عقل بڑی کہ بھینسا


\"\"

اب نہ فیض رہے نہ اقبال بانو۔ ایل پی سے کیسٹ، کیسٹ سے سی ڈی، سی ڈی سے آئی پوڈ کا زمانہ آن پہنچا۔ فیض صاحب نقش فریادی لیے زنداں سے ہوتے ہوئے اک شام رخت دل باندھے چلے گئے اور اقبال بانو کی آواز کی گونج ایک ٹوٹتی سانس میں کانپتے سروں کا سفر طے کرتی ایک دن تھک ہار کر خاموش ہو گئی پر تمنا کی وسعت ایک سراب ہی رہی۔ کتنے چاند افق کے پار ڈوب گئے۔ ہر کالی رات کے کنارے پھر وہی پرانا دن لوٹا۔ فیض کو برا بھلا کہیں کہ اقبال بانو کو کوسیں۔ ”ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے“ کی تکرار کرتے کرتے بالوں میں دائمی برفوں نے بسیرا کر لیا پر وہ دن نہ آیا جس کا وعدہ پتہ نہیں کس نے کیا تھا، کس سے کیا تھا، کب کیا تھا، کہاں کیا تھا۔ ایسا دھوکہ اچھا نہیں یارو۔

اگلی نسل کو کیا یہی نظم سنائیں کہ اس نے نہ پرانا ہونا ہے نہ ماضی کا حصہ بننا ہے۔ یہ نوری میلوں کی مسافت کا وہ تارا ہے جو شاید جنموں پہلے ٹوٹ کر بلیک ہول بن چکا ہے پر ہم ایسے طفل خوش فہم اس کی روشنی کو اب بھی سچ مانتے ہیں۔ ابھی بھی اچک کر چھت سے اسے چھونے کی کوشش کرتے ہیں کہ شاید اگلی جست میں اسے لپک لیں۔ عقل ہوتی تو فیض صاحب کا دیوان بند کرکے کسی گہری دراز میں پھینک، اس کی چابی گما دیتے اور اقبال بانو کی کھرج دار تانوں کو ڈیلیٹ کا بٹن دبا ہمیشہ کے لیے آئی پوڈ کی پلے لسٹ سے خارج کر دیتے۔ سننے کو اور بھی گانے ہیں۔ پڑھنے کو اور بھی شاعر ہیں۔ آدمی علی ظفر اور وصی شاہ پر بھی تو قانع رہ سکتا ہے اور خوش بھی رہے گا۔ ہماری خوشی ان پرندوں کے پروں پر کیوں لکھی ہے جو اب ہماری سوکھی جھیلوں کا راستہ بھول گئے ہیں۔ خوشی بے انت انتظار میں نہیں ہے، بڑھ کر مینا اٹھا لینے میں ہے۔ جام بھرے ہیں۔ دست ساقی مہربان ہے، ہاتھ ابھی دراز ہے، رات ابھی جوان ہے پھر بھی کوئی مدہوش نہ ہو تو قصور تیرا ہے یا میرا۔

اسی بارے میں: ۔  بچپن کی یتیمی، جوانی کی غریبی، بڑھاپے کا عشق

چھٹی صدی میں مسیحی رومن بادشاہ جسٹینین کے وضع کردہ قانون میں لکھا گیا کہ قحط، زلزلے اور تمام آفات ناگہانی خدا کے غضب کا اظہار ہیں جو اہل روم پر اس لیے نازل ہوتا ہے کہ وہ گستاخان مسیحیت کو قرار واقعی سزا نہیں دیتے۔ قرار واقعی سزا کا تعین کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ موت سے کم سزا پر پیکرِ رحمت یسوع کا خدا راضی نہ ہو گا۔ اور بہتر ہو گا کہ موت کربناک ہو کہ سب کو کان ہو جائیں۔ اس سے تین صدیاں پہلے بھی فیصلہ یہی تھا پر فرق یہ تھا کہ انصاف کا پرچم اٹھانے والے ہاتھوں نے تحریر کیا تھا کہ خدا کے غضب کے ذمہ دار ایک ابھرتے ہوئے مذہب عیسائیت کے پیروکار ہیں کہ ان کا مذہب وقت کے خداوند کا گستاخ ہے۔ خدا کی تو خدا جانے پر زمین پر فیصلے تیسری صدی میں بھی انسان نے کیے تھے اور چھٹی صدی میں بھی۔ آج اکیسویں صدی میں بھی کہانی یہی ہے۔ تاریک زمانہ وہیں ہے بس اس کا جغرافیہ بدل گیا ہے۔ نام بدل گئے ہیں، کردار وہی ہیں، اسٹیج بدل گیا ہے، کھیل اب بھی وہی ہے۔ تماشبین اب بھی کلوزیم میں گرتے انسانی جسم دیکھتے ہیں۔ بے جان ہوتے لاشوں سے اچھلتا گرم خون اپنے چہروں پر محسوس کرتے ہیں اور دیوانہ وار تالیاں پیٹتے ہیں۔

تماشے کے متمنی کو تماشہ چاہیے۔ اسے ثبوت سے غرض نہیں ہے، اسے قانون کی کتاب نہیں پڑھنی۔ اسے حقوق کا پاٹ نہیں جپنا، اسے ضابطے سے غرض نہیں ہے، اسے بہتان، الزام اور دشنام میں فرق نہیں سیکھنا۔ اس کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہے۔ وہ چوک میں کھڑا ہے، اس کے ہاتھوں میں پتھر ہیں اور اس نے کبھی کوئی گناہ نہیں کیا ہے تو اسے یہ پتھر اچھالنے ہیں پر ہوا میں نہیں۔ اسے ایک زندہ نشانہ چاہیے تاکہ وہ ایک گرتا جسم دیکھ سکے، خون اچھلتا دیکھ سکے اور چیخ میں لپٹا نغمہ مرگ سن سکے۔

اسی بارے میں: ۔  حرام موت کا دکھ

چوک میں ہجوم ہے۔ ہجوم کی پشت پر اہل الرائے ہیں جن کی دستار کے طروں کے پیچ وخم آسمان میں چھید کرتے ہیں۔ ان کے جبے مشرق و مغرب میں لہراتے ہیں۔ ان کی نوک زبان پر حجت دھری ہے۔ اس حجت کے دوسرے سرے پر آگ دہکتی ہے۔ شعلے سب چاٹ جانے کو بے قرار ہیں۔ ان کی حدت، ان کی لپک، ان کی لو ہجوم کو بے قرار کر دیتی ہے، بے بس کر دیتی ہے۔ ہجوم ایک کے بعد ایک نئے تماشے کے لیے بے چین ہے۔

\"\"

اور تماشہ کیوں نہ ہو۔ عشق نے مدت ہوئی عقل کو چاروں خانے چٹ کر دیا ہے۔ اکھاڑے میں اب ایک ہی پہلوان دندناتا ہے۔ عقل تو پوچھے گی کہ اس نئے تماشے کی حجت کہاں سے آئی۔ کون سا قانون ہے اس کی پشت پر، کون سی اخلاقی قدر کا پردہ اٹھانے پر کھیل رچا گیا ہے۔ بھینسا ہو کہ موچی ہو کہ روشنی ہو، ان کا کھرا کس نے اٹھایا، کب اٹھایا، اور کس طرح کن گھروں تک پہنچایا، اگر پہنچایا تو۔ کس تھانے میں پرچہ کٹا، عینی شاہدین کی فہرست کہاں ہے۔ مان لیا کہ قابل تعزیر ہیں ساری باتیں جو کی گئیں پر یہ ثابت کیا افلاک سے آتی نوائے سروش نے کیا ہے کہ باتیں کس دیوار کے پیچھے سے کن زبانوں سے پھوٹی ہیں یا پھر اہل الرائے کو کوئی تار بابو سرکاری ٹیلی گرام میں یہ خبر دے کر گیا ہے۔ کہیں کوئی عالم رویا میں سرگوشی تو نہیں کر گیا۔ پر یہ سوال تو عقل کے ہیں اور عقل تو چھوٹی ہے۔ جنگل میں عقل سے بڑی بھینس ہے اور بھینس سے بڑا ہے بھینسا پر سچ یہ ہے کہ دونوں سے بڑا ہے ڈنڈا، اس سے چاہو تو بھینسے کو ہانک لو چاہے عقل کو۔ رہے نام اللہ کا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 94 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

2 thoughts on “عقل بڑی کہ بھینسا

  • 28-01-2017 at 12:26 am
    Permalink

    حاصل غزل شعر:
    “عشق نے مدت ہوئی عقل کو چاروں خانے چت کر دیا ہے۔ اکھاڑے میں اب ایک ہی پہلوان دندناتا ہے۔”

  • 28-01-2017 at 12:27 am
    Permalink

    حاصل غزل شعر:
    “عشق نے مدت ہوئی عقل کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ اکھاڑے میں اب ایک ہی پہلوان دندناتا ہے۔”

Comments are closed.