خاموش! عدالت جاری ہے


aamir-rahdari

چند کٹھ پتلیاں جن کے ہاتھ دهاگوں کے ساته بندهے ہیں اور ایک ماہر ان دهاگوں کے ساته کهیل رہا ہے۔ کٹھ پتلیوں کے سامنے ایک میز رکهی ہے۔ ایک کٹھ پتلی کے ہاتھ حرکت کرتے ہیں۔ ماہر اس سے ایک کتاب اٹهواتا ہے وہ کتاب کهولتا ہے پیچهے سے وائس اوور کی گونج آتی ہے
۔”دہشت گردی کے پیچهے دشمن ملک کا ہاتھ ہے”۔
باقی کٹھ پتلیوں کے دهاگے ہلتے ہیں، ماہر ان سے تالیاں بجواتا ہے۔ تالیوں کی گونج ختم ہوتی ہے تو ایک اور کٹھ پتلی کے دهاگے ہلتے ہیں۔ ماہر اس سے عینک درست کرواتا ہے اور دهاگے کهینچ کر اسے اپنی جگہ پر کهڑا کردیتا ہے۔ وائس اوور چلتی ہے
۔”مدارس کا دہشت گردی کے ساته کوئی تعلق نہیں ہے”
پهر دهاگے ہلتے ہیں تالیاں بجتی ہیں ماہر کمال مہارت سے تمام کٹھ پتلیوں کو قابو کیے ہوئے ہے۔ ایک اور کٹھ پتلی میں حرکت ہوتی ہے۔ ماہر اسے چلاتا ہے وہ کبهی ادهر تو کبهی ادهر ہاتھ پیچهے باندهے کسی گہری سوچ میں غرق ہے۔ پهر وہ کٹھ پتلی ایک جگہ ساکت ہوتی ہے آواز آتی ہے
۔”شریعت کا نفاذ ضروری ہوگیا ہے”
تالیاں!
کہیں بهی کسی دهاگے میں کوئی فرق نہیں آرہا سامنے بیٹهے ہوئے تماشائی حیرت اور خاموشی سے ماہر کی مہارت کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ماہر ایک اور کٹھ پتلی کو حرکت دیتا ہے کٹھ پتلی چلتی ہوئی تهوڑا آگے آتی ہے۔ ہاتھوں کے اشارے سے تالیوں کی گونج کو روکتی ہے پهر ایک آواز آتی ہے
۔”ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو خودکش حملے ہوتے رہیں گے”
ایک بار پهر دهاگے حرکت کرتے ہیں کٹھ پتلیوں کے ننهے ننهے ہاتھوں سے بجتی تالیاں عوام کو حیرت کے سمندر میں غرق کررہی ہیں۔
ماہر اسی طرح دهاگوں کو حرکت دیتا جاتا ہے اور کٹھ پتلیاں مالک کے حکم کے مطابق اپنے پیغامات دیتی جاتی ہیں۔ ایک کٹھ پتلی کا کہنا ہے
۔”طالبان ہمارے ناراض بهائی ہیں”
ایک کٹھ پتلی گل افشانی کرتی ہے!
۔”طالبان کو دفتر مہیا کریں گے”
ایک اور!
۔”ہمارا اور طالبان کا ایجنڈا ایک ہی ہے”۔
آخر کار مبہوت تماش بینوں کے سامنے آخری کٹھ پتلی حرکت کرتی ہے۔ ماہر اسے مہارت سے آگے لاتا ہے آواز آتی ہے
۔”میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا لیکن تمام محترمین کی باتوں کو مد نظر رکهتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ‘محبت کا دن’ نہیں منایا جائے گا”۔
کٹھ پتلیوں کے ہاتھ حرکت کرتے ہیں تالیوں کی گونج آتی ہے۔
سٹیج پر بالکل اندهیرا ہوجاتا ہے اور اندهیرے سے ماہر کا ہیولہ باہر آتا ہے اور سٹیج پر روشنی کی جاتی ہے تماشائی ماہر کو دیکھتے ہیں!
لمبی سفید داڑهی، سفید شیشوں والی عینک،سر پر سفید عمامہ، لیکن حیرت کی بات ہے آج وہ برقعے میں نہیں تها۔
تماشائی تالیاں بجاتے ہیں اور ماہر کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ ابهر آتی ہے۔
پردہ گرتا ہے!


Comments

FB Login Required - comments