خوشی مناؤ! مسئلے تو حل ہوتے رہیں گے


\"\"پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ جو موضوعات سب سے زیادہ زیر بحث ہیں، ان میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف پاناما پیپرز کے حوالے سے مقدمہ ، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ کے طورپر تقرری ، اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف شہروں سے 5 بلاگرز کا پراسرار طور پر لاپتہ ہو جانا اور سب سے بڑھ کر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا جوش خطابت ہے جس میں وہ فرقہ پرستی کو دہشت گردی سے علیحدہ کرنے کی بھرپور مگر ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان نے گیارہ برس بعد میلبورن میں ہونے والے وے ڈے میچ میں آسٹریلیا کو شکست دی ہے۔ اس میچ نے ٹیسٹ سیریز اور پہلے ون ڈے میں پاکستانی ٹیم کی عبرتناک شکست کو بھلا دیا ہے اور پورا پاکستان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں ، نئے کپتان کی خوبیوں اور مستقبل میں یہ سلسلہ جاری رکھنے کی امید کو بنیاد بنا کر خوشی سے دیوانہ ہو رہا ہے۔ جو مبصر ایک روز پہلے تک پاکستانی کرکٹ اور کھلاڑیوں میں موجود نقائص کی تفصیل بتاتے نہیں تھکتے تھے، اب اسی ‘سیکنڈ گریڈ اور عالمی معیار سے کمتر‘ ٹیم کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ آج پاکستانی کرکٹ کے حوالے سے جتنی باتیں اور تبصرے کئے جائیں گے، اگر ان پرغور کیا جائے تو ملک کی سیاست اور سماجی حرکیات میں موجود نقائص کا اندازہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ رویہ قومی مزاج کا حصہ بنا دیا گیا ہے کہ کسی بھی معاملہ کی تہہ تک پہنچنے اور دور رس منصوبہ بندی کرنے کی بجائے وقتی ناکامی یا کامیابی سب سے زیادہ اہم قرار پاتی ہے۔ اس طرح قوم ان مسائل سے ناآشنا رہتی ہے جو اس ملک کے لوگوں کو درپیش ہیں۔

کرکٹ کے حوالے سے برس ہا برس سے یہ کہا جا رہا ہے کہ قومی سطح پر اس کھیل کا نظام بہتر کرنے، کرکٹ کنٹرول بورڈ کو پروفیشنل انداز میں چلانے، نئے ہونہار کھلاڑیوں کو میرٹ پر موقع دینے اور سینئر کھلاڑیوں کو کرکٹ کے نئے رجحانات پر نظر رکھنے کے علاوہ اپنی فٹنس پر توجہ دینی چاہئے۔ یعنی ایک ایسی مضبوط اور ٹھوس منصوبہ بندی و حکمت عملی کو اختیار کیا جائے جس کے نتیجے میں ملک کی ٹیم کی پرفارمنس میں تسلسل ہو۔ کھلاڑیوں کی صلاحیت پر اعتبار کیا جا سکے۔ گویا نہ ایک شکست ہمیں مایوس کرے اور نہ ہی ایک کامیابی ہمیں حواس باختہ کر دے۔ لیکن آج میلبورن سے فتح کی خبر سامنے آنے کے بعد ان تمام عوامل کو بھلا کر ملک کا بچہ بچہ خوشیاں منانے میں مصروف ہے اور اسے امید ہے کہ 5 ایک روزہ میچز کی سیریز میں اب یہ ٹیم آسٹریلیا کے چھکے چھڑا دے گی۔ کوئی یہ سوچنے کےلئے تیار نہیں ہے کہ اگر ایسا نہ ہؤا تو کیا ہوگا۔ اور اگرآئندہ ہونے والے میچز میں بھی پاکستانی ٹیم آج جیسی ہی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے تو بھی کیا یہ واقعی ملک کی کرکٹ کو لاحق مسائل کو حل کرنے کےلئے کافی ہوگا۔ لمحہ موجود میں یہ سوال غیر ضروری قرار پا چکا ہے۔ کرکٹ ٹیم کی مزید ایک فتح کرکٹ کی مستقل بہتری کےلئے سامنے آنے والی تجاویز کو مزید پیچھے دھکیل دے گی۔ یہی بات سیاسی اور سماجی شعبہ میں درپیش مسائل سے متعلق بھی درست ہے۔

نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز کیس کی سماعت شروع ہو چکی ہے۔ یہ مقدمہ نواز شریف اور ان کے بچوں کی لندن میں املاک کی ملکیت کے گرد گھوم رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف پارک لین کے چار اپارٹمنٹس کی ملکیت کے حوالے سے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ نواز شریف نے ماضی میں اقتدار میں رہتے ہوئے مالی بدعنوانی کی تھی اور یہ دولت منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر روانہ کی گئی۔ اور لندن میں قیمتی فلیٹس کی ملکیت سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ نواز شریف بدعنوان ہیں۔ اس طرح پاکستان تحریک انصاف کا مقدمہ سادہ ہے کہ نواز شریف کو عدالت یا فوج یا کوئی بھی خفیہ قوت اقتدار سے محروم کر دے تاکہ شفاف کردار کے حامل عمران خان اقتدار سنبھال کر ملک و قوم کی مکمل اصلاح کر سکیں۔ جیسا کہ گزشتہ روز انہوں نے ایک بیان میں واضح بھی کیا ہے کہ اگر انہیں تین ماہ کےلئے صرف ملک کے احتساب بیورو کا اختیار دے دیا جائے تو وہ سب بدعنوان لوگوں کو الٹا لٹکا دیں گے۔ اتنے بڑے لیڈر سے ۔۔۔۔۔۔ جس کے بارے میں یہ قرار دیا جائے کہ اس نے زندگی بھر نہ تو بے ایمانی کی اورنہ ہی جھوٹ بولا ۔۔۔۔۔۔ یہ کون پوچھ سکتا ہے کہ بدعنوان شخص کا سراغ لگانا تو ایک بات ہے۔ یہ الٹا لٹکانے والا محیر العقل عمل وہ ملک کے کون سے قانون کے تحت سرانجام دیں گے۔ یہ اور عمران خان کے علاوہ دیگر لیڈروں کے ایسے لاتعداد بیانات موجود ہیں جو مسائل کا سادہ اور بکنے والا حل فراہم کرتے ہیں۔ لیکن برائی یا عارضہ کی وجوہ جاننے اور انہیں دور کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ پاناما پیپرز کا معاملہ بھی کرکٹ کے معاملہ کی طرح اس رویہ کی نادر روزگار مثال ہے۔ نواز شریف اور ان کے بچوں کو لندن کے چار فلیٹس کی ملکیت کے حوالے سے مطعون کیا جا رہا ہے لیکن اسی خاندان نے ملک کے اندر جو بے بہا وسائل اور دولت حاصل کی ہے، اس کے بارے میں سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ کیونکہ مقصود اس ملک کے عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانا نہیں ہے بلکہ ان الزامات اور ہتھکنڈوں کو آزمانا مطلوب ہے جس سے سیاسی مخالف زیر ہو سکے۔

