ماروی سرمد اور سوشل میڈیا پر جاری جنگ


\"\" ماروی سرمد معروف پاکستانی انگریزی اخبارات میں کالم نگاری کے ساتھ ساتھ بطور سماجی کارکن بھی کام کرتی ہیں۔ ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ٹویٹر پر بھی کافی سرگرم ہیں۔ سیکولر اور لبرل خیالات رکھتی ہیں، اپنے خیالات کا کھل کر اظہار بھی کرتی ہیں۔ غالباً ان کی تحاریر یا بیانات نے مخالف طبقہ کو ناراض کر دیا ہے۔ معلوم نہیں کہ دائیں بازو والوں کے ہاں دلائل کی کمی ہے یا برداشت کی یا پھر علم کی، لیکن مبینہ طور پر مذہب اور پاکستان کا نام بدنام کرنے پر ماروی کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

پورن دیکھنے میں نمبر ایک لوگوں نے پورن کا سہارا لیا، اور ماروی سرمد کا چہرہ برہنہ اجسام پر لگا کر ملکی سالمیت کی حفاظت کی کوشش کی گئی۔ گھٹیا سوشل پیجز، مشکوک ویب سائٹس  اور جعلی ٹویٹر اکاونٹس نے ماروی سرمد کا \”حقیقی چہرہ\” لوگوں تک پہنچانے میں  کلیدی کردار ادا کیا۔ ایک ٹاک شو میں محترمہ تمام صورتحال بیان کرتے کرتے رونے لگیں لیکن انٹرنیٹ پر ان تصاویر پر درندہ صفت قہقہے بلند ہوتے گئے۔ \”بندی والی اور ساڑھی والی ہندنی\” کو ہندوستان جانے کا مفید مشورہ بھی مفت ملتا رہا۔

میرا سوال صرف اتنا ہے کہ بحثیت قوم ہم اخلاقی طور پر اس قدر پست کیوں ہو چکے ہیں کہ ایک عورت ہمارے ایمان، ہماری ملکی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دے دی جاتی ہے اور کیوں ہمارے اندر کا جانور جاگ جاتا ہے؟ کیا ہم اسی طرح پاکستان میں اعلیٰ مذہبی اقدار کا نام بلند کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ہم اپنے مخالفین کو شکست دینے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں؟ زید حامد ٹویٹر پر ماروی کو را (RAW) کا ایجنٹ بھی کہتے ہیں، اگر ان کے پاس اتنے شواہد موجود ہیں تو عدالت کیوں  نہیں جاتے؟ ماروی سرمد کی تو صرف ایک مثال ہے۔ ہمارے اردگرد ایسی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  کشش کس چیز میں ہوتی ہے؟

فیک آئی ڈیز پر فیس بک لبرلز کی اکثریت بھی بالکل یہی کام کر رہی ہے۔ وہ بھی جہالت کا ری لوڈڈ ورژن ہیں۔ کسی مفتی کی فوٹو کو ایڈوب کر کے تضحیک کر دی جاتی ہے۔ کہیں سلو موشن ویڈیو سے کسی مولوی کو شرابی ثابت کیا جاتا ہے اور کہیں جامعہ بنوریہ کے لیٹر پیڈ پر اپنی مرضی کا فتوی داغ دیا جاتا ہے۔ دونوں طرف برداشت، دلائل کی انتہائی کمی۔ مکالمے اور دلیل کا تقاضا ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ ہمیں اختلاف رائے میں شائستگی کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عظیم نور کی دیگر تحریریں
عظیم نور کی دیگر تحریریں

2 thoughts on “ماروی سرمد اور سوشل میڈیا پر جاری جنگ

  • 14-01-2017 at 7:26 pm
    Permalink

    “کہیں سلو موشن ویڈیو سے کسی مولوی کو شرابی ثابت کیا جاتا ہے”

    jab molvi khud kahay keh paan khanay say aisa hua hai tu phir video kay slow honay ka ilzam kiyoon?

    “جامعہ بنوریہ کے لیٹر پیڈ پر اپنی مرضی کا فتوی داغ دیا جاتا ہے۔”

    jamia banoria kay nafrat kay fatway tv aur print media pay mufti naeemi khud brodcast kar ta hai is ko kesy jhutlain gay?

  • 16-01-2017 at 3:59 pm
    Permalink

    last para saved the whole write-up.. !

Comments are closed.