پاکستانی معاشرہ اور جذبات مجروح ہونے کے جرائم


\"\"ہمارے ملک میں آج کل مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کا رحجان شدت پکڑتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے کوئی بھی شخص بیٹھے بٹھائے کسی کی وجہ سے اپنے جذبات مجروح کر بیٹھتا ہے اور بھگتنا سامنے والے شخص کو پڑتا ہے۔ یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ کسی بھی معاشرے میں اسے بنیادی انسانی اخلاق میں شمار کیا جائے گا لیکن ہمارے ملک میں جذبات مجروح ہونے کی بعض ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کی مثال کسی اور معاشرے میں شاید آپ کو نہ ملے۔ اس منفرد اعزاز کے حق دار ہمارے ملک کا ایک مخصوص مذہبی طبقہ ہے۔

ایسے تمام لوگ جو شریف النفس مسلمانوں کے جذبات مجروح کرتے ہیں بہت جلد انہیں دہشت گردی اور توہین جیسے سخت مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ ان مقدمات کا فیصلہ ہونے سے قبل ہی ایسے \’مجرموں\’ کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور بعض ان میں سے ‏جان سے جاتے ہیں اور بعض گزشتہ ماہ لاپتہ بھی ہوگئے ہیں۔ ان تمام معاملات کا محرک وہ گھناونی حرکتیں جو جذبات مجروح ہونے کی ہوئیں ہیں ان کا ایک مختصر جائزہ پیش خدمت ہے۔

جماعت احمدیہ کو پاکستان میں اپنے مذہب کے پرچار کی قانونی اجازت نہیں۔ چنانچہ احمدیوں کی مطبوعات کے اوپر پہلا جملہ یہ لکھا ہوا ملتا ہے \’صرف احمدی احباب کے ليے\’ اور نہ ہی یہ کتب و رسائل بازار میں عام خریدو فرخت کے لئے مہیا ہوتی ہے۔ چنانچہ ان کا حاصل کرنا کسی بھی غیر احمدی کے لیے آسان نہیں۔ چنانچہ کچھ مولوی صاحبان کچھ عرصہ پہلے ربوہ پہنچے۔ ایسی کتب پولیس کی نگرانی میں شکور بھائی (کتب فروش) اور تحریک جدید کے دفتر سے نکلوائی گئیں۔ ان کتب کو کھول کر قرآنی آیات ڈھونڈی گئیں تب جا کر ان مولوی صاحبان کو اپنے جذبات مجروح کرنے کا موقع ملا۔

اسی طرح جماعت احمدیہ نے حالیہ چکوال کے واقعہ میں پولیس کو ایک درخوست جمع کروائی۔ مولوی صاحبان نے کوشش کر کے اس کی کاپی حاصل کی، السلام علیکم پڑھا اور اپنے جذبات مجروح کئے۔

گزشتہ کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر بھی لوگوں نے جذبات مجروح کرنے کی مہم چلا رکھی تھی۔ چنانچہ ان کے گم شدہ ہونے کے بعد مسلمانوں کے جذبات کی حفاظت کی گئی۔ ان جذبات کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ ہمیشہ ایسا مواد باقاعدہ تگ و دو کے بعد تلاش کر کے اپنے جذبات مجروح کئے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہی لوگ داعش کی کھلے عام حمایت، مسجدوں میں دھماکوں، مدرسوں میں بچوں سے زیادتی کے واقعات، غیرت کے نام پر صنف نازک کے قتل پر خاموش رہتے ہیں کیونکہ ایسے واقعات پر جذبات مجروح کرنے کے لئے تگ و دو کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سامنے کی بات پر جذبات مضروح کرنے سے کیا حاصل؟

حتیٰ کہ ایک کالعدم تنظیم پر بھی احتیاط سے بات کرنی چاہیے کیونکہ اس تنظیم کے سربراہ بقول ہمارے وزیر داخلہ محب وطن ہیں اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرنے سے چوہدری صاحب کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

دوسری طرف یہی اپنے جذبات کی حفاظت پر مامور لوگ اگر دوسرے مذہب یا اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کریں، ان کے رہنماوں کو برے برے القابات سے نوازیں، قانون ہاتھ میں لے کر انہیں مار ڈالیں، بغیر ثبوت کے عدالت کے فیصلہ کا انتظار کئے بنا گوجرہ کے پورے محلہ کو آگ لگا کر شہر چھوڑنے پر مجبور کردیں تو کسی ایسے مظلوم طبقے کو خاموش رہنا چاہئے کیونکہ ان کو آزادی سے بولنے کا حق نہیں۔ باآواز بلند احتجاج تو دور کی بات۔

میں اسلامی تاریخ کا صرف ایک حوالہ دے دیتا ہوں جب سرور دو کائنات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک منافق کے جنازے میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ تدفین میں ساتھ دیا اور بخشش کے لیے دعا کی۔ ہمارے آقا کی تعلیمات پر تھوڑا سا غور کرکے معلوم پڑتا ہے کہ وہ کفار، مسلمان، اور تمام کائنات کے لیے مجسم دعا تھے۔ ہمیں بھی دوسروں سے نفرت کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے لئے خلوص دل سے نیکی کی دعا کرنی چاہیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ناصر احمد کی دیگر تحریریں
ناصر احمد کی دیگر تحریریں

One thought on “پاکستانی معاشرہ اور جذبات مجروح ہونے کے جرائم

  • 17-01-2017 at 7:33 pm
    Permalink

    Excellent effort. Keep it up

Comments are closed.