اسی طرح پاناما پیپرز کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے ملوث ہوکر خود اپنے لئے ایک مشکل کھڑی کرلی ہے۔ عدالت کےلئے یہ مقدمہ ایک ایسی چھچھوندر بن چکی ہے جس سے جان چھڑانا مشکل ہوچکا ہے۔ گزشتہ برس کے آخر میں اس مقدمہ کی سماعت کے پہلے دور میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ معاملہ پیچیدہ اور تحقیقات سے متعلق ہے اس لئے شاید اس کام کےلئے کمیشن قائم کر دیا جائے۔ ایسے کمیشن کے قواعد کے بارے میں چونکہ سیاسی اختلافات موجود ہیں لہٰذا یہ کار خیر بھی سپریم کورٹ خود ہی سرانجام دے گی۔ اس سلسلہ میں سوال پر رائے دیتے ہوئے تحریک انصاف نے کمیشن کی مخالفت کی۔ سپریم کورٹ کے اس وقت چیف جسٹس نے کہا تھا کہ وہ کسی رائے کو اہمیت نہیں دیتے بلکہ عدالت اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ تاہم مقدمہ کی ازسر نو سماعت شروع ہرنے پر کمیشن قائم کرنے کی بات گول کر دی گئی ہے۔ عدالت کا دعویٰ ہے کہ وہ اثر قبول نہیں کرتی لیکن دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ہر طرف سے دباؤ میں ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود نئے بینچ کی قیادت کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس فیصلہ کی وجہ اس کے سوا کیا ہوسکتی ہے کہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نئے چیف جسٹس پر نواز شریف کا حامی ہونے کا الزام عائد کر چکے تھے۔ عدالت معاملہ کو لندن فلیٹس کی ملکیت تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ گویا ساری بدعنوانی کا محور لندن کی اس جائیداد کا حصول ہی تھا۔ اس حوالے سے عدالت عظمیٰ یہ موقف اختیار کر رہی ہے کہ وہ کسی شخص کی ساری زندگی کو نہیں کھنگال سکتی۔ یہ بات بالکل بجا ہے لیکن یہ بات عدالت کو اس غیر ضروری مقدمہ کی سماعت کا آغاز کرنے سے پہلے سوچنی چاہئے تھی۔ سارا ملک جانتا ہے کہ یہ معاملہ ملک کی سیاست کا ایک حصہ ہے۔ بدعنوانی کے عارضے کا علاج مقصود ہو تو اس کےلئے سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑنے کی بجائے قومی اسمبلی میں قانونی اصلاحات اور گلیوں محلوں میں سماج سدھارنے کےلئے جاں فشانی سے کام کرنا پڑے گا۔

سابق آرمی چیف کی سعودی عرب میں اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کا معاملہ بھی اسی مزاج اور طرزعمل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پہلے اس بارے میں سوشل میڈیا پر افواہوں کا آغاز کیا گیا۔ پھر وزیر دفاع نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں نظریں چراتے اور شرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ ہاں، جنرل راحیل شریف اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ بنائے جا رہے ہیں۔ اس بارے میں وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے اور جنرل صاحب نے بھی ضروری اجازت لینے کے لئے اپنے ادارے سے رابطہ کر لیا ہوگا۔ جب اس بات پر لے دے شروع ہوئی کہ چار پانچ ہفتے قبل پاک فوج کے سربراہ کے عہدے سے علیحدہ ہونے والے جنرل راحیل کیوں کر سعودی عرب کی زیر نگرانی ایک غیر واضح فوجی اتحاد کی کمان سنبھال سکتے ہیں تو سرکاری نمائندے آئیں بائیں شائیں کرتے رہے۔ اور میڈیا میں حکومت کے ترجمان اسے نواز شریف کا سیاسی دھوبی پٹرا قرار دے کر قہقہے لگاتے رہے۔ چند روز بعد ہی، وہی خواجہ آصف جنہوں نے جنرل راحیل شریف کی نئی تقرری کا اعلان کیا تھا، سینیٹ میں یہ بتا رہے تھے کہ نہ تو انہیں عہدہ کی پیشکش ہوئی ہے اور نہ ہی انہوں نے حکومت یا فوج سے اس بارے میں اجازت طلب کی ہے۔ لیجئے معاملہ ختم۔ آپ سر دیوار سے پٹکئے لیکن وزیر دفاع سے یہ کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ انہوں نے ٹیلی ویژن پر قوم سے جھوٹ بولا تھا یا سینیٹ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ یا وہ واقعی جنرل راحیل شریف سے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس ہزیمت کا بدلہ لے رہے تھے جو تین برس کے دوران نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو سابقہ آرمی چیف کے ہاتھوں اٹھانا پڑی تھی۔ اس کھیل تماشے میں چند مباحث ، کچھ افواہیں ، درجنوں تبصرے اور الزامات تو سامنے آئے لیکن اس اصول پر کوئی بات نہ کی جا سکی کہ کیا پاک فوج کا سابقہ سپہ سالار معمولی ’’کرائے کا فوجی‘‘ بن کر کسی ایک ملک کےلئے خدمات سرانجام دے سکتا ہے۔

