ڈالر والے لفافہ دانشور


\"adnanبھیا ڈھکن فسادی حسب معمول نہایت ہی غصے میں تھے۔ آتے ہی گرجنے لگے۔

بھیا ڈھکن فسادی: تم لبرل فاشسٹوں کو ذرہ برابر بھی شرم نہیں آتی ہے کیا؟ ڈالر لے کر تم لوگوں پر کیا یہ لازم ہو جاتا ہے کہ ہم ایسے علما کی توہین کرو؟
ہم: بھیا ڈالر ہم نے ویسے ہی لیا ہے، جیسے آپ نے دین کی فہم لی ہے۔ یعنی ہم نے جب بھی ڈالر لیا، تو بازار سے خود ہی خرید کر لیا۔ اور آپ نے جو علما کی وضع بنائی ہے، وہ بھی خود سے ہی بنا لی ہے۔ کسی جامعہ یا مدرسے میں جا کر علم دین حاصل کئے بغیر ہی آپ نے منبر سنبھال کر امامت و خطابت کے جوہر دکھانے شروع کر دیے ہیں۔
بھیا ڈھکن فسادی: تم کٹ حجتی سے باز نہیں آؤ گے۔ خدا کے نیک بندے ان جامعات و مدارس کے محتاج تو نہیں ہوتے ہیں۔ ہدایت تو دلوں کا معاملہ ہے، اللہ جسے چاہے دے دے۔ ہمیں مل گئی ہے اور تمہیں نہیں مل پائی۔
ہم: چلیں یہی سہی۔ ویسے ہوا کیا ہے جو آپ اتنے غصے میں ہیں؟
بھیا ڈھکن فسادی: تم جیسا کوئی ڈالر خور ہے حبیب نامی۔ ہمارے دروازے پر اپنے بیہودہ اشعار لکھ گیا ہے اور جرات تو دیکھو اس نابکار کی، ساتھ اپنا نام بھی لکھ گیا ہے۔
ہم: ہیں؟ ابھی تک زندہ ہے وہ؟ خدانخواستہ کہیں آپ کا لاؤڈ سپیکر تو فوت نہیں ہو گیا ہے؟ کیا لکھ دیا ہے اس شریر فسادی نے؟
بھیا ڈھکن فسادی: یہ شعر لکھ گیا ہے

شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں
کم نظر روشنی سے ڈرتے ہیں
لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں
داور حشر بخش دے شاید
ہاں مگر مولوی سے ڈرتے ہیں

ہم: واقعی۔ کوئی شریر شخص ہی لگتا ہے جو آپ کو ایسی باتیں کہتا ہے۔ لیکن آپ بیوپار کریں گے تو باتیں تو سنیں گے۔ اس سے بھی زیادہ گستاخ ایک شخص تو یہ بھی کہہ چکا ہے کہ
مذہب کے جو بیوپاری ہیں
وہ سب سے بڑی بیماری ہیں
وہ جن کے سوا سب کافر ہیں
جو دین کا حرفِ آخر ہیں
ان جھوٹے اور مکاروں سے
مذہب کے ٹھیکداروں سے
میں باغی ہوں میں باغی ہوں
جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

بھیا ڈھکن فسادی: بیوپار کاہے کا؟ ہم تو حق بات کرتے ہیں۔ لوگ سن کر خوف خدا کرتے ہیں اور ہمارے صندوقچے میں جیب خالی کر کے جنت میں اپنا محل بنا لیتے ہیں۔
ہم: سنا ہے کہ آپ نے جو سرکاری زمین پر قبضہ کر کے مسجد بنائی ہے، اس کی تعمیر کا خرچہ کسی برادر اسلامی ملک سے پیٹرو ڈالر کی صورت میں وصول پایا ہے۔
بھیا ڈھکن فسادی: ساری زمین خدا کی ہے، سرکار کی کب سے ہونے لگی؟ تم ایسے ایسے گستاخانہ کلمات ادا کر جاتے ہو۔ توبہ کیا کرو۔ خدا کی ذات بہت غفور و رحیم ہے۔ تم جیسوں کو بھی بخش دیتی ہے۔ اور یہ تو ان عربوں کی خوش قسمتی ہے کہ اس نیک کام کے لئے ہمیں پیسے دیتے ہیں۔
ہم: اچھا آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ حبیب نامی شخص ڈالر خور ہے؟
بھیا ڈھکن فسادی: ڈالر لے کر ہی تم لبرل فاشسٹ ایسی یادہ گوئی کرتے ہو۔ وہ بھی متاع ایمان و غیرت بیچ کر لمبی سی گاڑی میں گھومتا ہو گا۔ کرسٹانوں کی طرح سرد موسم میں گرم کمبل میں چھپ کر کافی پیتا ہو گا۔ یہ سارے اطوار ہی کہے دیتے ہیں کہ یہ بھی اس غلامی کے بدلے تمہاری طرح ڈالر پاتا ہو گا۔
ہم: پتہ نہیں کون بھلا مانس ہے جسے جانے بوجھے بغیر آپ لمبی سی گاڑی میں گھما رہے ہیں۔ ویسے یہ کافی پینا کب سے گمراہی کی نشانی ٹھہرا ہے؟
بھیا ڈھکن فسادی: اس سے بڑھ کر اور کیا نشانی ہو گی کہ سارے گورے کافی پیتے ہیں اور ان کی نقالی میں تم جیسے دیسی لبرل بھی قدحوں کے قدحے چڑھا جاتے ہیں۔ خدا کے فضل سے میں ڈالر خوروں کی رگ رگ سے واقف ہوں۔
ہم: بھیا یہ کافی تو عربوں کا مشروب تھی۔ ان سے ترکوں نے لیا۔ اور ترکوں سے گوروں نے۔ بعض روایات اسے حبشہ کا مشروب بتاتی ہیں، جہاں سے وہ عرب دنیا میں پہنچا، لیکن تاریخی طور پر اس کے پہلے استعمال کی روایت یمن میں ملتی ہے۔ عربی سے لفظ قہوہ ترکی، پہنچا، اور ترکی سے جب یہ اٹلی پہنچا تو کافے بن گیا، جسے گوروں نے کافی کہہ کر اپنا لیا۔
بھیا ڈھکن فسادی: واقعی؟ یعنی یہ حلال مسلم مشروب ہے؟
ہم: الحمدللہ۔

\"jalib-1\"

بھیا ڈھکن فسادی: اچھا یہ موضوع چھوڑو، یہ نابکار حبیب کون ہے؟ اس کا پتہ نشان بتاؤ تاکہ اسے مناسب طریقے سے ذہن نشین کروا دیں کہ ایسی شاعری نہیں لکھا کرتے ہیں۔
ہم: بھیا یہ واقعی بہت ہی شیطان شخص ہے۔ آپ پہلے نیک شخص نہیں ہیں جو اس کی تضحیک کا نشانہ بنے ہیں۔ آپ کے پسندیدہ حکمران مرد مومن جنرل ضیا الحق کے بارے میں بھی یہ ایک شاعری کر آیا تھا۔

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا

بھیا ڈھکن فسادی: نہایت ہی گمراہ شخص ہے یہ، یعنی غازی ضیا الحق شہید کو کرگس ہی کہہ دیتا ہے۔ یہ محض لمبی سی گاڑی میں ہی نہیں گھومتا ہو گا، یہ تو کسی محل میں رہتا ہو گا۔ ایسی باتیں کرنے پر تو اسے ڈالروں کی بوریاں کی بوریاں بھر بھر کر ملتی ہوں گی۔ ایسے لوگ بڑی آسانی سے اپنا قلم اور ضمیر بیچ دیتے ہیں۔ پولیس کو چاہیے کہ اسے گرفتار کر لے۔

\"jalib-2\"

ہم: اسے خریدنے والوں کی تو قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ ایوب خان، یحیی خان، بھٹو اور ضیا، کس کس نے اس کے دام نہیں لگائے۔
بھیا ڈھکن فسادی: دیکھا ہمارا اندازہ کتنا درست نکلا۔ بکے ہوئے قلم اور گرے ہوئے بندے کو تو ہم ایک ثانیے میں پہچان لیتے ہیں۔ دنیا کو دکھانے کو کیا کام دھندا کرتا ہے یہ بکا ہوا شخص؟
ہم: مزدور تھا۔ فاقے کرتا تھا۔ پرانی سی سائیکل پر گھومتا تھا۔ جو حکمران بھی آمریت دکھاتا تھا، اسے یہ آئینہ دکھا دیتا تھا اور بدلے میں ڈنڈے کھاتا تھا۔ شدید غربت میں جیا اور مزید غربت میں مر گیا۔ حالانکہ اس کا قلم خریدنا تو بہت دور کی بات ہے، اس کی خاموشی ہی خریدنے کے بہت دام لگائے جاتے رہے۔ مگر اس نے حرام نوالہ کھانے کی بجائے جابر حکمرانوں کی وحشی پولیس کے ڈنڈے کھانا ہی مناسب جانا۔ اور پھر شعر کہتا تھا کہ
بڑے بنے تھے جالب صاحب پٹے سڑک کے بیچ
گولی کھائی لاٹھی کھائی گرے سڑک کے بیچ
کبھِی گریباں چاک ہوا اور کبھی ہوا دل خوں
ہمیں تو یونہی ملے سخن کے صلے سڑک کے بیچ

