سلمان کی نظمیں کال کوٹھڑی میں قید کرو تو جانیں


\"\"نظمیں منہ زور ہوتی ہیں اور خاص طور پر اگر وہ صفحوں سے باہر نکلنے کی کوشش کریں اور اس میں کامیاب ہوتی لگیں۔ ایسی نظمیں ان سے برداشت نہیں ہوتیں جن کے بارے میں لکھی گئی ہوں۔ کیونکہ وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہی ہوتی ہیں کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا۔ میں سب جانتی ہوں کہ تم کون ہو اور خلق خدا کے خلاف تمہاری سازشیں اور ہتھکنڈے کیا ہیں۔ اور یہی نہیں کہ صرف میں جانتی ہوں بلکہ دوسروں کو بھی آگاہ کر رہی ہوں۔ میری زبان سب کو سمجھ آ رہی ہے اور یہ کہ تمہارے دن گنے جا چکے ہیں۔ اب راج کرے کی خلق خدا جو میں تو ہوں لیکن تم بننا نہیں چاہتے ہو۔
ایسے میں وہ جو خلق خدا کا حق چھین کر اپنے محلوں میں دبکے بیٹھے ہوں خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔ انہیں اپنی جاگیریں، وزارتیں، بادشاہتیں اور بندوقوں کی اندھی طاقتیں جاتی ہوئی لگتی ہیں۔ انہیں اپنا جھوٹا رعب خطرے میں لگتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ مخلوق خدا ظلم کے ضابطوں کے خلاف اٹھ رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب وہ جوابدہ ہوں گے۔ انہی کے سامنے جوابدہ ہوں گے جنہیں آج وہ خاطر میں نہیں لاتے۔
یہ نظمیں جن کو چیلنج کرتی ہیں ان کا خوف بے پناہ ہوتا ہے اور سچا بھی۔ کئی ہزار سال کی انسانی تاریخ کی گواہی ان کے سامنے ہوتی ہے جو پکار پکار کر کہتی ہے کہ فتح ہمیشہ سچ ہی کی ہوئی ہے۔ لیکن وہ اس بات کا یقین نہیں کرنا چاہتے۔ وہ اپنی صورت حال کو اپنے سے پہلے آنے اور شکست خوردہ ظالموں سے مختلف سمجھنے کی غلطی کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اندر ایک شدید خوف بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے کھوکھلے پن سے نہ چاہتے ہوئے بھی واقف ہوتے ہیں۔
انہیں علم ہوتا ہے کہ کلیسا، تلوار اور بادشاہت کی علم اور انسانی آزادی کو روکنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔ انصاف اور شخصی آزادی کی اہمیت روز بروز بڑھ رہی ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکا۔ انسانوں کے درمیان، رنگ نسل، مذہب اور جنس کی بنیاد پر تفریق بھی قصہ ماضی ہوتی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں سب سے پیچھے رہ جانے والے ایران اور سعودی عرب کی بادشاہتیں مذہب کے بہانے اس تفریق کو زیادہ دیر تک قائم نہیں رکھ سکیں گی۔ وہ دیکھتے ہیں کہ آج کا پاکستان جنرل ضیاالحق کا پاکستان نہیں ہے۔ وہ تو عورت کو آدھی کرنے کی کوششوں میں کب کا عورتوں سے شکست کھا چکا۔ پاکستانی عورتیں ہر اگلے دن، وزیر اعظم بن کر، فوج میں جرنیلی تمغے سجا کر، نوبل پرائز جیت کر، کے ٹو چوٹی کو قدموں کے نیچے لا کر، کھیل کے بین الاقوامی میدانوں میں گولڈمیڈل جیت کر، پاکستان ایئر فورس کے جہاز اڑا کر، سائنس کے میدان میں کشش ثقل کی لہروں کو ناپ کر اور اقوام متحدہ کے اہم ترین ایوانوں کی معتبر ترین آواز بن کر یہ ثابت کرتی گئیں کہ فتح حق، سچ، انسانی برابری اور شخصی آزادی کی ہے۔
صفحوں سے باہر نکلتی ہوئی نظمیں اتنی دلکش، حساس اور موثر ہوتی ہیں کہ انہیں صرف خدا ہی برداشت کر سکتا ہے یا پھر وہ لوگ جن کے دل میں خوف خدا ہو۔ جو انسانیت کی قدر کرتے ہوں۔ جنہیں قانون شکنی اور بندوق کے سہارے کی ضرورت نہ ہو۔ صفحوں سے باہر نکلتی ہوئی نظمیں ان لوگوں سے برداشت نہیں ہوتیں جو بزدل ہوں اور قلم سے ڈرتے ہوں۔ سچ سے ڈرتے ہوں۔ جو بچیوں سے ڈر جاتے ہوں۔
سلمان حیدر کو بھی ادراک تھا کہ صفحوں سے باہر نکلتی ہوئی نظموں اور ان کے خالقوں کو اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ کال کوٹھڑی انصاف کے کمزور ایوانوں سے پہلے کھڑی ہو گی۔ سلمان حیدر نے یہ سب قبول کیا کیونکہ حق کی فتح پر اس کا یقین پختہ تھا۔ اسے علم تھا کہ قلم کی طاقت پائیدار ہے اور بندوق کی فتح عارضی۔ بندوق کی طاقت پر یقین رکھنے والے کی بزدلی کو افشا کرنے کے لئے اسے چیلنج کرنا ضروری تھا۔ یہ اعزاز اسے نصیب ہوتا ہے جو آپ میں بہترین ہو۔ اس دفعہ یہ قرعہ سلمان حیدر جیسے انسانی عظمت کے متوالے کے نام نکلا۔ اس نے اسے تہہ دل سے قبول کیا اور احساس کی روشنی پھیلا کر اس نے اسے نبھا دیا۔
صفحوں سے باہر نکلتی ہوئی نظموں سے ڈرنے والے بزدل حکمرانو، بات تمہارے بس سے نکل چلی ہے۔ تمہارے نظریاتی اباو¿اجداد نظموں پر پابندی لگا لیتے تھے اور یہ پابندی تھوڑے عرصے کے لئے چل بھی جاتی تھی۔ کیونکہ کاغذوں کو وائرل کرتے ذرا دیر لگتی تھی۔ اب تو تمہارے ہاتھ اور احکامات بہت ہی کمزور ہو چکے ہیں۔ دنیا کی ترقی تمہارے خلاف ہے اور انسانی اکثریت کے ساتھ ہے۔ کب پہچانو گے کہ ادھر تم کسی کو غائب کرتے ہو تو ادھر وہ ساری دنیا میں انواع و اقسام کی الیکٹرانک سکرینوں کی زینت بن جاتا ہے۔ ساری دنیا شخصی آزادی کے متوالے کے ضمیر کی آواز بن جاتی ہے۔ سلمان کا بدن تو کال کوٹھڑی میں بند ہو گیا لیکن اس کی نظموں کا کیا کرو گے۔ سلمان کی نظموں کو کال کوٹھڑی میں قید کرو تو جانیں۔

اسی بارے میں: ۔  این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا جائز حصہ کیا ہے؟

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 135 posts and counting.See all posts by salim-malik