دشت امکاں میں جمہوریت کا نقش پا


\"\" ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب
ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا!

اس شعر کو غالب سے منسوب کیا جاتا ہے اگرچہ شعر کی کاٹ غالب کی ہی لگتی ہے، تاہم اس کے دیوان میں اس شعر کا ذکر نہیں ملتا۔ حضرت غالب کے دو دوستوں نے ان کا دیوان مرتب کیا تھا، ان لوگوں کو شعر پر تو نہیں مگر اس کی زبان پر اعتراض تھا۔ دوسرے مصرعے میں اصل بیانیہ غیر مناسب لگا۔ ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا۔ ’’پا پایا‘‘ کی ادائیگی تلفظ کے تناظر میں بے وزن سی لگی۔ زبان اردو کے مہربانوں نے ایک بامعنی اور خوشگوار شعر ضائع کردیا حالانکہ اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا اور اکثر و بیشتر لوگ اس کو غالب کا ہی شعر سمجھتے ہیں۔
ہمارے میڈیا پر جو زبان آج کل استعمال ہورہی ہے وہ بھی قابل اعتبار نہیں۔ ہر تیسرے سماجی، سیاسی یا کھیل کے معرکہ میں’’دھول چٹانے‘‘ کے الفاظ کو اس طرح ادا کیا جاتا ہے کہ خبر نہیں ملتی کہ دھول چٹانے یا اڑانے کے بعد سماج پر کیا بیتی۔ سیاست پر کیا گزری اور کھیل کا کیا بنا۔ اس کی بنیادی وجہ معاشرتی اور سیاسی انتشار ہے۔ ہمارے حکمران سرکاری زبان کے طور پر انگریزی کا استعمال کرتے ہیں اگرچہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے سابق جج جواد ایس خواجہ نے اردو کے حوالہ سے ایک اہم فیصلہ بھی ضابطہ تحریر کیا تھا مگر وطن عزیز میں تعلیم مفلوک الحال ہے، اس لئے اردو کی کون سنتا ہے، پھر اردو قومی تحریک کے ڈاکٹر نظامی غیر سائنسی طریقہ سے اردو کے نفاذ کے لئے فارمولے بناتے رہتے ہیں مگر ملک میں تعلیم کی جو حالت زار ہے وہ قابل تشویش کے ساتھ ساتھ قابل توجہ بھی ہے۔ حالیہ دنوں میں مقابلے کے امتحان کے جو نتائج نوکر شاہی کے حوالہ سے منظر عام پر آئے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب نوکر شاہی کے لئے مقابلہ ختم ہوچکا ہے جو بچے تعلیم کی اہمیت سے آگا ہ ہیں وہ اب دوبارہ سے ان شعبوں کا رخ کررہے ہیں جہاں تعلیم کی اہمیت ہو اور فیصلے کی آزادی ہو، پھر نوکر شاہی اور انتظامیہ کے ساتھ ہماری اشرافیہ اور سیاسی لوگوں کا جو حسن سلوک ہے اس سے تو یوں لگتا ہے اشرافیہ کو اپنے غرور اور سیاسی نیتائوں کو اپنے متکبر کردار کے لئے ایسے سرکاری ملازموں کی ضرورت ہے جو دماغ اور عقل سے پیدل ہوں اور جی حضور جی حضور کی گردان کرسکتے ہوں۔
آج کل گلی گلی شور ہے بس پاناما کا ہی زور ہے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ عدالت کے بعد ہمارا میڈیا ایک عدالت لگواتا ہے۔ حزب مخالف کی تو بات ہی نہ کریں، پھر وہ تو پہلے ہی سے تقسیم ہے، مگر ہماری حکمران جماعت کی پالیسی کا اندازہ نہیں ہورہا ، وہ عدالت کے باہر غیر ضروری طور پر تبصرہ اور دعوے کرتے ہیں جس سے ہمارے وزیر اعظم کی حیثیت متاثر ہورہی ہے۔ اب ایک دفعہ پھر سے ایسا تاثر دیا جارہا ہے جیسے کہ پاناما کی ہڈی سرکار کے گلے میں پھنسی ہوئی ہے جبکہ یہ معاملہ اور مسئلہ بظاہر وزیر اعظم کا نہیں ہے، مگر شاہ کے وفاداروں کا زور خطابت اپنی ہی سرکار کے لئے مشکلات پیدا کررہا ہے۔ قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کے دو ممبران اپنے چہرے کی کرختگی سے ایسا تاثر دیتے ہیں کہ معلوم نہیں ہوتا کہ اپنی ذات کا غم بیان کررہے ہیں یا ان پر تشدد کیا گیا ہے۔ ہماری عظیم عدالت کے عالی مرتبت جسٹس نے 62اور 63کے حوالہ سے جو تبصرہ کیا تھا وہ غیر مشروط طور پر واپس لے لیا گیا، اگرچہ عزت مآب سراج الحق اس سے متفق نہیں تھے، مگر جماعت اسلامی کا متفق ہونا ہمیشہ سے ہی مشکوک رہا ہے، مگر جب ایک دوسرے بنچ ممبر نے کہا کہ 62اور63 کی تپش میں فریق مخالف بھی جھلس سکتے ہیں تو اس نکتے کو کپتان عمران نے بڑی تیزی سے دبوچ لیا ہے۔ عمران خان کے پاس جیتنے کے لئے صرف پاناما ہے اور ہارنے کے لئے اس کی سیاسی زندگی ہے۔ عمران خان جس طریقہ سے کرپشن کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے اس کے بارے میں اشرافیہ اور سیاسی ناخدائوں کا خیال ہے اس طرح جمہوریت کا مستقبل مشکوک ہوسکتا ہے۔ جمہوریت نے اس ملک کی بقاء کو دائو پر لگا دیا ہے۔ یہ کیسی جمہوریت جس میں اقلیت ا کثریت کے مفادات کا خیال نہ کرے اس ہی جمہوریت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایسے لوگوں کو حیثیت اور اہمیت دی ہے جو نہ خود تعلیم یافتہ ہیں اور نہ ان کو علم کی اہمیت کا احساس ہے۔ ہماری درسگائوں کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ان میں پڑھانے والے استاد سیاست کا شکار ہیں۔ جب پاناما کیس کے سلسلے میں و زیر اعظم جناب نواز شریف کے سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ میں بڑے فخر سے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کا بیان سیاسی تھا اور اس سے کوئی مطلب لینا مناسب نہیں تو اندازہ ہوا کہ جمہوریت کے رکھوالوں کا حق اور سچ سےکوئی تعلق نہیں ہوتا وہ تو بس پالیسی بیان تھا جبکہ پالیسی کوئی بھی نہ تھی اور نہ ہے۔ اس وقت جمہوریت کی سیاسی پالیسی بہترین انتقام کے زمرے میں نظر آرہی ہے۔ سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا یا پنجاب کسی بھی صوبے کا وزیر اعلیٰ عوامی کم اور انقلابی زیادہ نظر آتا۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ شاہ صاحب اپنے والد سابقہ وزیر اعلیٰ کے نقش ہی مٹاتے جا رہے ہیں۔ موصوف کینیڈا کی شہریت ترک کرکے وزیر اعلیٰ بنے۔ اب ان کے صوبے میں پرانی تین پی والی جماعت اور نئی چار پی والی جماعت کا میل ملاپ ہوچکا ہے ، پھر جمہوریت کا حسن کہ دونوں جماعتوں کے انتخابات بھی ہوگئے۔ ایک کے امیر حضرت زرداری اور دوسرے کے مالک نوجوان بلاول ۔ مقابلہ خوب ہوگا زرداری سب پر بھاری، مگر اب کے کس کی باری۔ اس سوال کا جواب ہمارے دوست سینیٹر اعتزاز احسن ہی دے سکتے ہیں جو جمہوریت کے اس ناٹک میں مجبور ہیں اور گنگناتے رہتے ہیں
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ درویش سے ہیں۔ مسلم لیگ کے نام لیوا ہیں مگر لیگی نہیں۔ ان کو صوبے کے وسائل کا اندازہ ہی نہیں، گوادر کے سحر نے ان کو جکڑ رکھا ہے اور ابھی تک جمہوریت کے بارے میں ان کا ایمان پختہ نہیں ہے۔ مرکز اور فوج کی ان پر بھرپور توجہ ہے۔ ان کی قسمت اچھی ہے صوبہ چل رہا ہے اور ان کا سیاسی پری وار پھل پھول رہا ہے اور یہی ہے جمہوریت کا حسن۔ ہمارے تیسرے خاموش سے وزیر اعلیٰ پختونخوا کے جناب خٹک، ان کے صوبے میں ترقی ہوتی نظر تو آتی ہے۔ خٹک صاحب کا اپنا دامن کپتان کی طرح خشک ہے۔ دونوں پرانے ایچی سونین ہیں۔ فاٹا کے مسئلہ پر مولوی اور جمہوریت ان کا راستہ روک رہے ہیں وہ بھی کپتان کے ہمنوا ہیں کہ اگر آئین کی 62 اور  63 شق پر عملدرآمد ہوگیا تو صوبے کی حالت خاصی بہتر ہوسکتی ہے مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے صوبےدار صاحب بہادر نوکر شاہی کے سب سے بڑے پاسدار ہیں۔ بنیادی جمہوریت کے معاملات کے بعد جب عوامی نمائندوں کے اختیارات کا معاملہ شروع ہوا تو موصوف نے فرنگی کا پرانا نظام اختیار کرنے کو مناسب خیا ل کیا۔ صوبے میں تعلیم اور صحت کا کوئی حال نہیں۔ ان کے خیال میں تعلیم کے لئے سڑک اور صحت کے لئے پل ضروری ہے۔ سو صرف ان پر ہی کام ہورہا ہے ،وہ اپنے صوبے میں اتھارٹی پر اتھارٹی بناتے جا رہے ہیں ۔ وہ عوام کا غم سناتے ضرور ہیں مگر جمہوریت سے فاصلہ رکھتے ہیں۔ جمہوریت بدنام بہت کرتی ہے اور بدنامی اچھی بات نہیں۔ پورے صوبے میں راوی چین ہی چین لکھتا ہے اور اب چین کے ساتھ ہمارے دوست چینی بھی نظر آنے لگے ہیں۔ صوبے دار صاحب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ پنجاب سے زیادہ چین میں مقبول ہیں۔ ترقی کے سفر میں ان کا مقبول نعرہ ہے ’’میں نہیں مانتا،’’میں نہیں مانتا‘‘ خاصا مقبول ہوتا جا رہا ہے اور یہ ہے ہماری جمہوریت!!۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