بھیا ڈھکن فسادی: تم جھوٹ گھڑنے میں ماہر ہو۔ اس حبیب سے بھی تم نے پیسے کھا لئے ہوں گے۔
ہم: چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں بھیا ڈھکن فسادی۔ اس غریب حبیب جالب کے پاس خود کھانے کو پیسہ نہیں ہوتا تھا تو اس نے کہاں سے دوسروں کے منہ پیسے سے بند کرنے تھے۔ ویسے بھِی یہ سنہ ترانوے میں فوت ہو چکا ہے، اور اب اپنی سائیکل بیچ کر بھی خاکسار کو کچھ کھلانے سے قاصر ہے۔ بہرحال آپ کی بندہ شناسی کو کون چیلنج کر سکتا ہے۔ آپ ہمیں بھی ڈالر کھلا سکتے ہیں اور حبیب جالب کو بھی۔ آپ تو جارج بش کے سے انداز میں صاف صاف کہہ دیتے ہیں، \’بتاؤ تم ہمارے ساتھ ہو یا ڈالر لیتے ہو؟\’۔ بلکہ یہی کہہ دیتے ہیں کہ بتاؤ تم ہمارے ساتھ ہو اور پیٹرو ڈالر لیتے ہو، یا امریکی ڈالر لیتے ہو؟

بھیا ڈھکن فسادی: تمہیں پیسے نہیں ملتے تو جلتے کیوں ہو؟ پاکستان کو عظیم ہم نے ہی بنانا ہے، تم ایجنٹوں نے نہیں۔
ہم: بس اتفاق یہ ہے کہ عوام کے حقوق کے لئے جب بھی گولی ڈنڈا کھایا تو حبیب جالب جیسے نابکاروں نے ہی کھایا۔ عوام کے حق کے لئے بولنے کبھی کوئی پیٹرو ڈالر لینے والا نہیں نکلا۔

نوٹ: حبیب جالب تیرہ مارچ 1993 کو خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔


میں نے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں

جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی

ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی

یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہوگئی

بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں

اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا


ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گُہر ، دیوار کو دَر ، کرگس کو ہما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں ، دم گھٹتا ہے گنبدِ بے دَر میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ ورو اس ذلت سے کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

یہ اہلِ چشم یہ دارا و جَم سب نقش بر آب ہیں اے ہمدم
مٹ جائیں گے سب پروردۂ شب ، اے اہلِ وفا رہ جائیں گے ہم
ہو جاں کا زیاں، پر قاتل کو معصوم ادا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

لوگوں ہی پہ ہم نے جاں واری ، کی ہم نے انہی کی غم خواری
ہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم ، شاعر نہ بنیں گے درباری
ابلیس نُما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

حق بات پہ کوڑے اور زنداں ، باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں
انساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں ، خونخوار درندے ہیں رقصاں
اس ظلم و ستم کو لطف و کرم ، اس دُکھ کو دوا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ہر شام یہاں شامِ ویراں ، آسیب زدہ رستے گلیاں
جس شہر کی دُھن میں نکلے تھے ، وہ شہر دلِ برباد کہاں
صحرا کو چمن، بَن کو گلشن ، بادل کو رِدا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

اے میرے وطن کے فنکارو! ظلمت پہ نہ اپنا فن وارو
یہ محل سراؤں کے باسی ، قاتل ہیں سبھی اپنے یارو
ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملِا ، اس غم کو نیا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیاء، صَر صَر کو صبا ، بندے کو خدا کیا لکھنا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 626 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “ڈالر والے لفافہ دانشور

  • 14-03-2016 at 11:54 am
    Permalink

    Adnan sahab
    Allah zor e qalam aor bhara de

    !!!!!!!Kia khoob likha hay

  • 14-03-2016 at 8:32 pm
    Permalink

    بہت خوب کاکڑ صاحب!
    جالب کا حق ادا کر دیا آپ نے۔

Comments are closed.