فرسٹریشن کے مارے لوگ


\"\"

سگمنڈ فرائڈ کو تحلیل نفسی کا بانی سمجھا جاتا ہے ، وہ غالباً پہلا شخص تھا جو ـ’’مکالمے ‘ ‘ کے ذریعے ذہنی امراض کے حامل افراد کا علاج کیا کرتا تھا ، اسے ہپنا ٹزم بھی کہا جاتا ہے، وہ مریض سے مختلف سوالات کرتا جن کے جوابات سے اسے مریض کے ذہن تک رسائی حاصل ہو جاتی اور پھر وہ اس ذہنی گرہ کو کھولنے میں کامیاب ہو جاتا جس کی وجہ سے مریض کسی ذہنی الجھن یا بیماری کا شکار ہوتا ۔ فرائڈ کے اس طریقہ علاج کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی گو کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس سے پہلے بھی اِکا دُکا لوگ اس طریقہ کار پر عمل پیرا تھے مگر جو شہرت فرائڈ کو نصیب ہوئی وہ کسی اور کو حاصل نہ ہو سکی ۔ اپنے یہاں کسی نے پائلو کوئلو کا نام بھلے نہ سنا ہو فرائڈ کا نام ضرور سنا ہوتاہے اور اس کی وجہ بڑی سادہ ہے کہ فرائڈ کی نفسیات میں جنس کا بڑا عمل دخل ہے ، اس کی کتابیں گو کہ بہت خشک موضوع پر ہیں، مگر چونکہ ان میں ہر دوسری سطر میں جنس کا لفظ ملتا ہے اس لئے گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز سے لے کر لمز تک ہر عاقل بالغ نوجوان نے فرائڈ کا کچھ نہ کچھ مطالعہ ضرور کیا ہوتا ہے ۔خدا کا شکر ہے کہ میں نے اس وجہ سے فرائڈ کو نہیں پڑھا کیونکہ اس شوق کی تسکین کے لئے دیگر بہت سی کتب مجھے دستیاب تھیں ، جن میں سے کچھ با تصویر بھی تھیں ۔ یہ فرائڈ کی خوش قسمتی تھی کہ وہ ڈیڑھ سو سال پہلے ہی فوت ہو گیا ،کیونکہ آج اگر موصوف زندہ ہوتے تو اُن کی دو ٹکے کی عزت نہ ہوتی ، کسی نے اُن کے طریقہ علاج کو گھاس بھی نہیں ڈالنی تھی اور وہ اپنی ہی تحلیل نفسی کرتے کرتے اِس دنیا سے رخصت ہو جاتے کیونکہ فی زمانہ آپ کو کسی کے ذہن میں جھانکنے کے لئے ہپنا ٹزم یا ایسی کسی تکنیک کی ضرورت نہیں ، اس کام کے لئے اُس شخص کا سوشل میڈیا پروفائل ہی کافی ہے ۔
آج چونکہ سوائے کالم لکھنے کے مجھے کوئی اور کام نہیں تھا سو میں نے سوچا کیوں نا اُن لوگوں کی تحلیل نفسی کی جائے جو بقول ہمارے دوست گل نوخیز اختر،’’مہاتما خود ‘ ‘ بنے بیٹھے ہیں ۔ضرورت اس امر کی یوںبھی پیش آئی کہ ہمارے اکثر کالم نگا ر دوست اس بات پر جز بز ہوتے رہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر لوگ خواہ مخواہ اُن کے خلاف گالیاںبکتے رہتے ہیں ، اگر وہ کہیں کافی پیتے ہوئے بھی اپنی تصویر لگا دیں تو اُس پر بھی اس قسم کا تبصرہ ہوتا ہے کہ ’’اچھا جی، عیاشی ہو رہی ہے……کالموں میں تو غریبوں کا بہت رونا روتے ہو اور خود اس مہنگے کیفے میں بیٹھ کر گلچھرے اڑا رہے ہو……جس ملک میں لوگوں کو دو وقت کی روٹی نہیں ملتی اس ملک کے دانشور ہزاروں روپے ایک گھنٹے میں کافی کی ایک پیالی پر خرچ کردیتے ہیں …… منافق ! ‘ ‘ واضح رہے کہ یہ تبصرے محض کافی پینے کی پاداش میں وصول ہوتے ہیں اور گالیاں منہا کرکے فقط دیگ کے چند دانوں کی طرح بیان کئے گئے ہیں……جھوٹے الزامات ، مغلظات اور کردار کشی کے ہتھکنڈے اس کے علاوہ ہیں۔ آنجہانی سگمنڈ فرائڈ ہوتے تو ان لوگوں کے ذہنوں میں جھانک کر جاننے کی کوشش کرتے کہ یہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں اور پھر کئی ماہ کی تحلیل نفسی اور ہپنا ٹزم کے بعد شاید وہ اِس نتیجے پر پہنچتے کہ بچپن میں ان کی ماں کا اکثر باپ سے جھگڑا رہتا تھا جس کی وجہ سے باپ کئی کئی مہینے گھر سے باہر رہتا ، سو ان لوگوںکی پیدائش اس ایک برس میں ہوئی جب باپ گھر میں گھسا ہی نہیں ، لہٰذا یہی وہ احساس محرومی ہے جو اب گالیوں کی شکل میں برآمد ہو رہا ہے ۔
ویسے فدوی کی رائے میں ا ن لوگوں کی تحلیل نفسی کروانے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ آج کے جدید دور میں ہم انہیں سوشل میڈیا پروفائل کی مدد سے دو اقسام میں بانٹ سکتے ہیں ۔ اس جنس کی پہلی قسم وہ ہے جو ملک کے اندر اور باہر اچھی ملازمت پر فائز ہیں ،مالی طور پر خوشحال ہیں ، زندگی میں انہیں زیادہ فکر فاقہ نہیں ۔ یہ اُس نظام کے سب سے بڑے beneficiaryہیں جسے دن رات گالیاں دیتے ہیں۔ ساری عمر یہ ُاس سسٹم کا حصہ رہے جسے ٹھیک کرنے کی یا کم سے کم اپنا مثبت حصہ ڈالنے کی انہوں نے کوئی کوشش نہیں کی ،جونہی انہیں موقع ملا انہوں نے باہر ایک ملازمت تلاش کی اور نکل لئے۔آج کل امریکہ ، برطانیہ ،ا سپین ، ملائیشیا ، سنگا پور یا دبئی میں بیٹھ کر عیاشی کرتے ہیں اور ساتھ ہی فیس بک پر کینیڈا کے وزیراعظم کی تصویر اپ لوڈ کرکے نیچے لکھتے ہیں کہ ایسا ہوتا ہے وزیر اعظم جو اپنا سامان بھی خود اٹھائے ، پھرایک طویل فہرست گالیوںکی ٹائپ کی ، بیئرکی بوتل کو منہ لگایا ، پاکستان میں اسلامی نظام نافذ نہ ہونے پر ایک کمنٹ کیا، سنی لیونی کا گانادیکھا اور سو گئے۔چلو جی ہو گئے حب الوطنی کے تقاضے پورے۔ پاکستان میں ان کے پیٹی بند بھائی بھی مختلف نہیں، یہ لوگ نظام سے ہر قسم کا جائز نا جائز فائدہ سمیٹنے کے بعد دراصل اپنی ندامت چھپانے کیلئے اُ ن لوگوں پر کیچڑ اچھالتے ہیں جو ان کے نظریئے یا سوچ سے مطابقت نہیں رکھتے۔
جو ان کی طرح مغلظات بکنے پر یقین نہیں رکھتے ، انہیں اچھی طرح علم ہے کہ یہ ملک کے لئے کبھی کچھ نہیں کرپائے بلکہ الٹا اپنے فائدے کے لئے ملک کے فرسودہ نظام کو استعمال کیا ،سو یہ ان کے اندر کا guiltہے جو انہیں چین نہیں لینے دیتا، اسی لئے سوشل میڈیا پر یہ لوگ گالیاں دیتے ہیں جس سے انہیں تسکین حاصل ہوتی ہے کہ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے کرپٹ نظام کے خلاف جہاد ممکن ہے ۔ دوسری قسم ناکام اور فرسٹریٹڈ لوگوں کی ہے ، انہوں نے زندگی میں ہر قسم کا جائز ناجائز ہتھکنڈا آزمایا مگر چونکہ بنیادی طور پر نالائق تھے اس لئے ناکا م رہے ، ملک میں ڈھنگ کا کام ملا نہ باہر کوئی ملازمت حاصل کر سکے،لہٰذا اب ہر کامیاب آدمی میں کیڑے نکالتے ہیں، ہر امیر شخص انہیں ڈاکو نظر آتا ہے، ہر سیلف میڈ انسان ان کی ناکامی پر ایک طمانچہ ہے جس کا یہ جواب نہیں دے پاتے سو اپنی بھڑاس سوشل میڈیا پر نکالتے ہیں۔ مجھے ان دونوں قسم کے لوگوں سے ہمدردی ہے، خدا انہیں ایسے ہی فرسٹریٹ رکھے، آمین۔

(بشکریہ جنگ نیوز)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 130 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada