونے سے پینتالیس منٹ پہلے آ کر ٹکٹ لینا ہوگی ورنہ بکنگ کینسل ہو جائے گی۔ میں نے اسے حیرانی سے کہا کہ میں نے اسلام آباد سے آنا تھا اور مجھے وہاں پہنچنے تک ایک گھنٹہ لگے گا تو کیا میں اب فلم دیکھنے کے لئے دو گھنٹے پہلے گھر سے نکلوں تو پھر بک کی ہوئی ٹکٹ لے سکتا تھا۔ میں نے اسے بتایا تو پھر اس کارڈ اور ایڈوانس پیسے جمع کرانے کا کیا فائدہ تھا کیونکہ دنیا بھر میں بکنگ کا مطلب تو یہ تھا کہ آپ فلم شروع ہونے سے چند منٹ پہلے ہی جا سکتے ہیں۔ اس لڑکے نے کہا کہ یہ ہمارے سینما ہاؤس کے مالک عمران صاحب کی پالیسی ہے کہ بکنگ کی ہوئی ٹکٹ اگر پینتالیس منٹ پہلے آ کر نہ لی جائے تو وہ بکنگ ختم کر دیں کیونکہ لوگ ٹکٹ بک کرا کر آتے نہیں جس سے نقصان ہوتا ہے۔ میں نے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے بات سننے سے ہی انکار کر دیا۔

میں حیران ہوا اور کہا کہ جب اس ممبر شپ کارڈ میں ایڈوانس پیسے لیتے ہیں اور بکنگ کے بعد کوئی نہیں آتا تو آپ بڑی آسانی سے وہ پیسے وہاں سے کاٹ لیا کریں۔ یہ کونسا اتنا بڑا مسئلہ ہے جس کا حل نہیں نکالا جا سکتا۔ اس لڑکے نے نہ ماننا تھا اور نہ وہ مانا اور مجھے لندن کے وہ کلچرل شاکس یاد آئے کہ جہاں ہر بندے کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح آپ کی مدد اور آپ کو ان مواقع پر سہولت فراہم کرے۔

مجھے بڑے عرصے بعد ٹیوب اسٹیشن کی وہ لڑکی یاد آئی جس نے مجھے دس منٹ انتظار کرنے کا کہہ کر ٹکٹ تین پاؤنڈ سستا دے دیا تھا۔

بچوں کو سینما ہاؤس میں بٹھا کر میں ان کے لئے پاپ کارن، پیپسی اور سموسے لینے چلا گیا۔ کاؤنٹر پر رش تھا۔ اس ریسٹورنٹ کا منیجر زیادہ رش دیکھ کر خود بھی کام کر رہا تھا۔ اس کے بیج پر اس کا نام مقبول لکھا ہوا تھا۔ اس نے مجھے بڑے اچھے انداز میں سروس دی اور میں بھی اس سے باتیں کرنے لگا۔ میں نے اس سے پوچھ لیا کہ وہ کہاں کا رہنے والا تھا تو اس نے بتایا کہ اس کا تعلق اور کہاں سے ہو سکتا تھا وہ سرگودھا کا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھ سے بات کرتے ہوئے وہاں آنے جانے والے لوگوں کو بھی ایک نظر اٹھا کر دیکھ رہا تھا جیسے کسی کو ڈھونڈ رہا ہو۔

اسی بارے میں: ۔  شربت گلہ کی آنکھیں کیا کہہ رہی ہیں؟

میں نے تجسس سے مجبور ہو کر پوچھا کہ خیریت تھی؟

وہ تھوڑا سا جھینپ کر بولا ہاں بس کسی کو دیکھ رہا تھا۔

وہ میری آنکھوں میں سوالیہ نشان دیکھ کر بولا کہ دراصل چند ماہ پہلے ایک شخص یہاں کاؤنٹر پر آیا۔ وہ خاصے عرصے سے یہاں فلم دیکھنے کے لئے آتا جاتا رہتا تھا لہذا وہ اسے جان گیا تھا۔ اس دن اس کے پاس اتفاقا پیسے کم پڑ گئے تو مقبول نے اپنی ضمانت پر آٹھ سو روپے کا بل اپنی جیب سے ادا کر دیا کہ پھر آئے گا تو پیسے مل جائیں گے۔ مقبول بتارہا تھا کہ جس دن سے، اس نے وہ بل دیا ہے وہ دوبارہ فلم دیکھنے نہیں آیا اور اب وہ پیسے اس کی تنخواہ سے کٹ گئے تھے۔

مجھے اچانک اس سے بڑی ہمدردی محسوس ہوئی کہ اگر ہمارے معاشرے میں دو تین لوگ بھی ایسے تھے جو دوسروں پر اعتماد کرتے تھے تو کیا ان کے ساتھ یہ سلوک ہونا چاہیے کہ آئندہ کوئی مرتا مر جائے وہ دوبارہ اعتبار نہیں کریں گے۔ ایک ریسٹورنٹ پر کام کرنے والے مینجر کی کتنی تنخواہ ہوگی کہ اس میں سے آٹھ سو اور کٹ گئے تھے۔ بات پیسوں کی نہیں تھی چاہے وہ لاکھوں میں ہی کیوں نہ کماتا ہو۔ کیا اس کے ساتھ یہ فراڈ ہونا چاہیے تھا؟ مقبول کے لیے شاید آٹھ سوروپے کا نقصان اتنی بڑی بات نہ ہو لیکن اسے یہ بات ہمیشہ تکلیف اور دکھ دیتی رہے گئی کہ کوئی اس کے ساتھ دھوکا کر گیا تھا۔

میں نے جھجھکتے ہوئے اسے کہا کہ اگر وہ برا نہ مانے تو میں اسے وہ آٹھ سو روپے دینا چاہتا ہوں تاکہ لوگوں پر سے اس کا ایمان اور اعتبار ختم نہ ہو اور وہ اپنی اس اچھی عادت پر قائم رہے۔

میرے اصرار کے باوجود اس نے آٹھ سو روپیہ لینے سے انکار کیا اور کہا کہ سر آپ کا اس میں کیا دوش۔

میں بھاری قدموں اور بوجھل دل کے ساتھ فلم دیکھنے تو لوٹ گیا لیکن سارا وقت فلم کے بجائے میرے ذہن میں لندن کے ٹیوب اسٹیشن اور جیولری شاپ کی لڑکیاں اور سرگودھا سے تعلق رکھنے والا راولپنڈی کے سینما ہاؤس کا مقبول گھومتے رہے کہ انہی کرداروں کی وجہ سے شاید ابھی بھی سب کچھ ختم نہیں ہوا، ابھی بھی کچھ باقی ہے!

19 ستمبر 2011

لندن کے کلچرل شاکس اور راولپنڈی سینما ہاؤس کا مقبول! (1)۔

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “لندن کے کلچرل شاکس اور راولپنڈی سینما ہاؤس کا مقبول! (2)۔

Comments are closed.