کہیں موسیقی کا انکار فطرت کا انکار تو نہیں؟


\"\"

آئلہ جب بہت چھوٹی تھی تو سمجھ نہیں آتا تھا کہ ایک بچی جو خواہ مخواہ روئے چلی جا رہی ہے اسے چپ کیسے کروایا جائے۔ ایک مرتبہ ٹی وی پر وہ گانا لگا، چاند سفارش جو کرتا ہماری دیتا وہ تم کو بتا۔ آئلہ ایک دم چپ۔ ہم دونوں کے ہاتھ فارمولا آ گیا۔ یہ جیسے ہی تنگ کرتی ہم لوگ وہ گانا چلا دیتے۔ پھر گانے بدلتے رہے لیکن آئلہ کو چپ کرانے کا ہمارا آخری حربہ یہی ہوتا تھا۔ بلکہ ایک اور گانا تھا، یاد نہیں آ رہا، اس پر تو باقاعدہ یہ سر اور ٹانگیں بھی ہلانا شروع کر دیتی تھی۔

ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ آس پاس کی پابندیوں اور رسوم و رواج سے بالکل آزاد ہوتا ہے۔ تربیت اسے یہ سب سکھاتی ہے کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے۔ بچہ دنیا میں آیا، آزاد روح تھا لیکن جسم میں آ کر قید ہوا، پھر اسے تربیت دے کر مزید پابند کیا گیا، آزادی اب ناممکن ہو گئی۔

اسی طرح خیال ہے، خیال روح کو ان تمام جہانوں کی سیر کرواتا ہے جہاں وہ پہنچنا چاہتی ہے۔ خیال کسی پابندی کا شکار نہیں ہو سکتا۔ لاکھ تربیت کی جائے، خیال باغی ہونے کے لیے آزاد ہوتا ہے۔ جہاں خیال کی بغاوت کا امکان ہو اس راستے کو عام طور پر غلط قرار دیا جاتا ہے اور سزا و جزا کے مختلف پیکیجز کے ساتھ معاملہ قابو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خیال کو لگام دینے کی کوشش کسی بھی نظرئیے کی آڑ میں ہوتی ہے اور یوں روح کے ساتھ ساتھ سوچ بھی قید ہوتی چلی جاتی ہے۔ لیکن ایک سپارک، ایک چنگاری، ایک منظر یا کوئی ایک تصویر اس سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔

گانے یا موسیقی کہہ لیجیے، یہ وہی سپارک ہوتے ہیں۔ انسان جسمانی طور پر کسی بھی جگہ موجود ہو موسیقی اسے وہاں سے بہت اوپر اٹھا کر دوسرے جہانوں کی سیر کروا لاتی ہے۔ جیسے خواب دیکھنے پر اب تک پابندی نہیں لگائی جا سکی ویسے ہی خیال پر بھی نہیں لگی، تو میوزک جو خیال کی انگلی تھام کر اسے اپنے پیچھے لگا لیتا ہے اسے برا بھلا کہا گیا اور کوشش کی گئی کہ اس سے بچ کر رہا جائے۔

گانا ایک وبائی مرض ہے۔ اس سے بچنا ناممکن ہے۔ آپ رات کو چھت پر سو رہے ہیں، لاکھ نیک ہیں، پرہیز گار ہیں لیکن دو چھت چھوڑ کر اگر کہیں ریڈیو بج رہا ہے اور لتا گا رہی ہے، یارا سیلی سیلی، برہا کی رات کا جلنا، تو آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ سوچ کے گھوڑے پر سوار آپ نہ جانے کہاں کہاں دوڑتے پھریں گے اور وہ سب کچھ گانا ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہے گا۔ یہ سب کیا تھا، جسم آپ کے قابو میں تھا، روح کی مستیاں آپ کو کھینچ کھانچ کر کہیں کا کہیں لے گئیں، اسی چکر میں سو بھی گئے، سریلے قسم کے خواب دیکھے، صبح آنکھ کھلی تو ایک دم چست! موسیقی بس یہی ہے۔

پوری کائنات کو اگر دیکھا جائے تو ہر چیز میں ایک ردھم ہے، ترتیب ہے، چیزیں طے ہیں کہ بھئی دن کے بعد رات ہے، رات کے بعد پھر دن ہے، پھر ہفتے، مہینے سال صدیاں ہزار سال۔ کروڑوں برسوں سے یہ سب کچھ ایسے ہی چلا آ رہا ہے۔ جتنی مرضی تبدیلیاں آتی گئیں دن رات کا چکر ختم نہیں ہوا۔ سورج برابر گھوما، باقی سب اس کے گرد گھومتے رہے۔ موسم تبدیل ہوئے، انسان بھی کسی مرحلے پر جا کر وجود میں آ گیا لیکن وہ پہلے دن سے ردھم یا آہنگ کے چکر سے نکل نہیں پایا۔ غاروں میں بنی تصویریں دیکھیں، پرانے اوزار دیکھیں، پھر ذرا قریب کی بات ہو تو اہرام وغیرہ کا جائزہ لیں، بے ترتیبی کہیں نظر نہیں آتی۔ آوازوں میں یہی ترتیب موسیقی بن گئی۔

دنیا کی ہر چیز میں ترتیب ٹھیک، وہی بات جب آوازوں میں آئی تو وہ غلط بن گئی۔ جسم کی پابندیوں سے آزاد ہونے کا واحد ذریعہ موسیقی ہے۔ ذرا گانا سنا نہیں اور ہاتھ پاؤں جھومنے شروع ہو گئے۔ پھر وہی جھومنا رقص میں بدل گیا۔ اب یہ ایک اور گڑبڑ! غاروں کے دور والے انسان کم از کم اس معاملے میں خوش قسمت تھے کہ وہ جب چاہتے حلق سے آوازیں نکالتے، کوئی بھی ڈرم وغیرہ جیسا ساز بجاتے اور کہیں بھی ناچنا شروع ہو جاتے۔ ناچتے ناچتے تھک جاتے تو ڈھیر ہو جاتے، سو جاتے، صبح ایک دم فریش جاگتے۔ ادھر یہ ہوا کہ ناچ کر سوئے تو سزا کے احساس نے دل اور مردہ کر دیا۔ یعنی بے خود ہونے اور وقتی طور پر ٹینشن کم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہم نے یہ بڑا سا تالا لگا کر بند کر دیا اور پھر پیٹتے رہے کہ نئی نسل نشے کی طرف جا رہی ہے، اسلحہ اٹھا رہی ہے، بدتمیز ہے، غصے میں جلدی آتی ہے، موٹر سائیکل تیز چلاتی ہے، گاڑیاں دوڑاتی ہے، ون ویلینگ کرتی ہے، بھئی یہی سب ہو گا اگر جسم کی توانائی کو کسی بہتر کام میں خرچ نہ کیا جائے۔

موسیقی کا کینوس کسی بھی دوسرے فن کی نسبت زیادہ لامحدود ہے۔ تصویر بنائی، جو کچھ بھی ہے، بس سامنے ہے۔ کیمرے سے کھینچی، تب بھی فریم کی قید ہے۔ مجسمہ بنایا، زمان و مکان کی پابندی لازمی ہوئی۔ ڈرامہ سٹیج کیا، تھیٹر کے اندر جانے پر مجبور ہو گئے۔ فلم بنائی، کسی بھی سکرین کے سامنے بیٹھ کر دیکھی۔ افسانہ لکھا، پڑھنے والے نے کتاب اٹھائی، صفحے پلٹے، پڑھتا چلا گیا، کتاب بند، افسانہ ختم۔ تاج محل تک بنا دیا لیکن یا تو وہاں جا کر دیکھیے یا پھر وہی فریم کی قید! موسیقی مگر لامحدود ہے۔

دنیا کے کسی بھی ملک کا میوزک سن لیجیے۔ دماغ میں کوئی واضح تصویر نہیں بنے گی۔ بس ایک ہلکے پھلکے ہونے کا احساس ہو گا جو حدوں سے باہر ہو گا۔ موسیقی کے نوٹس دماغ کو کسی ترتیب میں لانے کی کوشش نہیں کرتے، نہ انہیں کوئی دیکھنے والی آنکھ چاہئیے ہوتی ہے، وہ بس یہ چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ تھاما جائے اور سیر کو نکلا جائے۔ سر کوئی تصویر نہیں بناتے، ایک ہی گانا لاکھوں مختلف افراد کو اربوں مختلف تصویریں دکھا سکتا ہے لیکن کوئی ایک تصویر فکس نہیں کی جا سکتی اور یہی موج ہے، یہی مزا ہے جو گانے کو ایک سال کا بچہ بھی انجوائے کرتا ہے اور چھیانوے برس کے بوڑھے بھی پیر ہلاتے پائے جاتے ہیں۔

یہ سب باتیں ایک طرف، اگر گانوں کے اثرات ڈیفائن ہو چکے تو ایک بات کی گنجائش مزید نکلتی ہے۔ ضروری نہیں کہ اوپر تلے آنے والی پانچ نسلوں کے پسندیدہ گانے ایک جیسے ہی ہوں۔ تاجدار حرم مقبول صابری نے گایا تو ہم لوگوں نے پسند کیا، اب اگر اسے عاطف اسلم گائے اور ہمارے بچے پسند کریں تو ہمیں کیڑے نکالنے کا کوئی اختیار نہیں۔ بندیا چمکے گی ہمارے والدین کے زمانے کا گانا تھا، اب اس کا ری مکس آئے، وہ ہمیں پسند آ جائے تو ہمارا قصور نہیں۔ ایلوس پریسلے اور بیٹلز کو سننے والے جسٹن بیبر یا ون ڈائریکشن کو پسند نہیں کرتے، حق ہے، لیکن جو انہیں پسند کرتے ہیں انہیں سننے کا اختیار دیا جائے گا تو وہ اپنی آزادی سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ موسیقی میں راہنمائی یا آمریت کی کوئی گنجائش نہیں، ہر گلوکار کو پسند کرنے والے مختلف زمانوں میں پائے جا سکتے ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آج ہمیش ریشمیا کو سننے والا کل کندن لال سیگل کی طرف پلٹ جائے، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو کوئی حیرانی کی بات نہیں، موسیقی کی دنیا کے امکانات بہرحال ہماری دنیا سے وسیع تر ہیں۔ وہاں پلٹنے کی گنجائش موجود ہے۔ وہاں وہ تمام آزادی موجود ہے جس کا تصور ہم صرف خواب میں ہی کر سکتے ہیں۔
گانے سنیے، اپنے لیے، قوم کے لیے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 297 posts and counting.See all posts by husnain

3 thoughts on “کہیں موسیقی کا انکار فطرت کا انکار تو نہیں؟

  • 15-01-2017 at 3:35 pm
    Permalink

    Music is a barrier for the Word of God to enter into the hearts of Humans. I wonder how it is said that it is natural urge of human to listen to music while the One and Almighty who have actually created this nature ordains to keep away from it. Not all the humans carry music instincts in them, we may have, but not our generations. My kids are Hafiz e Quran and they have been reared kept away from it so now they cannot stand it anywhere no matter how melodious it is for us. Even they do not enjoy slow music of ghazals instead they like to hear different recitations of the Holy Quran and hence it shows that this is like being a gay or lesbian that are also being advocated to be one of natural instincts. All they are nothing but satanically infused evils that are rotting our minds and souls.

  • 16-01-2017 at 12:07 pm
    Permalink

    I appreciate you wrote about your presonal experiences, Peace!

  • 16-01-2017 at 10:36 pm
    Permalink

    Its not aap beeti my dear it is jag beeti and in the city of karachi

Comments are closed.