عاصمہ جہانگیر، بھینسا اور موم بتی مافیا کا فساد


\"\"

کسی بھی ایسے نہایت ہی صالح شخص سے بات کریں جس سے بات کر کے آپ کو بار بار احساس ہوتا ہے کہ وہی سب سے بڑا محب وطن اور سب سے صالح اور راسخ العقیدہ مسلمان ہے، اوراس سے یہ پوچھا جائے کہ آپ کی رائے میں کون ہے جو دین و وطن کے خلاف کام کر رہا ہے۔ تو پہلا نام جو آپ کو سننے کو ملے گا وہ ہو گا عاصمہ جہانگیر کا اور دوسرا ہو گا ان کی  موم بتی مافیا نامی خوفناک تنظیم کا۔

عاصمہ جہانگیر تو واقعی بہت بری ہیں۔ جب جنرل یحیی خان نے مارشل لا لگایا تھا تو بجائے اس کے کہ حب الوطنی کے اس مظاہرے کی وہ قدر کرتیں، دنگے فساد پر اتر آئیں۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کے راگ الاپنے لگیں۔ ریال لینے والی تو وہ لگتی نہیں ہیں، یہ ضرور کسی غیر ملکی قوت سے ڈالر لے کر کیا گیا ہو گا ورنہ کون محب وطن شخص اپنے ملک میں ڈکٹیٹر کی حکمرانی کے خلاف بات کرنے کا سوچ بھی سکتا ہے۔ الٹا ایکسٹرا محب وطن حلقے تو ہمیشہ ڈکٹیٹر کے دست و بازو بنے دکھائی دیتے رہے ہیں تاکہ وطن عزیز کو جمہوریت جیسی لعنت سے نجات دلا کر غیر اسلامی جمہوری نظام سے چھٹکارا پا سکیں۔

\"\"

پھر بھٹو کا خوفناک گمراہ دور گزرا تو جنرل ضیا الحق کی نہایت ہی نیک اور صالح حکومت آئی۔ ہر طرف جنرل صاحب کے سعودی و جماعتی انداز کے اسلامی نظام کے نعرے گونجنے لگے۔ اس موقعے پر دوبارہ یہی خطرناک خاتون سامنے آئیں۔ دوبارہ جمہوریت کا راگ الاپنے لگیں اور انسانی حقوق کے نام پر اتنی اچھی حکومت کو کمزور کرنے لگیں۔ حالانکہ جنرل ضیا تو اتنے اچھے تھے کہ اپنی مخالفت کرنے والوں کو خوب عزت دیتے ہوئے لاہور کے شاہی قلعے کے دیوان عام میں مدعو کرتے تھے اور ان کو گفت و شنید سے قائل کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے تاکہ یہ جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنے والے ان کے نظام کی برکات خود دیکھ سکیں۔ جنرل صاحب کو خدا نے صبر کی دولت سے خوب نوازا تھا۔ ان شریر غداروں کی کٹ حجتی سے وہ دلبرداشتہ نہیں ہوتے تھے اور ان کو کئی کئی برس تک شاہی قلعے میں شاہی مہمان کے طور پر مقیم رکھتے تھے اور اپنے معتمد درباریوں کے ذریعے صبح شام ان سے گفت و شنید کرتے تھے۔ ان مناظروں میں غداروں کے بدتمیزی سے چیخنے چلانے کی آوازیں تو ہر گزرنے والے کو سنائی دیتی تھیں مگر جنرل صاحب نے اپنے نمائندوں کو صبر و تحمل اختیار کرنے کا ایسا سخت حکم دیا تھا کہ کبھی ان کے کسی اہلکار کی آواز سنائی نہ دی تھی۔ بہرحال جب جنرل صاحب حدود آرڈیننس نافذ کر کے قوم کو صالح بنا رہے تھے اور خواتین کو سمجھا رہے تھے کہ چادر اور چار دیواری کتنی اہم ہیں، تو یہی عاصمہ جہانگیر تھیں جنہوں نے چار دیواری سے قدم باہر نکالا اور ویمن ایکشن فورم نامی موم بتی مافیا کے ساتھ باہر مال روڈ پر نکل آئیں۔ یہ سارا موم بتی مافیا کا زنانہ جلوس ہی تھا جس نے جمہوریت کے نام پر جنرل صاحب کی اتنی نیک نیت حکومت کو بدنام کرنے کی یہ منظم مہم چلائی۔

اسی دور میں بھٹہ مزدوروں کے حقوق کے نام پر بھی انہوں نے عدالت کا رخ کیا۔ اب اگر یہ غیر ملکی ایجنڈا نہ ہوتا کہ سب لوگوں کو برابر حقوق دیے جائیں، تو ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک نیک اور محب وطن وکیل موجود ہے، بھلا وہ نہ یہ کیس کر دیتا؟ بلکہ عاصمہ جہانگیر خود اعتراف جرم کرتی ہیں کہ معزز جج صاحبان نے ان سے پوچھا کہ بی بی ان بدبودار لوگوں کو عدالت میں کیوں لائی ہیں، تو عاصمہ جہانگیر نے ان کو بتایا کہ آپ ان کے لئے ہی یہاں موجود ہیں اسی لئے لائی ہوں۔

اسی بارے میں: ۔  MeToo#: 'اس نے کہا میں جنسی طور پر تم پر فدا ہوں'

\"\"

عاصمہ جہانگیر کی ان خوفناک سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے جنرل ضیا کی مجلس شوری نے ایک قرارداد پاس کی کہ عاصمہ جہانگیر پر بلاسفیمی کا مقدمہ چلایا جائے کیونکہ انہوں نے کچھ الٹی سیدھی بات کی ہے۔ اب حق تو یہ تھا کہ مقدمہ وغیرہ چلانے کا تکلف کیے بغیر ویسے ہی صالحین کی کسی جماعت کے ذریعے عاصمہ جہانگیر پر ہلہ بول کر عوامی انصاف کر دیا جاتا، مگر جنرل صاحب غداروں کے حق میں نہایت رحم دل تھے۔ اسی وجہ سے وہ جسے غدار اور بھارتی ایجنٹ وغیرہ سمجھتے تھے اس سے خاص محبت کیا کرتے تھے۔ وہ جی ایم سید پر بھی یہی الزام لگا کر ان کو گلدستے بھجواتے رہے اور شترو گھن سنہا کا معاملہ بھی آپ کو معلوم ہو گا ہی۔ بہرحال انہوں نے تحقیقات کے لئے کمیشن بنا دیا لیکن اس اجلاس کی تمام کارروائی ٹیپ ہوئی تھی جس کے ریمارک کی بنیاد پر یہ مقدمہ بنایا جا رہا تھا اور اس میں ایسا کچھ نہیں نکلا تھا جس کا الزام لگایا گیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر نے ایک انٹرویو میں کچھ ہنستے ہوئے ہی بتایا تھا کہ بلاسفیمی لا کی دفعہ 295 سی شاید ان سے نمٹنے کے لئے ہی نافذ العمل کی گئی تھی۔

بہرحال یہ دفعہ نافذ ہوئی تو عاصمہ جہانگیر غالباً موم متی مافیا کی ہدایت پر صرف اور صرف معاشرے میں انتشار پھیلانے کی نیت سے ہی بلاسفیمی کے ان ملزموں کے کیس بھی لینے لگیں اور سلامت مسیح کے مشہور کیس میں اس پر لگا الزام غلط ثابت کر کے اسے بری بھی کرا دیا۔ محب وطن عناصر موم بتی مافیا کی ان سرگرمیوں سے تنگ آ گئے تو انہوں نے عاصمہ جہانگیر کے گھر پر جا کر انہیں سمجھانے بجھانے کی کوشش کی مگر غلطی سے ان کے گھر کی بجائے ساتھ والے گھر میں گھس گئے جو کہ ان کی والدہ کا تھا۔ عاصمہ جہانگیر کو ڈھونڈنے میں ناکام ہو کر انہوں نے سوچا کہ چلو ان کے خاندان کی کسی دوسری خاتون کو ہی سمجھا دیتے ہیں۔ ان کی بھابھی کو سمجھانے کی کوشش کی مگر پستول نہ چل سکی اور سیکیورٹی گارڈز کے آنے کی وجہ سے یہ پرامن مذاکرات ناکام ہو گئے۔

\"\"

موم بتی مافیا کے اس طرح مسلسل بدامنی پھِیلانے پر نیک دل جنرل ضیا کو بھی نہایت مجبور ہو کر عاصمہ جہانگیر کو جیل بھیج دینا پڑا حالانکہ انہوں نے آخری حد تک کوشش کی تھی کہ عاصمہ جہانگیر کو جیل میں قید کرنے کی بجائے وکالت چھڑا کر باورچی خانے میں تاحیات مصروف کر دیا جائے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب دفاع افغانستان میں مصروف مجاہدین کو جنرل صاحب پکڑ پکڑ کر مسنگ کر رہے تھے تو اچھے بھلے مجاہد قسم کے وکلا اور محب وطن عناصر یہ سوچ کر خاموش ہو گئے کہ ضرور اس میں کوئی بھلائی ہو گی۔ مگر موم بتی مافیا کی یہ لیڈر کیسے برداشت کر سکتی ہیں کہ کوئی بھلائی ہو۔ وہ ان مسنگ پرسن کے کیس لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئیں۔ آمنہ مسعود جنجوعہ کا کیس خاص طور پر مشہور ہے۔ ان کی وکالت بھی عاصمہ جہانگیر ہی نے کی۔ نیک، محب وطن اور سمجھدار لوگ اس کیس سے دور ہی رہے اور صرف یہ موم بتی مافیا ہی ملک میں یہ مقدمے بازی کر کر کے بدامنی پھیلاتی رہی۔

2010 میں تو انتہا ہی ہو گئی۔ موم بتی مافیا کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدارت پر عاصمہ جہانگیر کو فائز کروانے میں کامیابی ہو گئی۔ بعض مشہور وکلا بتاتے ہیں کہ یہ صدر زرداری کی سازش تھی جن کے بارے میں موم بتی مافیا سے تعلق کی افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں۔ اب یہی مصدقہ افواہیں عاصمہ جہانگیر کے مقام کا تعین کرنے کے لئے ہر محب وطن شخص کے لئے کافی ہیں۔ لیکن ابھی بھی آپ کو یقین نہیں آیا تو سن لیجیے کہ میمو گیٹ نامی مقدمے میں حسین حقانی کی وکالت عاصمہ جہانگیر نے ہی کی تھی جبکہ بڑے بڑے سورما یہ سوچ کر رہ گئے تھے کہ ایسا کرنا حب الوطنی کے تقاضوں کے منافی ہو گا۔

اسی بارے میں: ۔  موم بتی مافیا کی کامیابی اور مجاہدین کی ناکامی کے اسباب

\"\"

ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیے۔ جب 2009 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی عدالت نے پی سی او ججوں کی برطرفی کا بہترین فیصلہ کیا تو یہ عاصمہ جہانگیر ہی تھیں جو عظیم چیف جسٹس افتخار چوہدری صاحب کے اس حد تک خلاف ہو گئیں کہ ان کے خلاف ڈان میں ایک مضمون ہی لکھ ڈالا۔ اگلے دن ان کے موم بتی مافیائی ساتھیوں نے انہیں بہت سمجھایا کہ محب وطن وکلا ان کا موقع پر ہی انصاف کر سکتے ہیں، لیکن وہ پھر بھی بار روم چلی گئیں۔ ملاحظہ کیجیے کہ ملک کی تاریخ کے محب وطن ترین چیف جسٹسوں کے خلاف بھی موم بتی مافیا کام کرتی رہی ہے۔

تماشا دیکھیے کہ چند برس پہلے تک عاصمہ جہانگیر یہ کہتی رہی ہیں کہ بھتہ خوری اور غنڈہ گردی میں ایم کیو ایم ملوث ہے، مگر جب الطاف حسین کی اس نفرت انگیز تقریر کا معاملہ سامنے آیا جس پر ان پر تقریر کرنے پر پابندی لگی تو ملک بھر کے محب وطن وکلا نے ان کا کیس لڑنے سے انکار کر دیا۔ عاصمہ جہانگیر نے یہ عذر پیش کرتے ہوئے کیس لے لیا کہ بات کرنے کا حق تو سب کو ہے۔ اس پر وکلا کی محب وطن ترین تنظیم استحکام پاکستان وکلا محاذ نے عاصمہ جہانگیر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور عاصمہ جہانگیر اور خالد رانجھا کا لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

اب یہ گمشدہ بلاگر کا مسئلہ گرم ہو رہا ہے تو ہمیں دکھائی دے رہا ہے کہ موم بتی مافیا دوبارہ سرگرم ہو رہی ہے اور ان بلاگروں کے انسانی حقوق کے نام پر ایک مذموم مہم چلا رہی ہے۔ وطن یعنی حکومت سے اندھی محبت کرنے والا ہر شخص یہ بات جانتا ہے کہ شہریوں کو جتنے حقوق کی ضرورت تھی وہ ریاست انہیں دے چکی ہے اور یہ ایک طے شدہ معاملہ ہے اس لئے اس پر بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی ہمیں خدشہ ہے کہ آج کل میں ہی آپ خبر سن لیں گے کہ عاصمہ جہانگیر نے یہ کیس لے لیا ہے۔ جبکہ ہر ذی شعور ایکسٹرا محب وطن شخص جانتا ہے کہ جب عوام کو کسی معاملے کا یقین ہو جائے تو ثبوت پرکھنے کے لئے قانون اور عدالت وغیرہ کو زحمت دینے کی تکلیف نہیں کرنی چاہیے بلکہ عوامی انصاف سے ہی کام چلا لینا مناسب ہے۔ عدالتیں پہلے ہی مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں تو وہاں مزید مقدمات بھیجنا مناسب نہیں ہے۔ اگر ان بلاگروں میں سے کوئی بھینسا نہیں بھی ہے تو کوئی نہ کوئی دوسرا شخص تو بھینسا ہو گا، ان بلاگروں کو سزا دے دی جائے تو وہ خود ہی عبرت پکڑ لے گا اور راہ راست پر آ جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 732 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “عاصمہ جہانگیر، بھینسا اور موم بتی مافیا کا فساد

  • 17-01-2017 at 12:43 pm
    Permalink

    ap ki baat tk ha mgr insaniat sirf 5 ya 10 logon k ley ha ya pakistan k 20 kror awam k leyhazaroon ki tadad m jo lapata hn kia wo insan ni hn

Comments are closed.