سی پیک: ترقی کی شاہ کلید


\"\"اس میں شک نہیں کہ چین ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے۔ اس نے امریکہ کے مقابل فوجی طاقت سے دنیا کی معیشت پر قبضہ کرنے کی بجائے سافٹ معاشی ذرائع سے انقلاب کی بنیاد رکھی ہے۔ چین نے ’’ون بیلٹ ون روڈ ‘‘کے ذریعے مشرق سے مغرب تک ساٹھ ممالک کو ایک ہی معاشی مدار میں جوڑے رکھنے کا خواب دیکھا ہے۔ سی پیک اس خواب کی ابتدا (pilot project) ہے اور پاکستان گوادر کی بدولت اس میں کنجی کی حیثیت رکھتا ہے۔

گوادر بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع گہرے سمندر کی بندرگاہ ہے۔ یہ بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ خلیجی ریاستوں کے تیل کی برآمد کے لئے واحد بحری راستہ یہی ہے۔ تیل کی دولت سے مالامال وسطی ایشیائی ریاستوں کی بھی قریبی ترین بندرگاہ بھی یہی ہے۔ اس کی افادیت یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کا پانی گرم ہونے کی وجہ سے پورا سال تجارتی سرگرمیاں بلاتعطل جاری رہ سکتی ہیں۔ اس کی نسبت ٹھنڈے پانی کی بندرگاہوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ کچھ مہینوں کے دوران تو اشیاء کی سمندری راستے سے ترسیل سرے سے ہو  ہی نہیں پاتی۔ متعدد اسلامی ملکوں کی سرحد سے ملحق یہ پورٹ ایک اہم ترین تجارتی دروازہ یا گیٹ وے ہے۔ یوں اس پورے خطے میں پاکستان ایک مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں، مغربی اور وسطی ایشیا کے لئے بھی انقلاب کی نوید بن سکتا ہے۔ افغانستان، ایران، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی ممالک میں معاشی اور صنعتی ترقی کے نئے دور کی شروعات بھی سی پیک سے وابستہ کی جا رہی ہے۔ ماہرین کو یقین ہے کہ اگر گوادر کے ذریعے بین الاقوامی تجارتی لین دین کا آغاز ہوجائے تو اس سے پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی آنے سے روپے کی قدر بڑھے گی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والوں میں چین سر فہرست ہے۔ اس کے تجارتی،علاقائی اور دفاعی مفادات گوادر پورٹ سے جڑے ہیں۔ گوادر اور کراچی کو ملانے کے لئے بھی دو سو ملین کے لگ بھگ خطیر سرمایہ سے کوسٹل ہائی وے بن چکی ہے۔ چین کی مشکل یہ ہے کہ اس کے پاس مغربی خطوں میں گرم پانیوں کی کوئی بھی بندرگاہ نہیں۔ اس متوقع اہمیت کے پیش نظر کئی ممالک اسے اپنے لئے بڑا خطرہ سمجھتے ہوئے اس کے خلاف باقاعدہ محاذ کھول چکے ہیں۔ بھارت،امریکہ اور اسرائیل کا ٹرائیکا اندرون خانہ خاصا سرگرم اور متحرک ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ چند ہی برسوں میں گوادر ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے نکل جائے گا۔ اسٹیل، لوہے اور گاڑیوں کے کارخانے یہاں لگنے ہیں۔ نیا ایئرپورٹ بننے؛ علاقائی شاہرات کی تعمیر؛ اور کوئلے سے بجلی کے پیداواری پلانٹس لگنے سے یہ ایک نئے معاشی ہب میں تبدیل ہوجائے گا۔ گوادر کے حوالے سے ایک اور خاص پہلو یہ ہے کہ یہ دبئی سے محض چالیس منٹ پرواز کی دوری پر ہے۔ مزید برآں فری ٹریڈ زون معاہدہ کے تحت چینی مصنوعات بغیرکسی ڈیوٹی کی ادائیگی کے مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں پہنچ جائیں گی۔ سادہ لفظوں میں گوادرپورٹ کی جدیدخطوط پر تعمیر سے صرف فاصلے ہی کم نہیں ہوں گے،بلکہ یورپ کے ساتھ تجارتی لاگت بھی کئی گنا کم ہوجائے گی۔

دراصل سی پیک ایک تجارتی منصوبہ ہے۔ یہ پاکستان کو چین سے جوڑنے کی ایک مربوط کوشش ہے۔ چین کے شمال مغرب میں واقع خود مختار علاقے سنگیانگ تک رسائی کو سہل ترین بنانا ہے۔ یہ عمل گوادر کی بندرگاہ کے ساتھ ساتھ ریلوے اور موٹرویز کی تعمیر کا محتاج ہے۔ شاہراہ ریشم کی توسیع بھی اسی کا حصہ ہے۔ منصوبہ اس قدر بڑا ہے کہ اس کی تکمیل میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔ منصوبہ کی لاگت کا اندازہ چون بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ سی پیک کو کئی مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اندازاً 2030ء تک اس کی تکمیل ہوجائے گی۔ بلوچستان کی گہرے سمندری پانیوں والی گوادرپورٹ کو چین سے ملانے کے لئے نئی شاہرات بنیں گی، ریل رابطے پیدا ہوں گے، نیز گیس و تیل کی پائپ لائنز بچھیں گی۔ منصوبہ کے لئے درکار تمام تر رقوم چین کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ آسان شرائط پر پاکستان کو فراہم کیے جانے والے قرضہ جات ان کے علاوہ ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر اور بجلی کے منصوبوں کی خاطر پاکستانی سرزمین استعمال ہونی ہے۔ اس مقصد کے لئے چینی ماہرین پہلے ہی پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ چینی ورکروں کی حفاظت کے لئے خصوصی دستے تشکیل دیے گئے ہیں۔ مزید برآں اقتصادی راہداری کے تحت ملک بھر میں متعدد صنعتی پارکوں اور کاروباری خطوں کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ نتیجتاً نہ صرف بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا،بلکہ ملکی وغیرملکی سرمایہ کاری میں متوقع اضافہ سے پاکستان اپنے پائوں پر بھی کھڑا ہو سکے گا۔

سی پیک ایک گیم چینجر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستانی معیشت پر اس کے نہایت خوش گوار اثرات مرتب ہوں گے۔ یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ پاکستان کے موجودہ مخدوش حالات کو سامنے رکھتے ہوئے بھی چین آخر کیوں اتنی خطیر سرمایہ کاری پر ہنسی خوشی آمادہ ہے؟ اس کا جواب نہایت سادہ ہے۔ پاک چین دوستی اس کی ایک وجہ ضرور ہے۔ لیکن کل حقیقت صرف یہی نہیں۔ دراصل سی پیک سے چین کے اپنے بھی مفادات جڑے ہیں۔ فی الوقت چین میں استعمال ہونے والا پچاسی فیصد کے قریب تیل آبنائے ملاکا سے گزرتا ہے۔ علاوہ ازیں یورپ،افریقہ اور مشرق ِوسطیٰ سے چین کی زیادہ تر تجارت بھی اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ تاہم یہاں مسئلہ یہ ہے کہ امریکا کے جنگی بحری جہاز ہمہ وقت یہاں موجود رہتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب چین تیزی سے ایک عسکری اور معاشی سپرپاور بن رہا ہے اور اس کے امریکا کے ساتھ براہ راست تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں، اسے ایک محفوظ راستے کی تلاش ہے۔ عرب ملکوں سے تیل کی ترسیل کے لئے مال بردار بحری جہازوں کو بحرہند اور بحرالکاہل کے طویل ترین روٹ سے ہو کر بیجنگ پہنچنا پڑتا ہے۔ یہ روٹ 13 ہزار کلومیٹر بنتا ہے۔ اس کے برعکس اگر عین یہی تجارت گوادرکے راستے ہو تو یہ روٹ محض چھ ہزار کلومیٹررہ جاتا ہے۔ یہ منصوبہ چین کو واحد سپرپاور بنانے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے بھارت سمیت پاکستان اور چین دشمن ممالک اکنامک کوریڈور کے حوالے سے شدید خدشات اور تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں جس کی سرگوشیاں واشنگٹن کو بھی بے چین کئے ہوئے ہیں۔

چین بنیادی طور پر ایک سوشلسٹ ملک ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے مستقبل کے لئے تیزی سے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اگرچہ فی الوقت جی ڈی پی کے لحاظ سے یہ چوتھا بڑا ملک ہے،لیکن اگر اس کی معیشت اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو کوئی وجہ نہیں کہ آنے والے چند ہی برسوں میں چین دنیا کی عظیم ترین طاقت بن کر نہ ابھرے۔ دنیا میں سب سے زیادہ آبادی کا حامل چین دنیا میں زر مبادلہ کے سب سے زیادہ ذخائر (چھبیس کھرب امریکی ڈالر) رکھنے والا ملک بھی ہے۔ چین میں امیر اور غریب میں تفریق تیزی سے کم ہوئی ہے۔ آج صرف آٹھ فیصد چینی ہی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان کے اگرچہ ریاست ہائے متحدہ امریکا سے بھی اوائل سے ہی بہترتعلقات قائم ہیں،لیکن ان کی نوعیت ہمیشہ چین کے بالکل برعکس رہی ہے۔ جہاں چین ہمارا وہ قابل اعتماد دوست ہے جس نے پاک بھارت جنگوں سمیت مشکل کی ہرگھڑی میں پاکستان کی عملی اعانت کی، وہاں امریکا کی زیادہ تر امداد زبانی کلامی کی حد تک ہی محدود رہی ہے۔ پاک چین دوستی کسی شک سے بالاتر ہے۔ لیکن پھر بھی یہ امر ناگزیر ہے کہ دونوں ملکوں کی موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت کے مابین طے پانے والے جملہ معاہدہ جات کو بھی جلد تحریری شکل میں محفوظ کر لیا جائے۔ مستقبل میں سول اور آرمی قیادت میں بدلائو کی صورت میں بھی پھرطرفین ہرطرح کی ممکنہ پیچیدگیوں کا تدارک کر سکیں گے۔

ان حقائق کے پیش نظر اب کوئی دو رائے نہیں کہ قدرت نے پاکستان کو ایک شاندار اور سنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔ اقوام کی تاریخ میں ایسے اہم اور فیصلہ کن موڑ کم ہی آتے ہیں۔ معاشی سرگرمیوں اور علاقائی تجارت کا مرکز بن کر ہم مستقبل کی سپرپاور کے ہم رکاب ہو سکتے ہیں۔ عسکری قیادت تو سی پیک کے بارے میں نہایت سنجیدہ ہے۔ اب سیاست دانوں کو بھی اب آپسی اختلافات پس پشت ڈالتے ہوئے ایک ہونا ہو گا۔ ’’پاک چین دوستی۔ زندہ باد‘‘ کے نعرے بھی کانوں کو بھلے لگتے ہیں۔ لیکن اصل بات چین سے سیکھنے اور پھر پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کی عملی سعی ہے۔ کیا ہماری قیادت اس خواب کو حقیقت کا روپ دے پائے گی؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

امتیاز احمد بٹ کی دیگر تحریریں
امتیاز احمد بٹ کی دیگر تحریریں