کزن میرج سے متعلق کچھ حقائق


\"\" میں‌ ایک اینڈوکرنالوجسٹ ہوں۔ اینڈوکرنالوجی ہارمون سے متعلق بیماریوں‌ کے علاج سے متعلق ہے۔ پاکستان سے میڈیکل کالج ختم کرنے کے بعد یو ایس ایم ایل ای امتحان دئیے، ٹوفل دیا۔ کلینکل اسکل ایگزام بھی پاس کیا، اس کے بعد انٹرنل میڈیسن میں ریزیڈنسی کی، پھر اینڈوکرنالوجی میں فیلوشپ کی۔ اینڈوکرنالوجی میں‌ فیلوشپ کرنے کے بعد میں‌ چانڈکا میڈیکل کالج کی پہلی اسٹوڈنٹ بن گئی جس نے اس فیلڈ میں‌ مہارت حاصل کی ہو۔ دونوں‌ انٹرنل میڈیسن اور اینڈوکرنالوجی کے امریکن بورڈ ایگزام پاس کئیے۔ اس کے بعد ہارورڈ میڈیکل اسکول میں ایک سال ریسرچ اور بائیو اسٹیٹ کا کورس بھی کیا۔ ہماری ہارورڈ کورس کی کلاس میں ساری دنیا کے اسٹوڈنٹس تھے جن میں‌ سے کافی سارے سعودی عرب اور دبئی سے بھی آئے ہوئے تھے۔ میرے گروپ میں ایک روسی تھی، ایک دبئی کی، ایک انڈین، ایک فلسطینی امریکن، ایک پاکستانی امریکن اور ایک سعودی عرب کی ریاض یونیورسٹی کے جینیات کے ماہر تھے جن کے ساتھ کئی پروجیکٹس پر کام کیا۔

میں ایک ماں ہوں جس کے دو بچے ہیں۔ شادی کلاس فیلو سے کی تھی، عمر بھی برابر ہے اور کزن بھی نہیں تھے۔ بچے ہمارے خوبصورت اور ذہین ہیں۔ سب ماؤں‌ کو اپنے ہی بچے سب سے خوبصورت لگتے ہیں ہو سکتا ہے کہ کسی اور کو نہ لگیں۔ دن کے آخر میں‌ ایک بچہ ماں‌ کی ہی ذمہ داری ہوتا ہے چاہے کوئی کچھ بھی کہتا رہے، یہ ایک عالمی حقیقت ہے۔ اس لئے ہر ماں کو یہی کوشش کرنی ہوگی کہ اس کے بچے جتنا ہوسکے صحت میں ٹھیک ہوں، زندہ رہیں اور دنیا میں‌ کامیاب ہوں۔ وہ بڑے ہوکر مضبوط انسان بنیں‌ جو اپنے اردگرد کی دنیا کو اوپر اٹھا سکیں نہ کہ یہ کہ ان کی وجہ سے اردگرد کے لوگوں‌ کو آہستہ چلنا پڑے۔

جب نوید ابھی دو سال کا بھی نہیں‌ ہوا تھا تو ایک دن میں کام پر تھی، میری امی نے فون کیا کہ نوید باہر جھولے سے گر گیا ہے، وہ چل نہیں سک رہا اور روئے جا رہا ہے۔ اس کو بیک گراؤنڈ میں چلاتے ہوئے میں سن سکتی تھی۔ میری باس ڈرائیو کرکے گھر لائی، اس کو دونوں‌ بازوؤں میں‌ اٹھا کر میں‌ ایمرجنسی لے گئی جہاں‌ ایکس رے سے پتا چلا کہ فیمر چاک کی طرح‌ ٹوٹا ہوا ہے۔ جب اس کو آپریٹنگ روم میں‌ لے گئے تو حالانکہ باہر بہت ساری کرسیاں‌ تھیں‌ لیکن میں‌ زمین پر گھٹنوں کے بل گر گئی اور زور زور سے رونے لگی۔ اپنے دل میں‌ اتنی تکلیف نہ کبھی اس سے پہلے محسوس کی اور نہ ہی دوبارہ۔ اس کو پلاستر چڑھا کر انہوں‌ نے واپس کیا تو وہ ادھر ادھر بھاگ نہیں‌ سکتا تھا اور آدھی رات میں اٹھ جاتا اور ہم دونوں‌ ساری رات بارنی کی وڈیوز دیکھتے تھے۔ اس نے ان مجبور حالات میں بولنا بھی سیکھ لیا تھا۔ بار بار کہتا کہ \”ممی گود میں‌ لے لو!\”

میڈیکل اسٹوڈنٹ ہونے کے ناطے مجھے یہ معلوم تھا کہ بچے 35 سال کی عمر کے بعد پیدا کئیے جائیں تو ان میں‌ ڈاؤن سنڈروم کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ نوید کا پلاستر ایک مہینے میں اتر گیا تھا۔ میرے بچوں‌ کو کوئی کزن میرج والی بیماریاں اگر ہوتیں‌ تو ہم کیا کرتے؟ ان بیچارے تھیلیسیما کے بچوں‌ کی طرح‌ خون چڑھا چڑھا کر زندہ رکھتے اور پھر ان کو مرتے دیکھتے۔ ان ماؤں‌ کی تکلیف کا میں سوچ بھی نہیں‌ سکتی ہوں۔ ہر انسان کو اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ کیا ہم ان لوگوں‌ کی زندگی کے بارے میں‌ فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں جو ابھی دنیا میں‌ آئے بھی نہیں؟

کائنات قدیم ہے اور ہماری انسانی زندگی ایسے ہے جیسے کوئی پلک جھپک لے۔ ہزاروں‌ سال پہلے لوگوں‌ کو یہ تک معلوم نہیں‌ تھا کہ حمل کیسے ٹھہر جاتا ہے، اس کو سمجھنے میں‌ بھی وقت لگا۔ پہلے زمانے میں‌ بہن بھائی بھی جوڑے بناتے تھے لیکن مشاہدے سے قدیم زمانے کے انسان نے یہ سمجھ لیا کہ بہن اور بھائی کے تعلق سے پیدا ہونے والے بچوں‌ میں‌ جسمانی بیماریاں بہت زیادہ تھیں اس لئیے آہستہ آہستہ یہ رواج ختم ہو گیا اور حالانکہ ریکارڈ کی ہوئی تاریخ‌ اور متھالوجی میں‌ کافی ساری مثالیں موجود ہیں جہاں‌ بہن بھائی نے شادی کی جیسا کہ یونانی خداؤں اور بادشاہتوں‌ میں‌ لیکن پھر بھی آج کی دنیا میں‌ بہن بھائی کے تعلق کو کائناتی طور پر برا سمجھا جاتا ہے۔

کزن میرج دنیا میں‌ ہمیشہ سے ہے۔ ساری دنیا کے سب انسان ایک دوسرے کے کزن ہی ہیں لیکن وہ کافی پچھلی نسلوں‌ میں‌ جا کر۔ کچھ ہزار سال پہلے یہ مشاہدہ بھی کیا گیا کہ قریبی رشتہ داروں‌ میں‌ بنائے ہوئے تعلقات سے ہونے والی اولاد میں‌ بیماریوں‌ کی شرح‌ زیادہ پائی گئی۔ اس وجہ سے آہستہ آہستہ تعلیم یافتہ انسان اور ممالک اس پریکٹس سے دور ہونا شروع ہوئے۔

آج انسان کا جینوم پڑھا جا چکا ہے اور بیماریاں‌ کس طرح‌ ایک نسل سے دوسری نسل میں‌ منتقل ہوتی ہیں، ہم ان کے بارے میں‌ اتنی تفصیل سے جانتے ہیں‌ جیسا پہلے ممکن نہیں‌ تھا۔ اس فیلڈ میں‌ بہت ریسرچ ہوچکی ہے۔ اب ہزاروں میل کا پیدل سفر کرکے کوئی بڑی لائبریری تلاش کرنے کی بھی ضرورت ختم ہوگئی۔ پب میڈ جیسی ویب سائٹس نے دنیا بھر کے اسکالرز کی تمام زندگی کی کھوج کے نتائج ہماری انگلیوں‌ کی پوروں‌ تک پہنچا دئیے۔

پی یو بی ایم ای ڈی ڈاٹ کام نیشنل میڈیکل لائبریری کی ویب سائٹ ہے جس کو دنیا کے کسی بھی کونے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں‌ ایک سرچ بار ہے جس میں‌ کسی بھی ٹاپک کو ڈال کر دنیا بھر میں‌ اس موضوع پر کی گئی تحقیق دیکھی جاسکتی ہے۔

ہیومن ہیریڈٹی جرنل میں‌ یونائٹڈ عرب ایمرٹس کے الغزالی ایل اور حمامی ایچ کے لکھے ہوئے 2014 کے پیپر کے مطابق عرب کم عمری میں‌ شادی کرتے ہیں اور ان کے بڑے خاندان ہوتے ہیں۔ عرب کچھ تہذیبی اور اعتقادی اقدار عزیز رکھتے ہیں‌ جس میں‌ خاندان کو ایک مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ کنسینگوئنس میرج یا کزن میرج عرب سماج کا ایک مرکزی ڈھانچہ ہے جس کو معاشرے میں‌ عزت حاصل ہے۔ عرب دنیا میں‌ پہلے کزن سے شادی تقریباً 25 فیصد جوڑوں‌ میں‌ پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے آٹوسومل بیماریاں بھی نئے پیدا ہوئے بچوں‌ میں‌ ترقی یافتہ ممالک کے مقابل کافی زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔ عرب جینیات کے ماہرین نے ایسی کئی بیماریوں پر ریسرچ کی ہے اور ان کی وجوہات اور بچاؤ پر روشنی ڈالی ہے۔ اس فیلڈ میں‌ مزید تحقیق کی ضروت ہے۔

جنوری 2017 میں‌ مصطفیٰ ایم اور ان کے کولیگز کے مٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ جرنل میں‌ چھپنے والے آرٹیکل کے مطابق پاکستان میں‌ کزن میرج کے نتیجے میں‌ پیدا ہوئے بچوں‌ میں‌ بیماریوں‌ اور موت کی شرح‌ زیادہ دیکھی گئی۔

اینلز آف ہومن بائیولوجی میں مظہرالاسلام کے 2016 میں چھپنے والے آرٹیکل کے مطابق عمانی کلچر میں‌ کزن میرج آج بھی قریب 49% ہے لیکن اس میں‌ حال میں کچھ کمی آئی ہے کیونکہ عوام میں‌ اس کے نتیجے میں‌ پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میں شعور بڑھا ہے۔ اب بھی عمانی سوسائٹی میں کزن میرج عام ہے اور اس سے پیدا ہوئے مسائل کے بارے میں مزید معلومات کی ضرورت ہے تاکہ ایسی شادیوں‌ سے ہونے والی بیماریوں‌ سے آنے والی نسلوں‌ کو بچایا جاسکے۔

پطرس بخاری نے اپنی کتاب میں‌ لکھا کہ عیسیٰ جب کسی مردے کو زندہ کرنا چاہتے تو ہلکی سی قم کہہ دیتے تھے، لٹھ لے کر مریض کے پیچھے نہیں پڑتے تھے۔ لوگ اپنی زندگی کیسے گذارنا چاہیں یا کیا فیصلے کریں‌ وہ خود ان پر منحصر ہے۔ ڈاکٹر کا کام صرف تشخیص کرکے دوا لکھنا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “کزن میرج سے متعلق کچھ حقائق

  • 15-01-2017 at 5:17 pm
    Permalink

    Lekin madum islam is bary kia kehta hy hazrat ayub aliesalam ki kitni bivian ti i lekin jb o bemar houe to baki sab bivian onhy chor k chaly gea ek on ki kzn ti jo on k ly mazdoori kr k on elaj or ghr hrcha chalatii

  • 15-01-2017 at 10:04 pm
    Permalink

    محبت ایک جبلی ضرورت ہے اور ایک مخصوص عمر میں اس کی ضرورت کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے. ہمارے جیسے گھٹن زدہ معاشروں میں تنگ ماحول کے باعث محبت بھی عموما کزن سے ہی ہو جاتی ہے کیونکہ اس چھوٹی عمر میں میل جول دوسروں کی نسبت اپنے ہی گھرانوں میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں ہمارا تعلیمی ماحول بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ کتنے لوگ ہیں جو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر پاتے ہیں ۔ جہاں “آپشنز” بھی زیادہ ہوتے ہیں اور دماغ بھی تھوڑا میچور ہوتا ہے۔ اور اس چھوٹی عمر میں ہم کزن میرج کے نقصانات کا شعوری اعادہ کربھی لیں تب بھی ایسی ہی کسی شادی پر مجبور ہوتے ہیں۔ کیونکہ تب مدنظر لاکھوں وہ مثالیں ہوتی ہیں جن میں کزن میرج کے باوجود بچے ٹھیک ٹھاک نظر آتے ہیں ۔ تب سوچ یہ ہوتی ہے کہ ہم وہ شاعر تھوڑا ہیں کہ آسمان سے بلا اترے اور ہمارا ہی گھر پوچھے

Comments are closed.