تجھ کو نہیں، مجھے تو مشرف عزیز تھا


wisi 2 babaدو ہزار تیرہ الیکشن کے نتائج کافی پہلے ہی واضح ہو چکے تھے کہ نوازشریف حکومت بنائیں گے۔ یہ دیکھ کر اسٹیبلشمنٹ نے نوازشریف سے بیک چینل رابطے کر لئے تھے کہ انکا موڈ چیک کیا جائے۔ یہ مذاکرات چلتے رہے بغیر دھکوں کے کہ تقریبا سارے ہی اہم معاملات پر نوازشریف نے اداروں کا موقف تسلیم کر لیا تھا۔

ان اہم معاملات میں شدت پسندی افغانستان پر اداروں کی رائے کا برتر ہونا شامل تھا ایک چھوٹا سا ٹیسٹ بھی دیا گیا تھا نوازشریف کو کہ وہ سعودی حکومت سے فاصلہ رکھیں گے ایسا شاید اس لئے ضروری سمجھا گیا کہ کہیں سعودی احسانات کے بوجھ تلے ریاستی مفادات کو نقصان ہی نہ پہنچے۔ اس پر بھی عمل ہوا نوازشریف دور میں سعودیہ سے فاصلہ ایسا رکھا اور محسوس کرایا گیا کہ پاکستان میں کئی مہینوں تک کوئی سعودی سفیر ہی نہ تھا۔

ہمارے بے خبر کے مطابق نوازشریف نے باقی سب معاملات تو مان لئے تھے لیکن کارگل پر کمیشن نہ بنانے کا وعدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ا س پوائنٹ پر مذاکرات ٹوٹ گئے تھے جو کئی ماہ بعد یوں بحال ہوئے کہ یہ کہا گیا کہ کارگل کمیشن رہنے دیں آپ جنرل مشرف کا ٹرائل کر کے رانجھا راضی کر لیں۔ نوازشریف نے یہ تسلیم کر لیا البتہ ساتھ ہی واضح کر دیا کہ اگر جنرل مشرف کو پاکستان سے بھگانے کی کوشش ہوئی یا انہیں ضرورت سے زیادہ فیور دی گئی تو پھر کارگل کمیشن بنے گا۔

جنرل مشرف کو عدالتوں میں اچھا خاصا رولا جا چکا ہے نوازشریف کا تو معلوم نہیں البتہ گوبھیوں (قوم) کی ہر گز تسلی نہیں ہوئی۔ مشرف رفتہ رفتہ اب قانونی مصائب سے باہر آتے جا رہے ہیں نواب اکبر بگٹی کے قتل کیس میں بری ہو چکے ہیں جبکہ لال مسجد کے سجادہ نشین مولوی عبدالعزیز نے انہیں اچانک معاف کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ البتہ اس اعلان کے بعد وہ اپنے ہی خاندان اور لال مسجد آپریشن میں جان بحق ہونے والوں کے لئے بنائی گئی شہدا فاو¿نڈیشن سے گتھم گتھا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اداروں میں ایک بڑا حلقہ جنرل مشرف کو ایک ہیرو سمجھتا ہے اس کے لئے ان کے پاس اپنی وجوہات ہیں جو کچھ اس طرح کی ہیں کہ جنرل مشرف نے ستمبر گیارہ کے بعد جب ساری دنیا پاکستان افغانستان کا میراتا کرنے کو تیار ہو گئی تھی اپنی حکمت عملی سے پاکستان کو بچا لیا۔ یاد رہے کہ میراتا ایک پختون رسم ہے جس میں دشمن کو ا سکے سارے خاندان بال بچوں سمیت مار مکایا جاتا ہے۔ ایسا کرنے کے لئے دوست رشتہ دار اکٹھے ہوتے ہیں یلغار ہوتی ہے دشمن کا خاندان تہہ تیغ کرنے کے بعد اس کے اثاثے تقسیم کر لئے جاتے ہیں۔

جنرل مشرف نے پاکستان کو تو میراتا ہونے سے بچانے کے لئے امریکی اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی افغانستان میں بھی امریکی فتح کے خواب کو دھول مٹی کر کے رکھ دیا ایسا انہوں نے اپنی ڈبل گیم سے کیا۔ جنرل مشرف کو چاہنے والے بتاتے ہیں کہ ایک وقت آئے گا کہ اپنے وطن کے لئے ان کی خدمات پر ان کی تعظیم کی جائے گی۔ اللہ ہی جانے ایسا ہو گا یا ایسا کرنا مناسب ہو گا کہ نہیں۔

یہ کہانی ایک گپ ہی محسوس ہوتی ہے لیکن مولوی عبدالعزیز جب لال مسجد کے سب ذمہ داروں کو معاف کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو اس کا اصل فائدہ تو جنرل مشرف کو ہی پہنچ رہا ہے۔

مولانا عبدالعزیز کافی عرصے سے عدالت جانے سے گریزاں تھے بس ان کا دل نہیں کر رہا تھا کہ قانون اندھا ہو چکا تو بھی انکی بینائی تو بہر حال قائم تھی۔ مولانا کا خیال تھا کہ کل عالم میں ان کا دبدبہ مثالی ہے لیکن یہ جو سی ٹی ڈی قائم ہوئی ہے اس کے اعمال افعال ہر گز ٹھیک نہیں اس کے افسران احکامات بھی حکومت سے براہ راست لیتے ہیں تو ایسا نہ ہو کہ مولانا کو پھڑ کر لے جائیں پھر مولانا مجبور ہو جائیں کہ اپنی شاندار مہمان نوازی کی وجہ سے سی ٹی ڈی ان سے ایسے ویسے بیانات نہ دلوا دے جیسے صولت مرزا نے دئیے یا اب عزیر بلوچ دے رہے ہیں اور دونوں کے سرپرست دوست احباب منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔

مولانا کو کسی نے کان میں پھونک ماری ہے وہ خود بھی زمانہ شناس ہیں سب سمجھ چکے ہیں اس لئے جنرل مشرف کی خدمات کے بارے میں پتہ لگتے ہی ترنت انہیں معاف کر دیا ہے۔

ان سب باتوں کو پڑھ کر ہر گز یہ نہ سمجھیں کہ کوئی سول ملٹری تنازعہ چل رہا ہے لگ یہ رہا ہے کہ بڑی سوچ سمجھی حکمت عملی کے تحت دہشت گردی، بدامنی اور لاقانونیت کے اونٹ کو ایک کروٹ بٹھایا جا رہا ہے اس میں دھول اڑ رہی ہے جو قوم کی آنکھوں میں پڑتی رہے تو اچھا ہے کہ کام سہولت سے ہو جائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments