انکار کرنا سیکھیں


\"\"ہمارے دیس میں،باعزت طریقے سے ریٹائر ہوجانا،بلکہ باعزت طریقے سے اس دنیا سے رخصت ہوجانا بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔اس امر میں گورنر سندھ کی وفات ایک بہترین مثال ہے۔ یہ ایک ذہین انسان تھے،انہوں نے ملک کے بہترین عہدوں پر کام کیا،یہ چیف جسٹس بھی رہے،انہوں نے زندگی کی بہترین بہاریں دیکھیں،بھرپور وقت گزارا،عمر کے آخری حصے میں،انہیں گورنر سندھ کے عہدے کی پیشکش ہوئی۔وہ ضعیف تھے،انتہائی علیل بھی،پہلے بہترین عہدوں پر رہ چکے تھے،پھر بھی سعید الزمان نے عہدہ قبول کرلیا،حلف اٹھا لیا،وہ اچھے سے جانتے تھے،اس عہدے کے لیے وہ فٹ نہیں ،ان سے بہترین لوگ میدان میں موجود ہیں،ایک جسٹس یہ کیسے سمجھ نہیں سکا کہ وہ اس عمر میں گورنر بننے کے قابل نہیں ،فرائض انجام دینے کی قوت کھو چکا ہے۔
بہرحال عہدہ انہوں نے قبول کرلیا،اور گورنر بن گئے،جس کے بعد شب و روز ان کے ہسپتالوں میں بسر ہونے لگے،کئی مرتبہ آئی سی یو تک کی نوبت آئی۔بالآخر ایک روز وہ خالق حقیقی سے جاملے۔ یہ خبر نشر ہوئی، مجھے نیوز روم میں،سوگ محسوس ہوا نہ ہی سماجی روابط کی ویب سائٹس پر۔سچ کہوں تو میں نے لوگوں کو مسکراتے بھی دیکھا۔ کیوں؟ ان کا غلط فیصلہ۔
یہ مسئلہ صرف گورنر سندھ ہی کا نہیں تھا،ہمارے بہت سے لوگوں کا ہے۔ ہمیں انکار کرنا سکھایا نہیں جاتا،یا پھر ہم سیکھتے نہیں،ہماری نیتیں بھی نہیں بھرتیں۔کتنی شخصیات ایسی ہیں جو با عزت طریقے سے سبکدوش ہوئیں،کوئی الزام نہیں لگا،آخرت کا سفر بھی با عزت رہا اور عوام سوگوار بھی ہوئے۔
معروف کھلاڑی شاہد آفریدی ہوں یا حالیہ ریٹائرڈ آرمی چیف یا دیگر افسران،ان کی فہرست دراز ہے۔ یہ لوگ باعزت طریقے سے ریٹائر ہوتے ہوتے غلط فیصلوں کی طرف چل دیے۔آخر کتنا دشوار ہے،سچ کو تسلیم کرلینا،میں نے عمر بھر بہترین کام کیا،میرے کام کرنے کی عمر تمام ہوئی،اب مجھے گھر جاکر آرام کرنا ہے۔ دوسروں کو موقع دینا ہے۔ یہ کتنا مشکل ہے؟
اب تصویر کے دوسرے رخ کی طرف آتے ہیں،کیاہوتا اگر ریٹائرڈ جسٹس سعید الزمان گورنر کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیتے؟ میرے خیال میں ان کا قد مزید بڑھ جاتا۔
امریکی صدر ہوں،برطانوی افسر،فرانسیسی پروفیسر یا دیگر اقوام کے عوام،یہ لوگ عمر بھر بہترین کام کرتے ہیں اور عمر کے آخری حصے میں سبکدوش ہوکر گھر چلے جاتے ہیں،پرسکون زندگی گزارتے ہیں۔ ثابت کیا ہوا؟ بس یہ فیصلہ ہمارا اپنا ہوا کرتا ہے،ہم نے کب اور کیسے زندگی بھر کی محنت کے بعد سبکدوش ہوجانا ہے۔ میرے خیال میں آپ کے جانے پر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو ہی بہتر ہیں مسکراہٹ نہیں۔

اسی بارے میں: ۔  کشمیر میں تحریک کے پچاس دن اور ہماری بے حسی

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