انتظار ابھی باقی ہے میرے دوست!


husnain jamal (3) سب سے اچھی موت وہ ہے، کہ جب آئے تو آدمی زندہ ہو!

پروفیسر کرار حسین کی یہ بات ایسی کسوٹی ہے کہ جس پر آپ سب سے اچھی موت کو بہ خوبی پرکھ سکتے ہیں۔ انتظار صاحب بھی ایسے ہی گئے۔ وہ زندہ تھے تو انہیں موت آئی۔ لیکن وہ زندہ اب بھی ہیں، ہمارے دلوں میں، ہماری کتابوں میں، ہماری یادوں میں۔ اور وہ کبھی نہ بھلائے جانے کے لیے زندہ ہیں۔

اس سب کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کی موت کے منتظر ہوتے ہیں، کہ وہ مریں تو ہم اپنا کام شروع کریں۔ ایسی مخلوق گلی محلوں میں بھی آپ کو دکھائی دے گی، برادریوں اور خاندانوں کی سطح پر بھی ایسے شرفا نظر آئیں گے اور ادب میں بھی ان کرگسوں سے آپ کا پالا پڑے گا۔ اب ہوتا کیا ہے کہ مرنے والا تو خیر رخصت ہو گیا، یہ حضرات پرانے میلے کپڑے نکال کر بیچ چوراہے میں دھونا شروع کر دیتے ہیں۔ اور ایسے غضب کے چھینٹے اڑاتے ہیں کہ ہر راہ چلتا شرابور ہو جاتا ہے۔

انتظار صاحب کی رحلت کے بعد کل ایک اسی قسم کا مضمون پڑھا۔ بھئی آپ کو ایسے ہی بل پڑ رہے تھے تو مرحوم کی زندگی میں آپ کیوں نہ بولے؟ یہ تمام اعتراضات وفات کے فوری بعد کرنے میں آپ کو کے نفلوں کا ثواب ہوا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسے بے بنیاد اور لغو اعتراضات کہ کیا ہی کہنے۔ میلے کپڑوں کی اصطلاح اس لیے استعمال ہوئی کہ تاریخ کی چند ستم ظریفیاں جو موصوف نے انتظار صاحب کے نامہ اعمال میں درج کیں وہ درحقیقت جناب کی کوتاہ فہمی کا نتیجہ تھیں۔ یوں جان لیجیے کہ کپڑے ان کے میلے تھے لیکن اس سب کے ذمہ دار ہمارے انتظار حسین ہرگز نہ تھے۔

Intizar Hussainایک ذی شعور قاری یہ سوال بھی ہر سکتا ہے کہ اگر ایسا نفرت انگیز مواد آپ پڑھ ہی گئے تو جواب دینا کیا ضروری تھا، کندھے اچکا کر بے رخی کا اظہار کر دیتے اور اپنی راہ لیتے۔ اس قاری سے بس یہ کہنا ہے کہ صاحب آپ کی رائے سر آنکھوں پر لیکن اگر یہاں کسی اور کی بات ہوتی تو فقیر بے شک یہی کرتا، یہاں تو معاملہ ہمارے انتظار صاحب کا ہے، جو ہمارے دلوں کے امیر ہیں۔

سب سے پہلا اعتراض کسی بھی چاہنے والے کو اس عنوان پر ہوتا ہے۔ “انتظار ختم ہوا” اچھا بھئی، آپ کو اگر ایسا ہی انتظار تھا یہ مضمون لکھنے کا تو فبھا، عنوان سے ہی آپ کی چشمک پھوٹی پڑ رہی ہے۔ اور اگر یہ انتظار صاحب کی وفات کا تذکرہ ہے تو معذرت کے ساتھ، کیا وہ آپ کے ساتھ گلیوں میں کھیلے تھے جو اس قسم کا عنوان پیش کیا جا رہا ہے؟ اس عنوان ہی سے دراصل وہ تکلیف دہ فضا قائم ہوتی ہے جو مضمون کے آخر تک چلی جاتی ہے۔

پہلی سطر میں موصوف فرماتے ہیں۔ “اردو کا نوحہ تو انھوں نے خوب رقم کیا مگر اس زبان کو پاکستانی مادری زبانوں سے جوڑنے کی بصیرتوں سے دور ہی رہے۔”