یہی حال گزشتہ دنوں لاپتہ کئے جانے والے 5 بلاگرز کے حوالے سے صورتحال کا ہے۔ ملک بھر میں سوشل میڈیا کے بعد اب مین اسٹریم میڈیا میں ان الزامات کی بنیاد پر بحث کی جا رہی ہے کہ لاپتہ ہونے والے لوگ بعض ایسی ویب سائٹس چلا رہے تھے جو توہین مذہب کی مرتکب ہو رہی تھیں۔ مذہبی جذبہ سے سرشار کالم نگار اپنے دلائل میں ناموس رسالت کی خاطر ہر ممکنہ اقدام کرنے کو ضروری اور کسی بھی مسلمان کا بنیادی فریضہ قرار دینے پر زور قلم صرف کر رہے ہیں۔ لیکن یہ جاننے کی زحمت کرنا نہیں چاہتے کہ یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ غائب شدہ لوگوں سے یہ جرم سرزد ہوا تھا۔ یہ رویہ تو محلے یا گاؤں کے اس مولوی جیسا ہی ہے جو کسی ذاتی عناد یا تنازعہ پر کسی شخص کی بات سنے بغیر اس پر توہین مذہب کا الزام لگاتا ہے اور متعلقہ شخص کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ کوئی اس اصولی بحث کو کسی منطقی انجام تک پہنچانا ضروری نہیں سمجھتا کہ جرم کی نوعیت سے قطع نظر ریاست کے کسی بھی ادارے کو یہ اختیار کیسے دیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی شہری کو اچانک غائب کر دے۔ اسی لئے وزیر داخلہ بھی قومی اسمبلی میں صرف نیک خواہشات کا اظہار کرنے سے ایک قدم آگے نہیں بڑھا سکتے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اپنی ایک غلطی ۔۔۔۔۔۔ یعنی مولانا احمد لدھیانوی سے ملاقات ۔۔۔۔۔۔۔ کو جائز اور درست ثابت کرنے کےلئے گزشتہ ایک ہفتہ سے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دہشت گرد اور فرقہ پرست علیحدہ علیحدہ لوگ ہوتے ہیں۔ کسی فرقہ پرست تنظیم یا گروہ کو دہشت گرد نہیں کہا جا سکتا بلکہ اس حوالے سے قوانین میں بھی اصلاح ہونی چاہئے۔ وزیر داخلہ کی عزت و شہرت کی حفاظت کےلئے سامنے آنے والے دلائل میں یہ اصول غیر اہم ہو چکا ہے کہ کیا لوگوں کو مارنے ، معاشرے میں نفرت پھیلانے اور انتشار پیدا کرنے والوں کے خلاف ریاست کو متحرک ہونا چاہئے یا پہلے یہ طے کرنا چاہئے کہ مارنے والا دہشت گرد تھا یا فرقہ پرست۔ اور مرنے والے کو کسی دہشت گرد نے مارا تھا یا فرقہ پرست نے۔ اگر چوہدری نثار علی خان کی ’’عینک‘‘ سے دیکھا جائے گا تو آگے بڑھنے سے پہلے یہ تخصیص کرنا ضروری ہوگا۔

معاملہ ابھی تک وہیں اٹکا ہوا ہے کہ اصول طے کئے جائیں یا ذاتیات اور شخصی حوالوں سے گفتگو کی جائے۔ ایک کامیابی پر ڈھول بجائے جائیں یا اصلاح احوال کےلئے اقدامات کئے جائیں۔ آخری خبر آنے تک ابھی ملک کی حکومت اور لوگوں کے پاس یہ طے کرنے کا وقت نہیں ہے کہ کون سا کام پہلے کرنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا جو خوشی منا سکتے ہیں وہ کرکٹ ٹیم کی کامیابی پر خوش ہوں۔ عمران خان یہ نوید دیتے رہیں کہ نواز شریف کے دن گنے جا چکے۔ خواجہ آصف بغلیں بجائیں کہ وہ کتنے ہوشیار سیاستدان ہیں اور کابینہ میں ان کے سب سے بڑے دشمن ملک کے چھبیلے وزیر داخلہ یہ ثابت کرنے میں مصروف رہیں کہ مولانا احمد لدھیانوی سے ان کی ملاقات جائز اور درست بلکہ قومی مفاد کے عین مطابق تھی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 647 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali