ایک اور بھرم ٹوٹ گیا


\"\"بچپن میں لگتا تھا پاکستان دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک ہے۔ معاشرتی علوم کی کتابوں میں جب پڑھا کہ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے تو یقین نہیں آیا۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی غلطی کی درستگی کے لیے محترم اساتذہ کو اس امید سے آگاہ کیا کہ وہ اس دریافت پر الفاظ میں نہ سہی ستائشی نظروں سے تو ضرور تعریف کریں گے مگر انہوں نے غلط فہمی دور کر کے دل ہی توڑ دیا۔ پورے یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ دل پاکستان کے ترقی پذیر ہونے پر ٹوٹا یا تعریف نہ ہونے پر۔اب اقوام متحدہ کی رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ در اصل پاکستان ترقی پذیر نہیں تیسری دنیا کا ملک ہے۔ بات سچی ہے مگر اچھی نہیں لگتی۔ حکومت پاکستان کے مطابق پاکستان دوبارہ سے ترقی پذیر ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ بات اچھی ہے مگر سچی نہیں لگتی۔

ایمانداری سے سوچیں تو ترقی یافتہ اقوام میں پاکستان کا شامل ہونا ممکن ہی نہیں۔ پاکستان ان ممالک سے کیسے مقابلہ کر سکتا ہے جن کی تاریخ سے لے کر جغرافیائی اور قدرتی عوامل تک سب پاکستان سے مختلف ہیں مگر کیا ہم اپنے خطے کے ممالک سے بہتر نہ سہی ان جیسا بننے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے؟ ہماری قوم بھی بھارت اور بنگلہ دیش کے بارے میں اس جاگیر دار کی سی سوچ رکھتی ہے جس کے گاﺅں کے کمہار کا بیٹا ڈپٹی کمشنر بھی بن جائے تو بھی ذہنی طور پر وہ اس کی برتری تسلیم نہیں کرتا اور آنکھیں چرائے رکھتا ہے۔ بھارت پاکستان سے فی کس آمدنی میں بہتر ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش دونوں میں پاکستان سے بیروزگاری کی شرح کم اور تعلیم کی شرح زیادہ ہے۔ ہم کس دنیا میں رہ رہے ہیں؟

اسی بارے میں: ۔  ہم قیدی برگد کو کیسے آزاد کرائیں؟

آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے جڑواں ملک بھارت اور اپنے وجود کے حصے بنگلہ دیش سے بھی پیچھے رہ گئے؟ اس سوال کے جواب میں جتنا بھی لٹریچر میری نظروں سے گزرا یا جن بھی دوستوں سے گفتگو ہوئی اس کا لب لباب یہ ہے کہ پاکستان ان ممالک سے دو وجوہات کی بنا پر پیچھے ہے۔ ایک سیاست دانوں کی کرپشن اور دوسرا فوج کی مداخلت۔ مگر ان سب سے معذرت کے ساتھ میرے خیال میں یہ دونوں وجوہات اس سوال کا مکمل جواب دینے سے قاصر ہیں۔ پاکستان میں بھارت سے کرپشن زیادہ ہے مگر اتنی زیادہ نہیں کہ ملک کی ترقی میں اتنا واضح فرق نظر آئے۔ اس تلخ حقیقت کو بھی تسلیم کر لیا جائے تو بہتر ہے کہ پاکستان یہ جو تھوڑا سا اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہے وہ بھی فوجی ادوار میں ہونے والی ترقی کا ہی مرہون منت ہے۔

قیام پاکستان کے وقت بھارت اور پاکستان کے پاس قائد اعظم، گاندھی اور نہرو کی شکل میں جو قیادت میسر تھی اسے بلا شبہ بیسویں صدی کی بہترین قیادت کہا جا سکتا ہے۔ نہرو ہندوستان کی آزادی کے بعد سترہ سال تک بھارت کا وزیر اعظم رہا۔ دوسری طرف پاکستان پر قائد اعظم کی نا گہانی موت کے بعد محض نو سالوں میں بارہ وزرائے اعظم اور گورنر جنرلز نے حکمرانی کی۔ ایک نومولود ملک کو استحکام کی ضرورت ہوتی ہے جس سے پالیسی اور نظام کو ایک حتمی شکل مل سکے۔ افسوس ناک سچائی ہے کہ اس دور میں بھارت نے استحکام کے ذریعے پاکستان پر جو برتری حاصل کر لی تھی وہ آج تک برقرار ہے۔

اسی بارے میں: ۔  میری کتابوں کی ہجرت

پاکستان قیام کے کچھ عرصہ بعد ہی لاوارث ہو گیا تھا۔ اس کا اثر نہ صرف پاکستان کی داخلی صورتحال پر پڑا بلکہ پاکستان کی غلط خارجہ پالیسی کی اصل وجہ بھی یہی تھی۔ جس دور میں نہرو نے کمال مہارت سے روس کا ساتھ حاصل کر کے بھارتی خارجہ پالیسی کو ایک درست ٹریک پر لگا دیا اسی دور میں پاکستان کے عالی دماغوں نے روس پر امریکہ کو ترجیح دے کر پاکستانی خارجہ پالیسی کا ایسا ستیا ناس کیا کہ اس کے اثرات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ پاکستان اور بھارت میں اصل فرق لیڈرشپ کا ہی رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو قیام پاکستان کے بعد کا واحد لیڈر سمجھنے کے پیچھے بھی شاید یہی سوچ تھی کہ بھٹو نے اس بھٹکی ہوئی خارجہ پالیسی کو درست ڈگر پر لانے کی ناکام کوشش کی تھی۔

بھارت کی پاکستان پر برتری کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ قیام پاکستان کے وقت بھارت کے پاس پاکستان سے زیادہ وسائل تھے کیونکہ انگریز دور حکومت میں ہندوﺅں نے کمال عیاری سے بڑے بڑے انڈسٹریل پلانٹ ہندو اکثریت کے علاقوں میں لگوا لیے تھے۔ بات میں کچھ وزن ضرور ہے مگر سانحہ ڈھاکہ کے بعدبنگلہ دیش بھی اسی صورتحال سے دوچار تھا کیونکہ مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے بھی بنگالی چاول، چائے اور پٹ سن کے کارخانے مغربی پاکستان میں لگوائے تھے۔ اس کے باوجود بنگلہ دیش نے پاکستان سے زیادہ ترقی کیسے کر لی؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “ایک اور بھرم ٹوٹ گیا

  • 17-01-2017 at 2:22 am
    Permalink

    آپ نے فرمایا “بات میں کچھ وزن ضرور ہے مگر سانحہ ڈھاکہ کے بعدبنگلہ دیش بھی اسی صورتحال سے دوچار تھا کیونکہ مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے بھی بنگالی چاول، چائے اور پٹ سن کے کارخانے مغربی پاکستان میں لگوائے تھے۔ اس کے باوجود بنگلہ دیش نے پاکستان سے زیادہ ترقی کیسے کر لی؟”
    بھائی پہلے یہ تو سمجھاؤ کہ چاول کا کارخانہ کیا ہوتا ہے؟ اس میں کیا بنتا/مینوفیکچر ہوتا ہے؟
    پھر یہ بتاؤ کہ آپ کے نام نہاد چاول، چائے اور پٹ سن کے کون کون سے کارخانے مغربی پاکستان میں کہاں کہاں لگائے گئے تھے۔
    لاحول ولا قوۃ
    حد ہے بنیادی معلومات کے فقدان کی۔

Comments are closed.