سرکار، پہلی بات تو یہ کہ اگر آپ انہیں پڑھ لیتے تو ان کے بیان کردہ نوحوں کا اندازہ بھی آپ کو بہتر ہو جاتا۔ وہ نوحہ اس تہذیب کا نوحہ تھا جو بفضل خدا آج ہمیں یہ نوحہ کہنے پر مجبور کر رہی ہے۔ وہ نوحہ ان کے ماضی کا نوحہ تھا، وہ نوحہ ان کی جنم بھومی کا نوحہ تھا، وہ نوحہ مناظر فطرت کی بدحالی کا نوحہ تھا، وہ نوحہ بدلتی قدروں کا نوحہ تھا۔ وہ نوحہ بدلتے زمانوں کا تھا، وہ نوحہ تیزی سے بدلتی دنیا کا تھا وہ نوحہ اردو کا بہرحال نہیں تھا۔ اردو زبان میں لکھنا اگر آپ کے نزدیک ان کا قصور تھا تو یہ مادری زبانوں والی بصیرت آپ کو مبارک ہو۔

موصوف ایک سطر بعد نوحہ کناں ہوتے ہیں “ترقی پسندوں اور روسی انقلاب سے انہیں چڑ تھی جو انہیں مذہبی قوم پرستی کی دلدل تک لے گئی۔”

حضور انہیں اس دنیا میں سوائے احمقوں کے اور کسی سے چڑ نہیں تھی۔ چوں کہ وہ کبھی ہستی کے فریب میں آئے ہی نہیں اس لیے ان کا عالم حلقہ دام خیال ہی رہا۔ ہر قسم کے “ازم” سے انہیں بہ خوبی پرہیز تھا اور یہی صفت انہیں ہمیشہ ممتاز رکھنے کے لیے کافی ہے۔ اگر ایک تخلیق کار اپنا دامن آس پاس کی آلودگی سے بچا کر چلنا چاہتا ہے تو آپ اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ ان کا تو کہنا ہی یہی تھا کہ تحریر سے یہ ثابت نہیں ہونا چاہیے کہ یہ کسی تحریک سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے، اور وہ اس پر عمل پیرا بھی رہے۔ آپ بتائیے آج کتنوں کو آنچل سے پرچم بنانا یاد ہے یا سرخ سویرے کی آرزو ہے، صاحب موسمی بخار ہاتھ کے ہاتھ اتر جائے تو بہتری ہوتی ہے، اور وہ یہ بات بھی بہ خوبی جانتے تھے۔ اپنی سوچ میں انتظار صاحب ترقی پسندی سے زیادہ معقولیت پسند تھے اور تمام عمر ان کا یہی شیوہ آپ ان کی تحریروں میں دیکھ سکتے ہیں۔

literary-legend-intizar-hussainاگلا اشقلہ ملاحظہ کیجیے؛ “انتظار حسین نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا، مذہب و قوم پرستی کا کشتہ بنایا، کہانیاں لکھیں، ترجمے کیے اور کالم نویسی بھی کرتے رہے۔”

اس بات کے جواب میں اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ ذرا ایک بار دل لگا کر اور تعصب کی عینک اتار کر انتظار صاحب کی تمام کتابیں پڑھ ڈالیے، مذہب اور قوم پرستی کا کشتہ کہیں نظر آئے تو فرمائیے گا۔ یہ مضمون غالباً آپ نے سلسلہ شہابیہ کے واسطے لکھ رکھا ہو گا جو بغیر دیکھے یہاں چپکا دیا۔ اور یہ گھاٹ گھاٹ کا پانی کن معنوں میں لکھا ہے، غالباً پنجابی میں اس محاورے کا محل کچھ اور ہو گا، چلیے بہتر ہے۔ آگے وقت ضائع کرتے ہیں۔

یہ سطور دیکھیے؛ “ان کی نظر کبھی پنجابی زبان سے ہونے والی زیادتیوں کی طرف نہ گئی حالانکہ وہ 68 سال پنجاب ہی میں رہے۔ شاید ان کی ملاقات سید اختر حسین سے نہ ہوئی تھی جو پشتو بولنے والے گھرانے میں پیدا ہوئے تھے مگر لاہور بسنے کے بعد نہ صرف پنجابی کے لکھاری بنے بلکہ تاعمر پنجابی کا رسالہ ”لہراں“ نکالتے رہے۔”

عرض یہ ہے محترم کہ آپ کسی لکھنے والے کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ اپنی ماردی زبان کو چھوڑ کر آپ کی مادری زبان میں لکھے۔ نہ آپ اس بات کا اخلاقی طور پر گلہ کر سکتے ہیں۔ رہی پنجاب میں اردو کی بات تو بھئی وہ تو مسعود سعد سلیمان آپ سے بہت پہلے کوئی پانچویں صدی ہجری میں آغاز کر چکے تھے، کچھ محقق تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اردو شروع بھی لاہور سے ہوئی اور انہیں کے زمانے سے ہوئی۔ پھر اپنے محمد حسین آزاد تھے، اقبال تھے، فیض تھے، مجید امجد تھے، خدا سلامت رکھے مرزا اطہر بیگ ہیں، تارڑ صاحب ہیں، وجاہت مسعود ہیں، ضیاالحسن ہیں، ان کی نظر بھی تو پنجابی زبان سے ہونے والی “زیادتیوں” پر نہیں جاتی۔ آئیے، ان سے دو دو ہاتھ کیجیے۔ وہ لہراں رسالہ کب نکلا کہاں نکلا ہمیں نہیں خبر، ہاں بستی کے پائے کا کوئی ایک ناول لے آئیے، پھر بات کر لیتے ہیں۔ بات تو بیٹھ کر ہی ہوتی ہے، ہوتی بھی دلائل سے ہے، فریق بھی ہم وزن چنے جاتے ہیں، تو پھر جا کر بحث کا مزا بھی آتا ہے، ہے نا؟

اور بھائی، انتظار صاحب تو ریکارڈ شدہ انٹرویو میں یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ترقی پسند تحریک اب تاریخ کا ایک حصہ ہے، اس دور میں بہت اہم ادب تخلیق ہوا، ہمیں اس دور کو اس نظر سے دیکھنا چاہئیے کہ کب کب کیسا کیسا عمدہ بھی لکھا گیا۔ تو آپ بغیر کچھ جانے توپوں کے دھانے کیوں موڑے بیٹھے ہیں؟

چند اور نشتر محسوس کیجیے۔ یہ نشتر انتظار صاحب پر نہیں ہم سب پر ہیں، تو ہم سینہ سپر ہیں، ملاحظہ فرمائیے؛

” دسمبر 1971 نے انہیں جھنجوڑا تو ہوگا مگر انہیں بہاریوں پر ہونے والے مظالم زیادہ یاد رہے۔’ حکمران زبان‘ ا±ردو کا نوحہ لکھتے وہ انگریزی کے کالم نویس بھی بن گئے۔ انہیں بجا طور پر یہ ڈر تھا کہ ا±ردو تو اس خطہ کی زبان نہیں اس لیے کسی بھی وقت اس ’پرائی زبان‘ کی حمایت ختم ہوسکتی ہے۔ ان کا ایک اور شوق تین نسلوں سے پنشن لینے والے بادشاہ کی سربراہی میں لڑی جانے والی ’تحریک آزادی‘ کی حمایت تھی جسے ’پہلی جنگ آزادی1857 ‘ کا عنوان دیا جاتا ہے مگر اس میں وہ تنہا نہیں تھے۔”

موصوف نے بستی کے آخری باب شاید بہ غور نہیں دیکھے، شہر افسوس سے بھی کوتاہ نظری فرما گئے ورنہ یہ اکہتر والی بات نہ کرتے۔ اور بہاریوں والے مظالم کیوں نہ یاد رہتے بھئی؟ کیا بہاری انسان نہیں ہیں یا آپ زیادہ بہتر انسان ہیں؟

دوسری بات کی طرف آتے ہیں، خدا کرے اردو ہی حکم ران رہے، اور ایسا ہی ہو گا، تو قبلہ انگریزی میں لکھنا ہر ذی عقل کے لیے اس حیثیت میں لازمی ہے کہ اس نے اپنی بات دنیا تک پہنچانی ہے۔ آپ فقیر کی مثال لے لیجیے، آج تک آپ سے ناواقف تھا، آپ نے اردو میں لکھا تو گستاخی کر بیٹھا۔ یہی مضمون انگریزی میں ہوتا تو پوری دنیا سے مجاہدین آپ کے درپے ہوتے، اب ذرا پنجابی میں بھی دل کی بھڑاس نکالیے، یقین جانیے غش آ جائے گا کوئی فیڈ بیک نہ دیکھ کر۔ پنجابی رابطے کی بہترین زبان ہے، ستر سال میں آپ اس سے کیا مزید نکال پائے ہیں؟ یا اگلے ستر سال میں پنجابی زبان پنجاب کے فروغ میں کیا نمایاں کام سرانجام دے سکتی ہے، بتائیے؟

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا، جاگ جاﺅ بابا، اردو کا بھی دور نہیں ہے، صرف انگریزی ہی بین الاقوامی طور پر رابطے کی زبان ہے اور سائنس کے ساتھ منسلک بھی ہے، یہ بات انتظار صاحب سے لے کر یہ ادنی درجے کا طالب علم بہ خوبی جانتا ہے۔ اب کوئی “میں نہ جانوں” پر اصرار کرے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اور رہی سن ستاون کے غدر کی بات، تو صاحب ذرا خیال کا ستاون نمبر دیکھ لیجیے جو انہوں نے اور ناصر کاظمی صاحب نے مرتب کیا تھا، تین نسلوں سے پنشن لینے والے بادشاہ کے سامنے کیا مسائل تھے، اور وہ بوڑھا آدمی ان سے کیسے نمٹا، اس معاملے پر اس سے بہتر دستاویز شاید ہی دوبارہ مرتب ہو۔ اور ستاون میں تو انہیں سینتالیس کا رستاخیز دکھتا تھا، آپ کیا دیکھتے ہیں، یہ آپ جانیں۔ ویسے ماشاللہ ابھی تک اس مضمون کی گل افشانیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حامل خیالات ہذا بزرگان کی موجودگی میں انتظار صاحب ایسے معقول انسان نے وہی کیا جو انہیں ترقی پسندوں کے ساتھ کرنا چاہئیے تھا، یعنی مکمل احتراز۔

اب موصوف کا مضمون آخری دموں پر ہے، تحریر میں ربط بھی کچھ اکھڑا ہوا سا ہے، بہ ہر حال یہ ایک تکلیف دہ اقتباس اور دیکھیے، دو تین بار پڑھیے گا تو شاید سمجھ آئے، خیر کوشش کیجیے؛

“وہ طالبان کے مخالف طالبان کے مکتبہ فکر(فرقہ) کی وجہ سے تھے، طالبان کی پٹھان شناخت کی وجہ سے یا پھر طالبان کا بیانیہ انہیں اب غلط لگتا تھا، اس کا جواب آپ ان کی تحریروں میں ڈھونڈیں اور جب مل جائے تو دوسروں کو بھی بتائیں۔”

وہ طالبان کے مخالف صرف اس وجہ سے تھے کہ ہر امن پسند شہری کسی بھی ایسی جنگ جو تنظیم سے نفرت کرتا ہے۔ اگر آپ یہاں انہیں شیعہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں تو بسم اللہ، جو کام وہ خود تمام عمر نہیں کر پائے وہ آپ کر دیجیے۔

ایک شخص جو اردو میں لکھتا ہے، آپ کے لاہور اور آپ کے پاکستان کی خیر مانگتا ہے، ایک نسل اسے پڑھ کر جوان ہوتی ہے، زبان سیکھتی ہے، امن پسندی کا درس لیتی ہے، جاتک کتھاوں سے محبت پاتی ہے، تہذیب کا سرا تھامتی ہے، آپ اس شخص کے بارے میں ایسی نازیبا اور تکلیف دہ باتیں کیوں کر تحریر کر سکتے ہیں، شاید تبھی، جب آپ اس تحریک کا حصہ ہوں جس میں وہ شخص تمام عمر شامل نہ ہوا!

سب سے اچھی موت وہ ہے، کہ جب آئے تو آدمی زندہ ہو! اور ہمارے انتظار صاحب زندہ ہیں! زندہ رہیں گے!

پس نوشت: مضمون نگار کا نام نہ لینے کا مقصد ان کا شخصی احترام ہے۔ اسے برداشت کیجیے۔ شکریہ۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 145 posts and counting.See all posts by husnain

2 thoughts on “انتظار ابھی باقی ہے میرے دوست!

  • 09-02-2016 at 8:21 am
    Permalink

    عامر ریاض کے رد میں لکھی گئی

  • 11-02-2016 at 4:44 pm
    Permalink

    Hasnain bhai, God bless you. .

Comments are closed.