سندھ میں 15 مارچ سے مردم شماری کا آغاز


\"\"ڈی جی نادرا نے بریفنگ کے دوران سندھ کی صوبائی کابینہ کو بتایا ہے کہ سندھ میں کراچی، حیدر آباد اور گھوٹکی سے مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15 مارچ سے شروع ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کااجلاس ہوا جس میں زکوٰة وعشر کی صوبائی سطح پروصولی ، دینی مدارس اور اطلاعات تک رسائی کے بل امن وامان کی صورتحال، ترقیاتی منصوبے اور رینجرز کے خصوصی اختیارات سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران ڈی جی نادرا نے آئندہ مردم شماری سے متعلق اجلاس کو بریفنگ دی۔
ڈی جی نادرا نے بریفنگ کے دوران اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ سندھ میں مردم شماری مختلف مراحل میں ہوگی۔ مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15 مارچ کو شروع ہو جائے گا جس میں کراچی، حیدرآباد اور گھوٹکی شامل ہیں جب کہ دوسرامرحلہ 10 روز بعد شروع ہوگا۔ مردم شماری کے لیے ساڑھے 4 کروڑ فارم تیار کیے گئے ہیں اور ان فارم میں خصوصی بار کوڈ ہوں گے۔ مردم شماری کے فارم کواسکین کرنے کے لیے خصوصی مشینیں لی گئی ہیں جو صرف بار کوڈ والے فارم کو شمار کرے گی، فوٹو کاپی والا فارم بھی مشین نہیں پڑھے گی۔
مردم شماری کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے ڈی جی نادرا نے مزید بتایا کہ مردم شماری کے لیے مقرر ہر شمار کنندہ کو اس کے علاقے کا نقشہ بھی دیا جائے گا، اس کے علاوہ اس کے ساتھ ایک سپاہی بھی ہوگا، جن گھروں میں ایک سے زائد خاندان ہیں انہیں الگ کچن یا چولہے کی بنیاد پر گنتی کیا جائے گا، بغیر شناختی کارڈ والے شخص کوبھی مردم شماری میں شامل کیاجائے گا اور شناختی کارڈ کا نہ ہونا بھی ریکارڈ کا حصہ بنالیا جائے گا،صوبائی اور ضلعی سطح پر شکایات سیل بنائے جارہے ہیں جہاں مردم شماری کی سرگرمیوں کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ ہوگا جب کہ 60 روز میں ابتدائی اعداد و شمار جاری کردیے جائیں۔
اجلاس کے دوران منظور وسان نے تجویز دی کہ بوہری، گجراتی اور پارسی بھی مردم شماری فارم میں شامل ہونے چاہئیں کیونکہ یہ کمیونٹیز تقسیم ہند سے پہلے سے رہائش پذیر ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مردم شماری کو قابل قبول،معتبر اور شفافیت یقینی بنائی جائے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بھی شخص گنتی سے محروم نہ رہ جائے اور باہرکا کوئی شخص بھی گنتی میں شامل نہ ہوسکے۔

اسی بارے میں: ۔  کوئٹہ: فائرنگ میں تین شیعہ ہزارہ سمیت پانچ افراد ہلاک

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