میں شکر ونڈاں رے


IMG_1643 (1)ویگن سے اترتے ہی زاد سفر کو اپنے کندھوں سے اتارا۔ چلنے کی بجائے بھاگنے کو فوقیت دی۔ منزل مقصود پر پہنچتے ہی دروازے کی گھنٹی پر ہاتھ رکھا اور ہاتھ اٹھانا بھول گیا۔ دروازے کھلا تو ماں پھولوں کا ہار تھامے ہماری منتظر تھی ۔ ایک ملازم مٹھائی کا ڈبہ لیے مسکرا رہا تھا ۔ ہمارے دل میں بھی لڈو پھوٹ رہے تھے اور ہمارے کانوں میں شکر ونڈاں رے کی دھن بج رہی تھی۔ ماں نے ملتے ہی ہماری نظر اتاری۔ ہم پر باری باری سب گھر والے واری واری گئے۔ لمبی زندگی کی دعائیں ملیں ۔ ماں شکرانے کے نوافل ادا کرنے سجدہ ریز ہوگئی ۔ روز کی دیگ چڑھانے کی ہمارے گھر والوں کی اوقات نہیں اس لیے کسی ایک آدھے غریب کو کھانا کھلانے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔

یقین جانیے نہ تو ہم روزحج یا عمرے کی ادائیگی کر کے گھر کو لوٹتے ہیں اور نہ ہی ہماری واپسی کسی میدان جنگ سے ہوتی ہے۔ یہ ہے واپسی کی روداد ۔ کہاں سے واپسی کی یہ راز آگے چل کر فاش کرئیں گے۔ آغاز سفر کے بارے میں بھی کچھ گوش گزار کر دوں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ علی الصبح نماز فجر کے وقت ہمارے کمرے کا دروازھ کھلتا ہے تو ہمارے گھر والے یکے بعد دیگرے ہمارے اوپر نماز کے بعد پھونکیں مارنے کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ جب ناشتہ کا وقت آتا ہے تو ہم کو گزرا ہوا زمانہ یاد آتا ہے۔ یہی سال پہلے جب ہمیں ناشتے میں کبھی حلوہ پوری ،نہاری،پائے یا پھر کبھی کلچہ چنے اور ساتھ پیڑے والی لسی دی جاتی تھی اس کے باوجود بھی ماں یہی کہتی تھی کہ میرا لال کچھ کھاتا نہیں۔ اگرچہ اس وقت ہمارے جسم پر سب سے نمایاں چیز توند تھی۔ مگر اب ہمیں اس طرح کے ناشتہ سے مکمل طور سے پرہیز کروایا جاتا ہے۔

مرغن غذا سے دوری کو بہتر سمجھا جاتا ہے۔ جس غذا سے جسم چاق وچوبند رہے ، ہمیں بھاگنے میں آسانی ہو مشکل وقت میں دماغ بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھے اس ہی غذا کو فوقیت دی جاتی ہے اور ہمیں رخصت کرتے ہوئے ماں اپنے آنچل سے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے روز یہ ہی کہتی ہے کہ آنکھ میں کچھ گر گیا ہے۔ اس کےچہرے پر خوف نمایاں دکھتا ہے۔

ارے ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ ہفتہ میں پانچ دن ہمارا استقبال اور ہمیں الوداع اس ہی جذبہ سے کیا جاتا ہے۔ ہم نہ وڈیرا ہیں، نہ ہی ہمارا تعلق کسی شاہی خاندان سے ہے ،نہ ہی ہم نوابزادے ہیں اور نہ ہی ہماری سات پشتوں میں سے کسی کا تعلق سیاست سے ہے سات پشتوں کا ذکر اس لیے کیا کہ ہمارے اکثر سیاست دان ایک باری میں ہی اپنی سات نسلوں کے لیے جائیدایں تیار کر لیتے ہیں۔

ہم تو سیدھے سادھے اپنے گھر کے چشم و چراغ ہیں جس کے گل ہونے کے خوف سے ہمارے ناز نخرے اٹھائیں جاتے ہیں۔ یعنی کہ ہم پاکستانی اور علم کے متلاشی ہیں جس کو زبان زد عام میں طالب علم بھی کہا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے ملک میں جو ہولناک دہشت گردی ہوئی ہے اس نے ہماری زندگی یکسر بدل ہی ڈالی ہے۔ ہمارے استقبال اور الوداع کی روداد تو آپ کو سنا دی ہے جس جس طرح دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے تو اب ہمیں لگتا ہے کہ لنچ میں انڈا ٹوسٹ ،برگر ،پیزا کے بجائے چند کارتوس ایک عدد چھوٹا ریوالور ،ایک عدد تیز دھار چاقو، چلی اسپرے اور پانی کی بوتل تھما دی جائے گی اور اس کے ساتھ ہمیں یہ کہا جائے گا کہ بیٹا اگر تم بچ گے تو کھانا گھر آکر کھا لینا اور اگر دہشت گردوں سے مقابلہ ہوا تو یہ چیزیں کھانے سے زیادہ مددگار ثابت ہوں گی۔ آپ سوچ میں ہوں گے کہ ان لوازمات کے ساتھ پانی کی بوتل کی کیا ضرورت۔ دراصل جب ہماری عمر کے بچوں کو اس طرح کے دہشت ناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہم اپنی چیخ و پکار پر قابو نہیں رکھ پاتے اور اس چیخ وپکار کی وجہ سے ہمارے حلق میں کانٹے چبھتے ہیں۔ اس چبھن کو دور کرنے کے لیے پانی از حد ضروی ہے۔

آرمی پبلک اور باچا خان یونیورسٹی کے سانحے نے ہمارے والدین کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ وہ کانٹوں پر لوٹتے رہتے ہیں جب تک ہم اپنی اپنی درس گاہوں سے واپس نہیں آجاتے وھ مصلے پر بیٹھے ہمارے لیے دعا گو رہتے ہیں۔ مگر اس قوم کے حکمران غفلت کی گہری نیند سو رہے ہیں جب کبھی دھماکوں سے یہ بیدار ہوتے ہیں تو اس کے حل کے لیے اپنے گھروں کی چار دیواری اور اپنے اردگرد سیکورٹی کو بڑھا لیتے ہیں اور اس ہی سیکورٹی کے حصار میں جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں اور پھر انسانی جانوں کی بولی لگتی ہے۔ مرنے والا کبھی 25 ہزار، 50 ہزار، ایک لاکھ وغیرہ میں خریدتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ کبھی سیکورٹی کے نام پر اسکولوں کی چھٹی کر دی جاتی ہے۔ چھٹی سے یاد آیا پہلے کبھی جب ہم چھٹی کرلیتے تو باری باری سب گھر والوں کے سامنے پیشی ہوتی تھی مگر اب چھٹی کر لینے پر سب سے پرسکون چہرہ ماں کا دکھائی دیتا ہے۔ ایسا ہر گز نہیں کہ مائیں موت کی حقیقت سے آشکار نہیں۔ وھ جانتی ہیں کہ زندگی ایک سفر ہے جس کا اختتام موت ہے وھ تو بس اپنی زندگی میں چھوٹے چھوٹے بچوں کے بھاری بھاری تابوتوں سے خوف زدہ ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments