مندر کا شیر (3)


  \"\" میں نے جنگلی درندوں کی نبرد آزمائی بہت کم دیکھی ہے۔ یہ شاید میرا دوسرا تجربہ تھا۔ گڑھے کے اندر شیر اور ریچھ ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو رہے تھے اور ان کی تیز خوفناک آوازیں آس پاس گونج رہی تھیں۔ مقابلہ زبردست تھا۔ وقت ایک دم سانس روک کر کھڑا ہو گیا۔ شدت احساس سے میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔ یہ جنگ کوئی تین یا چار منٹ جاری رہی ہو گی۔ بہر حال جب شیر نے یہ سمجھا کہ وہ اپنے دشمن کو خاصا نقصان پہنچا چکا ہے تو چھلانگ لگا کر گڑھے سے باہر نکل آیا اور میرے سامنے سے تیزی سے بھاگتا ہوا نکل گیا۔ اس کے پیچھے چیختا چلّاتا ہوا ریچھ تھا۔ شیر ابھی میرے سامنے سے گزرا ہی تھا کہ میں نے بندوق اٹھا کر نشانہ باندھا اور گولی چلا دی۔ گولی کی آواز پر شیر غصے سے گرجا اور پھر گھاس میں چھپ گیا۔ چند لمحے وہ گھاس میں چلتا رہا اور پھر خاموشی چھا گئی۔ میرا خیال تھا کہ گولی اس کے دل میں لگی تھی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا تھا۔

اس قسم کے پہاڑی علاقے میں بندوق کی گولی کی آواز توپ کے گولے کی گرج سے کم نہیں ہوتی۔ مگر اس گرج کا پاگل ریچھ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ شیر کے تعاقب میں اندھا دھند میری طرف بھاگا چلا آ رہا تھا۔ میں ایک ایسے جانور کو ہلاک نہ کرنا چاہتا تھا جس میں اتنے عظیم دشمن کو بھگا دینے کی جرات تھی۔ لیکن اس کی میرے قریب تر آتی ہوئی منحوس چیخ میرے لیے ناقابل برداشت ہوتی جا رہی تھی۔ جب وہ مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر رہ گیا تو میں نے بندوق کی بائیں نالی کی گولی اس کے ماتھے میں پیوست کر دی۔ وہ پیٹ کے بل آہستہ سے زمین پر لیٹ گیا اور پھر نہ اٹھ سکا۔

جہاں ایک لمحہ پہلے دو خوفناک درندوں کی ہیبت ناک آوازوں سے جنگل گونج رہا تھا اب سارے میں مکمل خاموشی طاری ہو گئی تھی۔ میرا دل اپنی اصلی حالت پہ آیا تو میں پائپ سلگا کر اپنے اعصاب کو بحال کرنے لگا۔ ابھی میں نے بندوق کو اپنی گود میں رکھ کر پائپ کے ایک دو کش لگائے ہی تھے کہ اپنے سامنے کچھ فاصلے پر مجھے شیر بھاگتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ میری طرف نہیں اپنے مردہ دشمن کی طرف دیکھ رہا تھا۔

میں جانتا ہوں کہ یہ واقعات پڑھ کر ایک اچھا شکاری بلاشبہ مجھ پر ایک اناڑی شکاری ہونے کا الزام لگا دے گا۔ میرے پاس دفاع کی کوئی \"\"صورت نہیں لیکن میں اتنا ضرور کہوں گا کہ اپنی طرف سے میں پوری طرح ہوشیار تھا۔ جب میں نے شیر کی پشت پر گولی چلائی تھی تو مجھے یقین تھا کہ میں اسے ایک مہلک ضرب لگا رہا ہوں اور گولی چلانے کے بعد میں نے شیر کی جو چیخ سنی تھی اس سے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میں نے اسے ڈھیر کر لیا ہے۔ میری دوسری گولی سے ریچھ چت ہو گیا تھا۔ لہذا اب میں بندوق کو دوبارہ بھرنے کی ضرورت محسوس نہ کرتا تھا اور اسے اپنی گود میں رکھے ہوئے تھا۔

شیر کو ٹھیک ٹھاک دیکھ کر میں کوئی دو سیکنڈ حیرت میں غلطاں رہا۔ اس کے بعد میں نے جلدی سے رائفل میں کارتوس بھرے۔ اب شیر مجھ سے کوئی چالیس گز کے فاصلے پر تھا اور اس کی رفتار بھی مدھم ہو گئی تھی۔ وہ سامنے والی پہاڑی پر اسی ڈگری کا زاویہ بنائے ہوئے تھا۔ میں نے بندوق اٹھائی اور نشانہ باندھ کر داغ دی۔ شیر لڑکھڑاتا ہوا اپنے پچھلے قدموں پر گرا مگر پھر جلدی سے سنبھل کر پہاڑی کی دوسری سمت کود گیا۔ گولی شیر کے منہ سے کوئی پانچ انچ نیچے چٹان پر لگی تھی جس کے باعث شیر گھبرا کر پیچھے گر پڑا تھا مگر اب کے پھر صاف بچ کر نکل گیا تھا۔

تھوڑی دیر پائپ پینے کے بعد میں ریچھ کو دیکھنے کی نیت سے درخت پر سے اترا۔ میرے خیال کے برعکس ریچھ بہت بڑا نکلا۔ شیر سے اس کی لڑائی واقعی قابل تحسین تھی۔ اس کی گردن اور جسم پر دانتوں کے بڑے بڑے زخم تھے۔ جن سے خون رس رہا تھا۔ ممکن تھا وہ ان زخموں کی زیادہ پرواہ نہ کرتا مگر اس کی ناک پر جو زخم آیا تھا اس نے اسے مشتعل کر دیا تھا۔ ہر نر جانور ناک کے زخم کے متعلق بڑا حساس ہوتا ہے اور اسے ایک طرح اپنی ہتک محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا اور میری پہلی گولی کی آواز کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس نے شیر کا تعاقب جاری رکھا تھا۔

اب میرے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ میں ریچھ کی کھال اتارنے کے لیے اپنے آدمیوں کو بلاتا۔ لہذا میں انہیں ملنے کے لیے جھونپڑی کی سمت چل \"\"  پڑا۔ انہیں ساتھ لے کر میں شام سے پہلے ریسٹ ہاؤس میں پہنچ جانا چاہتا تھا کیونکہ اس علاقے میں آدم خور چیتا بھی تو گھوم رہا تھا۔ جھونپڑی کے باہر کوئی ایک درجن آدمی مجھے بڑے غور سے آتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ اور جب میں ان کے پاس پہنچ گیا تو حیرت کے مارے ان کی زبانیں گنگ تھیں۔ آخر بالا سنگھ کی زبان میں سکت آئی اور جب اس نے مجھے ساری بات سنائی تو مجھے اس پر حیرت نہ ہوئی کہ تمام آدمی مجھے کیوں اس طرح دیکھ رہے تھے۔ جیسے میں مردہ ہو کر جی اٹھا تھا۔ آخر بالا سنگھ کہنے لگا، “آپ نے ہمیں جھونپڑی کے اندر ٹھہرنے کی نصیحت کی تھی۔ اور جب ہم نے شیر کی پہلی گرج کے بعد آپ کی چیخ سنی تو ہمیں یقین ہو گیا کہ شیر نے آپ کو درخت سے نیچے گھسیٹ لیا ہے اور آپ زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اور جب شیر کی گرج بند ہو گئی اور آپ کی چیخ سنائی دیتی رہی تو ہم سمجھے کہ شیر آپ کو اٹھائے لیئے جا رہا ہے۔ بعد میں ہم نے آپ کی بندوق کی دو گولیوں کی آواز سنی۔ اس کے بعد تیسری آواز سے تو ہم بڑی شش و پنج میں پڑ گئے۔ یعنی شیر کے منہ میں آیا ہوا انسان کس طرح گولی چلا سکتا ہے۔ اور اب ہم مشورہ کر رہے تھے کہ آپ اس طرف آتے دکھائی دیئے۔ جس کے سبب حیرت کے مارے ہماری زبانیں بولنا بھول گئیں۔ ” بات یہ تھی کہ انسان اور ریچھ کی چیخ ایک دوسرے سے اس قدر ملتی ہیں کہ دور سے انسان ان میں امتیاز نہیں کرسکتا۔

تب میں نے ان سب کو شیر اور ریچھ کی خوفناک جنگ کے بارے میں بتایا۔ ریچھ کی چربی عام طور پر گٹھیا کے مرض کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ مجھے چربی کی ضرورت نہیں تو وہ بہت خوش ہوئے۔ دوسری صبح ہم ریچھ کی کھال اتارنے چل پڑے۔ میرے ساتھ آدمیوں کا ایک ہجوم تھا جو ریچھ کی چربی کے خواہش مند تھے۔ علاوہ بریں وہ ایک ایسے بہادر ریچھ کو دیکھنا چاہتے تھے جس نے شیر کو بھگا دیا تھا۔ لوگوں نے ریچھ کی چربی آپس میں تقسیم کر لی اور اس کی کھال میں نے بالا سنگھ کو دے دی جسے حاصل کر کے وہ خود کو سب سے زیادہ خوش قسمت تصور کر رہا تھا۔\"\"

شیر اس گائے کو کھانے دوبارہ اس جگہ نہ آیا۔ یوں بھی شام تک گِدھ اسے ختم کر چکے تھے۔

ریچھ کی چربی کی خبر تھوڑی دیر میں سارے نواحی علاقے میں پھیل گئی۔ یہ خبر محکمۂ جنگلات کے ایک محافظ کے پاس بھی پہنچی۔ اس کا باپ کئی برس سے گٹھیا میں مبتلا تھا۔ وہ چربی لینے کی خاطر دابیدھر کی سمت آ رہا تھا کہ راستے میں اسے چند مویشی بھاگتے ہوئے دکھائ دیئے۔ ان کے پیچھے پیچھے ایک نوجوان گڈریا بھی تھا۔ جس نے اسے بتایا کہ ابھی ابھی اس کی ایک گائے شیر نے ہلاک کر دی ہے۔ جب اس محافظ نے یہ خبر ہم تک پہنچائی تو میں اور وہ محافظ اس طرف چل پڑے۔ اس وادی میں دیودار کے درخت جگہ جگہ اگے ہوئے تھے۔ میں وادی کے کنارے پر کھڑا اپنے سامنے پھیلے سبزہ زار کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ پھر میں اور وہ محافظ وادی میں اتر گئے۔ تھوڑی دور چل کر ہمیں خشک پتّوں کا ایک ڈھیر دکھائی دیا۔ اگرچہ اس کے اندر سے گائے کے جسم کا کوئی حصہ دکھائی نہ دے رہا تھا۔ لیکن میں جانتا تھا کہ شیر نے گائے کو اس کے اندر چھپا رکھا ہے۔ بدقسمتی سے میں نے یہ بات اپنے ساتھی کو نہ بتائی۔ بعد میں اس نے بھی مجھے بتایا کہ وہ اس حقیقت سے بے خبر تھا کہ شیر اس طرح بھی اپنا شکار چھپا دیا کرتا ہے۔ جب شیر اس طرح اپنا شکار چھپا دیتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ فی الحال کہیں آس پاس نہیں ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ فرض نہ کر لینا چاہیے۔ اگرچہ وادی میں داخل ہونے سے پہلے میں نے اس کا بغور جائزہ لے لیا تھا۔ لیکن اب میں اپنی طرف سے پورا محتاط تھا۔

پتّوں کے اس ڈھیر سے کچھ فاصلے پر ایک پہاڑی پنتالیس ڈگری کا زاویہ بنا رہی تھی۔ اسی پہاڑی کے اوپر چالیس گز کے فاصلے پر جھاڑیوں کا ایک جھنڈ تھا۔ میں ان پہاڑیوں کو دیکھ رہا تھا کہ شیر پر میری نظر پڑ گئی۔ جو وہاں زمین پر لیٹا تھا۔ اور اس کی پشت میری طرف تھی۔ اس کے سر کا ایک حصّہ اور جسم کی ایک دھاری بھی مجھے دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے سر پر گولی چلانے کا سوال ہی پیدا \"\"نہ ہوتا تھا۔ اور جسم پر گولی چلانے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ میرے سامنے ساری دوپہر اور شام پڑی تھی۔ لہذا میں نے فیصلہ کر لیا کہ چھپ کر شیر کے اِدھر آنے کا انتظار کروں۔ ابھی میں نے یہ فیصلہ یا ہی تھا کہ مجھے اپنی بائیں سمت ایک حرکت سی دکھائی دی۔ سر پھیر کے دیکھا تو ایک ریچھ پتّوں کے ڈھیر کی سمت بڑھ رہا تھا۔ اس کے ساتھ اس کے دو بچے بھی تھے۔ شاید ریچھ نے شیر کو شکار کرتے دیکھ لیا تھا اور اب موقع پاکر اس کے شکار پر ہاتھ صاف کرنا چاہتا تھا۔ اگر میں شیر کے شکار کے قریب کھڑا ہونے کے بجائے وادی کے کنارے پر کھڑا ہوتا تو ایک دلچسپ منظر دیکھنے میں آتا۔ ریچھ نے شیر کا شکار ہضم کرنے کی کوشش کرنی تھی۔ جس پر شیر نے بیدار ہو جانا تھا اور پھر ان کے مابین جو لڑائی ہوتی وہ واقعی قابلِ دید ہوتی۔

محکمۂ جنگلات کا محافظ جو اب تک میرے پیچھے کھڑا تھا اس اب تک شیر دکھائی نہ دیا تھا۔ وہ مجھے ریچھ کی سمت دیکھتے ہوئے خود بھی اس سمت دیکھنے لگا۔ ریچھ کو دیکھنا تھا کہ وہ ایک دم چلاّ اٹھا، “دیکھو صاحب بھالُو! بھالُو!” اس کی آواز سن کر شیر ایک دم اٹھا اور ایک ہی جست میں بجلی کی طرح آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ مگر ایسا کرنے سے پہلے اسے بیس گز کھلی زمین کا ایک قطعہ طے کرنا تھا۔ جب وہ وہاں سے گزر رہا تھا تو میں نے رائفل اٹھائی اور لبلبی دبانے ہی والا تھا کہ جنگل کے محافظ نے یہ سمجھا کہ میں نے ریچھ کو نہیں دیکھا اور غلط سمت میں گولی چلانے لگا ہوں۔ لہذا اس نے جلدی سے رائفل کی نال پکڑ کر اس کا رخ ریچھ کی سمت کر دیا۔ بندوق کی گولی مجھ سے کچھ فاصلے پر ایک درخت میں لگی۔ غصّے میں آنا بےسود تھا۔ اور وہ بھی جنگل میں۔ محافظ جو اب تک پوری بات سے بے خبر تھا اور اس تاثر کے تحت تھا کہ اس نے میری توجہ ریچھ کی جانب کرا کے مجھے ایک آفت سے بچا لیا ہے۔ گولی کی آوازسے ریچھ بھی چوکنا ہو گیا۔ اور وہ اپنے بچوں کے ہمراہ جلدی سے وادی کے نیچے اتر گیا۔ میرا ساتھی یہی کہتا رہ گیا، “مارو صاحب مارو۔ “لیکن جب میں نے اسے ساری بات بتائی تو وہ ایک دم غمگین ہو گیا۔ وہاں سے ہم بنگلے واپس چلے آئے۔\"\"

دوسری صبح جب میں پھر اس وادی میں گیا تو میرا یہ شبہ صحیح نکلا کہ شیر اب اپنا شکار کھانے نہ آئے گا۔ جب میں وہاں پہنچا تو تینوں ریچھ شکار پر ہاتھ صاف کر چکے تھے اور بچی کچی ہڈیاں گِدھ نوچ رہے تھے۔

صبح ہوئے ابھی زیادہ دیر نہ ہوئی تھی۔ میں سامنے والی پہاڑی پر چڑھ کر اس سمت چلنے لگا جِدھر شیر گیا تھا۔ دوپہر کے وقت جب میں بنگلے میں لوٹا تو ایک شخص میرا منتظر تھا۔ اس نے بتایا کہ شیر نے ایک اور گائے ہلاک کر دی ہے۔ وہ شخص ایک مقدمے کے سلسلے میں الموڑا جا رہا تھا اور اس نے راستے میں شیر کو گائے شکار کرتے دیکھا تھا۔ وہ راستے کا تھوڑا سا چکر لگا کر مجھے فقط یہ اطلاع دینے آیا تھا۔ وہ میرے ساتھ تو نہ جا سکتا تھا۔ مگر اس نے زمین پر نقشہ کھینچ کر بتا دیا کہ شیر نے کس جگہ گائے ہلاک کی تھی۔ اگر اس شخص نے صحیح نقشہ بنایا تھا تو یہ جگہ اس جگہ سے کوئی پانچ میل کے فاصلے پر تھی جہاں کل میں نے شیر پر گولی چلائی تھی۔ اب کی دفعہ اس نے ایک ندی کے کنارے شکار کیا تھا۔

گزشتہ دن شیر نے جہاں اپنا شکار کیا تھا اسے اس نے وہیں رہنے دیا تھا۔ لیکن آج جب میں جائے حادثہ پر پہنچا تو شیر اپنا شکار گھسیٹ کر دور لے گیا تھا۔ یہ فاصلہ تقریباً دو میل ہو گا۔ اب گائے کے گھسٹنے کی لکیر درختوں کے گھنے جھنڈوں میں گزر رہی تھی۔ تھوڑی دور آگے گیا تو گائے کی ایک پچھلی ٹانگ ٹوٹ کر دو درختوں کے درمیان پھنسی ہوئی ملی۔ چند قدم آگے چل کر سرسبز جھاڑیوں کے ایک گھنے جھنڈ میں شیر کا شکار پڑا تھا۔ اس نے اسے ڈھانپنے کی بھی کوشش نہ کی تھی۔

دو میل کا فاصلہ یوں محتاط ہو کر طے کرنے اور رائفل کے بوجھ سے میرا جسم پسینے سے شرابور تھا اور پیاس کے مارے حلق خشک ہو رہا تھا۔ اس سے میں بخوبی اندازہ کرسکتا تھا کہ اتنا بڑا بوجھ اتنی دور گھسیٹنے سے شیر کو کس قدر پیاس لگی ہو گی۔ پیاس بجھانے کے ارادے سے میں ندی کی سمت چل پڑا۔ وہ ندی جس کے کنارے میں نے ریچھ کو ہلاک کیا تھا، وہ یہاں سے کوئی نصف میل دور تھی۔

میں ندی کے کنارے کھڑا تھا۔ اس جگہ درختوں کا گھنا سایہ تھا۔ ایک چٹان کی عقب سے چکر لگا کر میں ندی میں اترا ہی تھا کہ مجھ سے \"\"کوئی بیس گز کے فاصلے پر شیر ندی کے کنارے نرم نرم ٹھنڈی ریت پر سویا ہوا تھا۔ یہاں سے ندی دائیں سمت کو ایک دم مڑ جاتی تھی۔ اس کی پشت میری سمت تھی اور میں فقط اس کی پچھلی ٹانگیں اور دُم دیکھ سکتا تھا۔ میرے اور شیر کے درمیان خشک شاخوں کی ایک دیوار سی تھی۔ جو درخت کے نیچے کی سمت لٹکی ہوئی تھیں۔ یہ شاخیں ہٹا کر شیر کی سمت جانا ممکن نہ تھا کیونکہ شاخوں کی ہلکی سی بھی آواز سے شیر بیدار ہو جاتا۔ دوسری سمت سے ریت پر سے گزر کر اس تک پہنچنا بھی مشکل تھا کیونکہ کنارے کی ڈھلوان سے ریت کے سرکنے سے شیر جاگ جاتا۔ اب میرے پاس فقط یہی صورت تھی کہ میں وہیں بیٹھ کر اس بات کا انتظار کروں کہ شیر کب مجھے خود پر گولی چلانے کا موقع دیتا ہے۔

تھکاوٹ سے چور شیر پانی پینے کے بعد گہری نیند سورہا تھا۔ نصف گھنٹے تک وہ اپنی جگہ سے بالکل نہ ہلا۔ تب اس نے داہنی سمت پہلو بدلا اور اس کی ٹانگیں کچھ مزید دکھائی دینے لگیں۔ اس حالت میں وہ کچھ دیر لیٹا رہا اور پھر اٹھ کھڑا ہوا اور ندی کے خم سے باہر نکل آیا۔ رائفل کے گھوڑے پر انگلی رکھے میں اس کے دوبارہ نمودار ہونے کا منتظر رہا کیونکہ اس کا شکار میرے عقب میں پہاڑی کے پیچھے تھا۔ چند منٹ گزر گئے۔ پھر ایک ہرن کی تیز آواز سنائی دی۔ اتنے میں ایک جنگلی مرغ بھی زور زور سے بولنے لگا۔ شیر جا چکا تھا۔ وہ کیوں چلا گیا تھا اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہ سکتا۔ اسے میری خوشبو آ گئی ہو گی ایسا نہیں تھا کیونکہ شیر میں سونگھنے کی حس نہیں ہوتی۔ خیر میرے لیئے اس میں پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ وہ تھوڑی دیر میں ضرور اپنا شکار کھانے کے لیئے آئے گا۔ جسے وہ اتنی مشکل سے گھسیٹ کر لایا تھا۔ ندی کے جس گڑھے سے شیر نے پانی پیا تھا میں نے بھی وہیں جا کر اپنی پیاس بجھائی۔ پانی برف سا ٹھنڈا تھا۔ پانی پینے کے بعد میں نے پائپ سلگا لیا۔

(کرنل جم کار بٹ کی کتاب “Temple Tiger & More Man-Eater of Kumaon” کے پہلے باب “Temple Tiger” کا یہ ترجمہ انیس الرحمٰن صاحب نے کیا ہے اور اسے بزم اردو کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “مندر کا شیر (3)

  • 16-01-2017 at 8:56 pm
    Permalink

    Jim Corbett died 60 years ago, now that the population of Lions, Tigers, and Cheetahs is already declining, what’s the point in publishing these stories?
    Please replace this with some sensible stuff.

Comments are closed.