ملا عبدالسلام ضعیف: گوانتانامو کے پہرے دار


\"\"

(پہلا حصہ: طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں)

طالبان کے سفیر ملا عبدالسلام کی کتاب ’مائی لائف ود دا طالبان‘ کے چند صفحات۔

کیمپ میں سپاہیوں کے مختلف گروہ کام کرتے تھے۔ ہر گروہ مختلف انداز کا بیج لگاتا تھا۔ شروع میں تین گروپ تھے، درخت کے نشان والا، صلیب کے نشان والا اور چاند کے نشان والا۔ جو گروپ اپنی وردی پر درخت کا نشان لگاتا تھا وہ ہمارے ساتھ سب سے اچھا سلوک کرتا تھا۔ وہ متعصب نہیں تھے اور ہمارے ساتھ اچھے تھے۔ وہ ہمیں مناسب مقدار میں کھانا دیتے تھے اور کبھی کبھار پھل بھی دیا کرتے تھے۔ وہ ہمیں سکون سے سونے دیتے تھے اور اگر کسی قیدی کو ڈاکٹر کی ضرورت ہوا کرتی تھی تو وہ یہ اطلاع جلد از جلد پہنچاتے تھے۔ جواب میں ہم بھی ان سے بھرپور تعاون کی کوشش کیا کرتے تھے۔ کبھی کبھار کوئی بھائی بہت تھک جاتا یا مایوسی کے عالم میں ہوتا تو ہم اسے قائل کرتے کہ ان سپاہیوں کی شکایت مت کرے کیونکہ وہ اچھے لوگ تھے اور ہم قرآن مجید کے احکامات کے مطابق ان سے ہمدردی اور عزت سے پیش آنے کو یقینی بناتے تھے۔

صلیب کے نشان والے سپاہی بہت سخت تھے اور کیمپ کے ہر ضابطے اور قانون کی پابندی سختی سے کرواتے تھے۔ وہ کبھی کبھار تعصب کا مظاہرہ بھی کرتے تھے اور بدتمیزی سے پیش آتے تھے اور اکثر مناسب مقدار میں کھانا فراہم نہیں کرتے تھے۔ بہرحال ان میں سے کچھ سپاہی اچھے اور مہذب بھی تھے۔

\"\"

جس گروپ کا نشان چاند تھا وہ اکھڑ اور متعصب تھے۔ وہ ہمیں نہ تو مناسب مقدار میں کھانا دیتے تھے اور نہ ہی کپڑے۔ رات کو وہ اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ ہمیں سوتے ہوئے تنگ کریں۔ وہ بہت جلد غصے میں آتے تھے اور قیدیوں کو سزا دیتے تھے۔

تین مزید گروپ بھی تھے، چابی کے نشان والے، نمبر 94 والے اور لاطینی۔ گوانتانامو میں مجھے جتنے بھی سپاہی ملے، لاطینی ان میں سب سے شائستہ اور عزت کرنے والے تھے۔ وہ ہمارے ساتھ بہت ہمدردی اور محبت سے پیش آتے تھے۔ ہم اکثر باتیں کرتے تھے اور وہ ہمیں اپنے ان اجداد کی کہانی سناتے تھے جو کہ مسلمان ہوا کرتے تھے۔ ان سے ہمیں زیادہ کھانا، صابن اور شیمپو ملا کرتے تھے۔ وہ اسلام کی عزت کرتے تھے اور خیال رکھتے تھے کہ نماز پڑھتے ہوئے ہماری عبادت میں خلل نہ ڈالیں اور انہوں نے کبھی قرآن مجید کی بے حرمتی نہیں کی۔ کبھی کبھار وہ ہمیں بتاتے تھے کہ قید خانے سے باہر کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ لیکن وہ سب غائب ہو گئے اور ان کی جگہ سرخ امریکی لائے گئے (سرخ امریکیوں سے ملا ضعیف کی مراد غالباً آئرش اور اینگلو سیکسن نسل سے تعلق رکھنے والے سفید فام ہیں)۔

چابی کے نشان والے سپاہی وحشی جانور تھے۔ جب مجھے کیمپ سے رہا کیا گیا تو اس وقت بھی وہ وہیں تعینات تھے۔ وہ گستاخ تھے اور اسلام کی عزت نہیں کرتے تھے۔ وہ خاص طور سے کوشش کر کے ہماری زندگی کو جتنا ممکن ہو اتنا مشکل بناتے تھے۔ جب بھی ہم سوتے تھے تو وہ ہمیں تنگ کرتے تھے اور رات کو ہمارے پنجروں کی تلاشیاں لیتے تھے۔ وہ حکام سے قیدیوں کی جھوٹی شکایتیں لگاتے تھے اور ہماری اور قرآن مجید کی توہین کرتے تھے۔

\"\"

لیکن ان سب میں بدترین گروپ وہ تھا جو کہ 94 نمبر کا بیج پہنتا تھا۔ وہ قیدیوں اور قرآن پاک کی تذلیل کرتے تھے۔ کسی بھی وجہ کے بغیر قیدیوں کو سزا دیا کرتے تھے۔ قیدیوں اور 94 نمبر والوں کے درمیان دشمنی بڑھتی گئی اور قیدیوں نے ان کی حکم عدولی شروع کر دی۔ قیدی ان پر پانی پھینکتے تھے، ان کے سوالات کے جواب نہیں دیتے تھے اور جس حد تک ممکن تھا ان سے عدم تعاون کرتے تھے۔ آخر کار قیدیوں نے فیصلہ کیا کہ 94 نمبر والوں کو ہٹایا جانا چاہیے اور اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک بد انتظامی پیدا کرتے رہیں گے جب تک کہ ان سپاہیوں کو ہٹا نہیں دیا جاتا۔ حکام نے رد عمل میں ان سپاہیوں کے دستوں کو توڑ دیا اور سپاہیوں کو انفرادی طور پر کیمپ کے دوسرے دستوں میں کھپا دیا۔

ہر چھ مہینے بعد سپاہیوں کو گوانتانامو سے تبدیل کر دیا جاتا۔ عام طور پر اچھے سپاہی چلے جاتے اور ان کی جگہ برے سپاہی لائے جاتے۔ کچھ سپاہیوں نے کیمپ میں ہونے والے سلوک پر غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ چلے جائیں گے تو وہ بین الاقوامی میڈیا اور اس کے توسط سے باقی دنیا کو کیوبا میں ہونے والے سلوک سے آگاہ کریں گے۔

وہاں مختلف نسلوں کے تعلق رکھنے والے سپاہیوں کا برتاؤ مختلف تھا۔ وہاں سرخ، لاطینی، سیاہ فام اور ریڈ انڈین سپاہی تھے۔ سیاہ فام اور لاطینی سپاہی عام طور پر شائستہ تھے اور قیدیوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتے تھے۔ وہ متعصب نہیں تھے۔

\"\"

سیاہ فام سپاہی ہمیشہ تھکے تھکے سے دکھائی دیتے تھے۔ بیش تر اوقات وہ سوتے اور کھاتے رہتے تھے۔ وہ کم تعلیم یافتہ دکھائی دیتے تھے اور ان میں سے بہت سے غریب علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ چند سیاہ فام سپاہی ہم سے تعصب برتتے تھے لیکن جو ایسا کرتے تھے وہ اکھڑ ترین اور مشکل ترین تھے۔ وہ کبھی کبھار سفید فام اور سرخ امریکیوں کو خوب لتاڑتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ خود غرض اور ظالم ہیں اور ان کی توہین کرتے ہیں۔ ان کے درمیان عدم اعتماد تھا اور جب بھی کوئی سیاہ فام سپاہی کسی قیدی سے بات کرتا تھا یا اسے کچھ دیتا تھا تو دائیں بائیں دیکھا کرتا تھا۔

سرخ امریکی جو کہ حکومت میں اہم عہدوں پر فائز تھے، مکار تھے اور اپنے جھوٹ اور دھوکوں کے لئے جانے جاتے تھے۔ سینئر فوجیوں کی اکثریت سرخ امریکی تھی اور وہ لاطینی اور سیاہ فام سپاہیوں سے بہتر تعلیم یافتہ اور خوشحال دکھائی دیتے تھے۔

چوتھا گروہ ریڈ انڈینوں کا تھا۔ وہ بہت کم تھے۔ وہ امریکہ کے اصل باشندے تھے اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اصل مالک تھے جو کہ امریکہ دریافت ہونے سے بہت پہلے سے ادھر آباد تھے۔ ان میں سے بیشتر بہت دور دراز کے دیہات میں رہتے تھے اور ان میں ان پڑھ ہونا عام تھا۔ ان میں سے بہت سے شراب اور منشیات کے عادی تھے۔ ان میں سے بیشتر دوسرے امریکیوں کو حملہ آور قرار دیتے تھے اور امریکہ کی کارروائیوں سے اختلاف کرتے تھے۔ وہ ہمیں ہمارے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر تسلی دلاسہ دیا کرتے تھے۔


طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں

گرفتاری کے وقت ملا عبدالسلام ضعیف سفیر نہیں تھے

جب ملا عبدالسلام ضعیف امریکیوں کو دیے گئے

ملا عبدالسلام ضعیف: امریکی بحری جہاز کا قیدی

ملا عبدالسلام ضعیف: قندھار کا قیدی نمبر 306

ملا عبدالسلام ضعیف: ریڈ کراس، مسیحا یا جاسوس؟

ملا عبدالسلام ضعیف: قندھار کیمپ میں قرآن پاک کی بے حرمتی

ملا عبدالسلام ضعیف غداری پر آمادہ نہ ہوئے 

ملا عبدالسلام ضعیف گوانتانامو بے میں

ملا عبدالسلام ضعیف: گوانتانامو بے اور ریڈ کراس کا کردار

ملا عبدالسلام ضعیف: گوانتانامو کے پہرے دار

ملا عبدالسلام ضعیف: گوانتانامو بے میں انسانیت سوز مظالم

 

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 665 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar