مولانا مودودی پر فتوے اور بلاگرز پر تہمت بازی


\"\"انیس سو پچانوے کی بات ہے۔ میٹرک کے امتحانات دینے کے بعد چھٹیوں میں سوات جانا ہوا تھا۔ ہمارے ننھیال کے محلے میں جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کا پروگرام تھا، پڑوس کے ایک دوست نے مجھے بھی اس میں آنے کی دعوت دی۔ اب میں چونکہ جماعت اسلامی کے بارے میں روایتی مذہبی طبقے کی لکھی گئی کئی کتابیں پڑھ چکا تھا جن میں جماعت اسلامی کے سیاسی کردار سے لے کر اس کے فکری سرخیل سید مودودی کی تحریروں پر سخت گرفت کی گئی تھی اور انہیں گستاخ رسول سے لے کر گستاخ صحابہ کرام تک قرار دیا گیا تھا جس کے ثبوت کے طور پر ان کی تفسیر میں مختلف انبیاء جیسے موسی علیہ السلام اور یونس علیہ السلام وغیرہ کے بارے میں ان کے الفاظ کا حوالہ دیا جاتا تھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مختلف تاریخی واقعات کے ذیل میں کردار پر تنقید ہے۔ اس ذیل میں جماعت اسلامی کے دستور کی اس شق کا حوالہ دیا جاتا تھا جس میں اللہ اور اس کے رسول صلعم کی ذات کے علاوہ کسی کو معیار حق اور تنقید سے بالاتر نہ سمجھنے کا ذکر تھا۔ روایتی مذہبی طبقہ اس بات کو بھی قابل گرفت سمجھتا ہے۔ اور صحابہ پر تنقید کو کسی طور روا نہیں جانتا۔ اس لئے مودودی صاحب اور ان کی جماعت ہمیشہ سے فتوؤں کی زد میں رہی ہے۔ لیکن مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی نے قتل و غارت گری کی کال دی ہو۔ جماعت کی سطح پر سیاسی ضرورتوں کی خاطر البتہ مودودی صاحب کی تفسیر اور بعض کتب کا ہر ایڈیشن ترامیم و تبدیلیوں کی زد میں رہا ہے۔

ایک روایتی مذہبی گھرانے کے فرد ہونے کے ناطے میں ان تمام مباحث سے بخوبی آگاہ تھا۔ اور جب میں اس پروگرام میں شریک ہوا۔ تو میں نے ان کے مہمان مقرر عبدالغفار بونیری سے اس حوالے سے تندوتیز سوالات بھی کئے۔ لیکن اس تمام بحث میں میرے لئے ان کے جوابات اور ان کے معیار سے زیادہ جو امر خوش گوار حیرت کا باعث بنا۔ وہ اس مہمان مقرر کا رویہ تھا۔ وہ کسی سوال و اعتراض پر بر انگیختہ نہ ہوئے اور بڑی خندہ پیشانی سے ان سوالوں کے جوابات دینے کی کوشش کرتے رہے۔ اور بار بار یہ کہتے رہے۔ کہ آپ براہ راست مطالعہ کریں وغیرہ وغیرہ۔

پھر جب میں نے کچھ وجوہات کی بنا پر کراچی واپسی کے بجائے وہیں جہانزیب کالج سوات میں داخلہ لیا تو وہی رویہ ہی تھا جو میرے لئے جمعیت میں کشش کا باعث بنا۔ اور دو سالہ وابستگی کے بعد جب ذہنی ارتقاء کے اگلے مرحلے میں جمعیت اور جماعت اسلامی کے فکر سے قدم آگے بڑھائے اور جماعت کے فکر اور طرز سیاست کے شدید ناقد بھی بنے تو بھی ان دوستوں سے تعلق خاطر اور باہمی احترام میں کوئی کمی نہ آئی جو ہمیشہ برقرار رہی۔

انیس سو ننانوے کے سرما کی بات ہے۔ کشمیر و افغانستان میں متحرک ایک دیوبندی جہادی تنظیم جمعیت المجاہدین العالمی کے کراچی کے دفتر میں کچھ پشتون اور پنجابی دوستوں کے ساتھ ان کے ایک مرکزی رہنما مولانا عبدالستار سالک کو سننے کا اتفاق ہوا۔ سوال و جواب کے دوران میں نے ان سے جہاد کشمیر پر تحفظات کا ذکر کیا کہ جب ہمارے پاس لاکھوں کی فوج موجود ہے تو ہم عام نوجوانوں کو اس جہاد کی آگ میں کیوں جھونک رہے ہیں۔ جہاد تو ریاست کا کام ہے پرائیویٹ تنظیموں کا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس کے جواب میں انہوں نے اپنے دلائل پیش کئے، لیکن کسی موقع پر ان کی پیشانی پر کوئی شکن نہ آئی نہ باقی دوستوں نے برا منایا۔

اس کے ایک دو برس بعد سنہ دو ہزار کی بات ہے سپاہ صحابہ پاکستان کے ایک ہمدرد دوست سے بحث کے دوران میں نے کہا کہ پاکستان میں شیعہ سنی اختلاف کی اس صدیوں پرانی بحث کو گلی کے نکڑ پر لانے کا بہت نقصان ہوا ہے۔ بہت بے گناہ مارے گئے ہیں۔ جس میں عام شیعہ سنی، پیشہ ور لوگ اور علماء شامل ہیں۔ اسی دوران میں نے کہا کہ اس سارے قتل عام کی ذمہ داری حق نواز جھنگوی اور ان کے رفقا اور مخالف گروہوں کے شیعہ علماء کے سر ہے۔ بہر حال یہ بحث ختم ہوئی۔ اگلے دن بعد نماز عصر ایک جوشیلے کارکن اور ایک دوست کے بھائی نے مسجد کے باہر مجھ سے میری اس رائے پر باز پرس کی اور کافی جارحانہ انداز اختیار کیا۔ لیکن دوسرے احباب قریب آئے تو انہوں نے اس کو سخت سرزنش کی اس نے کہا ہے تو تمھارا کیا لینا دینا اس بات سے۔ اس کی اپنی رائے ہے، تم نہ مانو زبردستی تھوڑی ہے۔

بہر حال یہی کچھ زندگی کے تعلقات کا تذکرہ ہے۔ کسی موقع پر میں نے خوف و خدشہ محسوس نہیں کیا۔ پوسٹ نائن اليون کی دنیا بھی عجیب ہے۔ ہابسام یوں ہی اس زمانے کو ایج آف ایکسٹریمز نہیں کہتا ہے۔ عجیب زمانہ ہے ہر کسی کی آنکھوں میں خون اتر آیا ہے۔ کوئی دہشت گردی کا وکیل اور حمایتی بنا۔ تو کسی نے پشاور میں اسکول حملے کے جواب میں کہا۔ پورے فاٹا پر ایٹم بم ماردو قصہ ختم۔ کسی نے بمباریوں اور اجتماعی سزاؤں کی تحسین کی۔ کسی نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آواز اٹھانے والوں کو گالیوں پر رکھ لیا۔

آج جب میں سوشل میڈیا پر ہمارے سوشل میڈیا کے دوستوں کی گمشدگی اور اس پر ان سے اختلاف رکھنے والے احباب کا رویہ دیکھ رہا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ سید مودودی کے نام کی مالا جپنے والے جنہیں شاید یہ یاد نہیں رہا کہ ان کے فکری امام کس قسم کے فتوؤں کی زد میں رہے ہیں، وہ ان کی مذہب کی ایک خاص سیاسی تشریح کی تنقید کرنے کی پاداش میں کسی پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگا کر ان کی جان کے درپے ہو رہے ہیں۔ سید مودودی کے پیروکاروں سے گزارش ہے کہ وہ ذرا سورۃ حجرات کی آیت اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُـوٓا کے حوالے سے سید مودودی اور جماعت اسلامی پنجاب کے امیر حافظ محمد ادریس صاحب کی تشریحات ہی پڑھ لیں۔ کچھ خدا کا خوف کریں۔ اپنے اختلاف کی خاطر جیتے جاگتے انسانوں کی زندگی خطرے میں نہ ڈالیں۔ اور مولا علیؓ کی وہ بات یاد کریں جو انہوں نے جنگ کے دوران اس شخص کو کہی تھی جس نے ان کے منہ پر تھوک دیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ تو جہاد میں اسے مخالف جان کر لڑ رہے تھے۔ اور قتل کرنے کا محرک بھی یہی بنتا۔ لیکن تم نے میرے منہ پر تھوک دیا۔ اب تمہیں مارنے میں ذاتی اشتعال بھی شامل ہوگیا ہے۔ اس لئے میں تمھیں نہیں مار سکتا۔

سلمان حیدر، وقاص گورایہ، عاصم سعید اور احمد رضا نصیر میں سے کسی کے خلاف بھی یہ بات ثابت نہیں کہ وہ توہین رسالت صلی الله علیہ وسلم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس لئے صرف آپ کا اختلاف ان سے اپنی جگہ۔ ان کی جان کے خواہ مخواہ دشمن نہ بنیں۔

سیاسی وفکری اختلاف ان کا اتنا ہی حق ہے۔ جتنا کہ آپ کا یا کسی اور کا۔ یہ حق جہاں بھی پامال ہو۔ اس کے خلاف بولنا چاہیے۔ چاہے وہ سعودیہ میں ہو یا ایران میں۔ شام میں ہو یا بنگلہ دیش میں۔ ظلم چاہے السیسی کرے یا حسینہ واجد۔ خامنہ ای کرے یا شاہ سلیمان۔ اوباما کرے یا اسامہ۔ اس کی مخالفت ضروری ہے۔

جبری گمشدگی چاہے پروگریسو لبرل بلاگرز کی ہو، کسی مذہبی جماعت کے کارکن، سیاسی و قوم پرست جماعت کے ورکر کی پھر چاہے وہ ایم کیو ایم ہو یا کسی مسلح جہادی تنظیم سے جوڑے جانے والے کسی فرد کی۔ قانون اور انسانی حقوق کا تقاضا ہے کہ اسے انصاف ملے۔ اگر ہم اپنے فکری اور سیاسی تعصبات کی بنیاد پر ریاست اور اس کے اداروں کو کھلی چھوٹ دینے کی وکالت کی غلطی پر اڑے رہیں گے تو اس سے خوف و انارکی جنم لے گی، کوئی معتدل اور مبنی بر انصاف معاشرہ قائم نہیں ہوگا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

9 thoughts on “مولانا مودودی پر فتوے اور بلاگرز پر تہمت بازی

  • 16-01-2017 at 1:43 pm
    Permalink

    مودودی کی زندگی میں ہی جماعت فسادی اور فسادی جمیعت طلبہ کے کرتوت ریکارڈ پہ ہیں- مودودی کو ان سے بری ازمہ قرار نہیں دیا جا سکتا-

    جماعت فسادی آج بھی وہی فساد پھیلانے کا کام کر رہی ہے جو مودودی کے زمانے میں کرتی تھی- پتا نہیں یار لوگ کیوں مودودی کو پارسا بنانے پہ تلے ہوۓ ہیں- شائد قحط رجال کے زمانے میں کوئی اور نہیں ملتا تو مودودی کو ہی ہیرو بنانا پڑ گیا مجبوراً-

  • 16-01-2017 at 4:15 pm
    Permalink

    Yae hae tolerance liberals ka

  • 16-01-2017 at 8:37 pm
    Permalink

    عثمان اگر تم میں انسانیت کی کوئی بھی رمق ہوتی تو ایک عالم دین اورمجدد کے لیے ایسے الفاظ نہ لکھتے۔ ۔ ۔ اگر قادیانیوں کی وقل لت کرنے والے ہی عثمان ہو یا جعلی نام رکھ کر ٹھگی کر رہے ہو۔ ۔ ۔ سامنے آکر دلیل کی بنیاد پر بات کرو تو تمھیں جواب دیا جائے۔ ۔ ۔ اگر قادیانی ہو تو پھر یہ تھہارا خاندانی پیشہ ہے کہ عالموں کے خلاف باتیں کرو کیونکہ تمہیں ان ہی عالموں نے دلیل کی بنیاد پر غیر مسلم قرار دلوایا تھا۔ ۔ ۔
    میر افسر اماn

  • 16-01-2017 at 10:10 pm
    Permalink

    کون کہتا ہے مودودی کو مجدد؟ کوئی انسان تو نہیں کہ سکتا-

    مودودی اور اسکی جماعت فسادی کے کرتوت دیکھو، مودودی کی باتوں پہ مت جاو- جماعت فسادی مودودی کے دور سے ہی فساد کر رہی ہے تو مودودی کیسے فسادی نہیں ہے؟

  • 16-01-2017 at 10:13 pm
    Permalink

    ایسے عالم ہونے پہ لکھ لعنت جسے انسانیّت کے الف بے سے کوئی غرض نہ ہو- ابھی بھی جماعت فسادی ہر انسانی حقوق کے قانون کی مخالفت کرتی ہے- اچھا مجدد تھا مودودی کہ شیطانیت کی تجدید کر کے چلا گیا-

  • 16-01-2017 at 10:16 pm
    Permalink

    مودودی کو مجدد کہنے والے مونہہ نہ کھلواؤ- مودودی اور جماعت فسادی کی فساد کی بڑی لمبی داستان ہے-

  • 17-01-2017 at 4:17 pm
    Permalink

    100% agreed

Comments are closed.