بقا کا مسئلہ یا دانشورانہ بے اعتنائی


zafar kakarافتادگان خاک تاریخ کے آئینے پر نظر جمائے رکھتے ہیں۔ اہل مروت سو سو بل کھانے کو بے نوائی جانتے ہیں۔ اہل دانش نے مگر زبان تیغ سے دیسی لبرل، ولایت پلٹ دانشور، اسلام بیزار یا اسلام سے شرمانے والے دانشور جیسی پر مغز اصطلاحات کا رواج روا رکھا ہے۔ اخبار کے صفحے پر ذات کے جلے پھپھولے پھوڑنا قاری کی ناقدری ہے۔ اس سخن پروری کو طاق نسیاں پر دھرنا بہتر، مدعا بیان کرتے ہیں۔محترم انصار عباسی صاحب نے اپنے کالم’ اجتماعی فنا اور بقا کا مسئلہ‘ میں جو شعلہ بیانی فرمائی اس پر تو ان کے مخاطبین ہی ان کو بہتر جواب دے سکتے ہیں مگر پاکستان میں موجود اقلیتوں کے بارے فاضل کالم نگار نے جس بے مثال رواداری کا ذکر کیاہے اس پر جگر دہل رہا ہے۔فاضل کالم نگار لکھتے ہیں ’ جب بھی بات اسلامی نظام کی جائے تو نہ جانے کیوں یہ ”دانشور“ یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلامی پاکستان کا مطلب یہ ہے کہ اقلیتوں کے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں ہو گی اور اس پر لمبی لمبی تقریریں کرنے لگتے ہیں‘۔فاضل کالم نگار کے رشحات فکر سے تاثر یہ ملتا ہے کہ وہ پاکستان میں اقلیتوں کی حالت زار بہت اچھا سمجھتے ہیں اور ایک اسلامی پاکستان میں اقلیتوں کے تمام جائز حقوق کے بارے میں مطمئن رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’اسلام بیزار دانشوروں‘ کا اقلیتوں کے حقوق کا مطالبہ صرف ان کی اسلام بیزاری یا باالفاظ دیگر اسلامی نظام سے فرار کا ایک بہانہ ہے۔ عرض ہے کہ اس غیر اسلامی پاکستان میں بھی جس کا وزیراعظم بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے اقلیتوں کی جگہ خاکروبوں والی ہے۔ معزز کالم نگار کے اسلامی پاکستان میںاس کی کیا حیثیت ہو گی وہ تو جناب خود فرما دیں۔ نظائر پرکچھ گزارشات مگر پیش خدمت ہیں۔یہ بات البتہ فاضل کالم نگار کو شاید یاد کرانے کی ضرورت نہ ہو کہ بہکی بہکی باتیں کرنے والے وزیراعظم نے 28 اگست 1998کو قومی اسمبلی سے پندرھویں ترمیم پاس کرائی تھی۔13 اپریل 2009 کو نظام عدل ریگولیشن بھی منظور ہوا تھا۔

پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی داستان بہت لمبی ہے۔ 2010 ءمیں لاہور میں احمدی عبادت گاہ پر حملے میں 80 سے زائد افراد کی ہلاکت ہو، 2013 میں پشاور چرچ حملے میں 80 سے زائد افراد کی ہلاکت یا 2015 ءلاہور چرچ حملے میں 15 افراد کی ہلاکت ہو ،یا2013ءکوئٹہ میں ہزارہ برادری کے سینکڑوں لوگوں کا قتل عام ہو، اس کی تفصیل میں نہیں جاتے کہ جواب میں کہا جائے گا کہ صرف اقلیت نہیں ایسے واقعات اکثریت کے خلاف بھی اسی ملک میں ہوئے ہیں۔یہ سوال مگر ابھی تک جواب طلب ہے کہ اس مملکت خداد میں اقلیت ستر سال بعد بھی ’خاکروب‘ کے فرض منصبی پر ہی کیوں براجمان ہے؟ ممکن ہے فاضل کالم نگار کی نظر میں جون 2014 میں لاہور کے لیڈی ویلنگڈن اسپتال اور ستمبر2014 کو منڈی بہاؤ الدین کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال کے سینٹری ورکرز کی آسامیوں کے لیے شایع اشتہار میں وضاحت کہ’ صرف غیر مسلم اقلیتی امیدوار اپلائی کریں‘ کسی’ بیرو میٹر‘ کی حیثیت نہ رکھتے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ فاضل کالم نگار جسٹس منیر رپورٹ کے اس اقتباس کو بھی اسلام بیزار دانشوروں کا اقلیتوں کے بارے میں قائم غلط تاثر قرار دیں جس میں لکھا تھا، ’ 25 جون 1952 کو قصور میں ایک جلوس نکالا گیا جس میں چوہدری ظفر اللہ خان(وزیرخارجہ پاکستان) کو نہایت ذلیل گالیاں دی گئیں۔مثلاََ ’ظفر کنجر، ظفر کتا،ظفر سور‘ اور بعد میں شرکائ جلوس ایک گدھی کو پکڑ لائے جس پر ’بیگم ظفر “ لکھا تھا‘۔

چونکہ جسٹس منیر رپورٹ کا ذکر چل پڑا ہے تو فاضل کالم نگار کی خدمت میں بغیر کسی تبصرے کے اسی رپورٹ کے کچھ اقتباسات رکھتے ہیں تاکہ اسلامی پاکستان کے فکری التباس میں مبتلا ’اسلام پسند دانشوروں‘ کا اقلیتوں کے بارے میںمجموعی فکر کا اندازہ لگایا جا سکے۔

جسٹس منیر رپورٹ کے مطابق مئی 1952 میں کراچی جہانگیر پارک کے ایک جلسے چوہدری ظفراللہ خان کی ایک تقریر کے بعد بننے والے آل پاکستان مسلم پارٹیز کنونشن (واضح رہے کہ اس آل پاکستان مسلم پارٹیز میں پاکستان کے تمام مکاتیب فکر کے علماءشامل تھے، تفصیل کے لئے رپورٹ دیکھی جا سکتی ہے)نے مختلف اجلاسوں کے بعد جو متفقہ قرار منظور کی وہ تین نکات پر مشتمل تھی۔”(۱) احمدیوں کو اقلیت قرار دے دیا جائے۔(۱۱) ظفراللہ خان کو وزیر خارجہ کے عہدے سے برطرف کیا جائے۔(۱۱۱) جو احمدی حکومت کے کلیدی عہدوں پر قابض ہیں ان کو عہدوں سے موقوف کیا جائے“۔احمدی اب آئینی طور پر اقلیت ہیں اس لئے اس پر کلام نہیں کیا جا سکتا۔ ظفراللہ خان اب ماضی کا قصہ ہیں۔ لیکن ان نکات پر جسٹس منیر نے آل پاکستان مسلم پارٹیز کنونشن کے علمائے کرام پر جو جرح کی ہے وہ قابل غور ہے۔
جسٹس منیر رپورٹ کہتی ہے، ’ ہمارے سامنے سب جماعتوں نے تسلیم کیا کہ ان تینوں مطالبات کی نوعیت سیاسی نہیں بلکہ قطعی طور پر مذہبی ہے۔اس کلیے کا استثنا صرف حافظ کفایت حسین(شیعہ عالم) ہیں کہ صرف ایک مطالبہ جس میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی خواہش کی گئی ہے، مذہبی نوعیت رکھتا ہے۔ان مطالبات کی لازمی دینی نوعیت سے نہ جماعت اسلامی اور نہ اس کے امیر ابوالاعلی مودودی نے انکار کیا‘۔( صفحہ نمبر286)
رپورٹ اپنے باب ’ غیر مسلموں کا موقف‘ میں کہتی ہے۔ ’ جس وجہ کی بنا پر چوھدری ظفر اللہ خان اور مملکت کے کلیدی اسامیوں کے احمدی عہدہ داروں کی برطرفی کا مطالبہ کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ احمدی غیر مسلم ہیں اس لئے ایک اسلامی مملکت کے ذمیوں کی طرح وہ مملکت کے بڑے عہدوں پر تقرر کا حق نہیں رکھتے‘۔ (صفحہ نمبر331)
غیر مسلموں کے موقف کے باب میں مولانا ابولحسنات سید محمد احمد قادری، مولانا احمد علی، میاں طفیل محمد اور مولانا عبدالحامد بدایونی کی شہادتوں کو قلم بند کیا گیا۔ اس موضوع پر رپورٹ میں مولانا ابولحسنات پرجرح درجہ ذیل ہے۔
سوال۔ اگر ہم پاکستان میں اسلامی مملکت قائم کریںگے تو کفار(غیر مسلم) کا موقف کیا ہو گا۔ کیا انہیں سرکاری عہدوں پر فائز ہونے کا حق ہو گا؟
جواب۔ان کا موقف ذمیوں کا سا ہو گا۔ ان کی وضع قوانین میں کوئی آواز نہ ہو گی۔ قانون کی تنقیذ میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا اور سرکاری عہدوں پر فائز ہونے کا حق نہ ہو گا۔ (صفحہ نمبر331)
میاں طفیل احمد نے حسب ذیل بیان دیا:۔
سوال۔ اقلیتوں کے متعلق جو مضمون ’سول اینڈ ملٹری گزٹ مورخہ 13 اکتوبر 1953 میں شائع ہوا تھا۔ اس کو پڑھ کر بتائیے کہ آیا اس میں اسلامی مملکت کے متعلق آپ کے خیالات کی صحیح ترجمانی کی گئی ہے(اس مضمون میں بیان کیا گیا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق مسلمانوں کے برابر ہوں گے)
جواب۔میں نے یہ مضمون پڑھ لیا ہے اگر پاکستان میں جماعت اسلامی کے نظریے پر مبنی مملکت قائم کی جائے تو میں پاکستان میں عیسائیوں یا دوسرے غیر مسلموں کے ان حقوق کو تسلیم نہیں کروں گا۔ (صفحہ نمبر332)
مولانا عبدالحامد بدایونی:۔
سوال۔ کیا آپ اب تک پاکستان کے اس تصور سے اتفاق کرتے ہیں جو قائداعظم نے دستورساز اسمبلی کی تقریر میں پیش کیا تھا اور جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آج کے بعد صرف ایک پاکستانی قوم ہو گی جس میں مسلم اور غیر مسلم شامل ہوں گے۔ان سب کو مساوی شہری حقوق حاصل ہوں گے۔ نسل مذہب اور مسلک کا کوئی امتیاز نہ ہو گا۔ اور مذہب محض فرد کا نجی معاملہ سمجھا جائے گا؟
جواب۔ میں اس اصول کو تسلیم کرتا ہوں کہ تمام قوموں کو خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم مملکت کے نظم و نسق اور قانونسازی میں ان کی آبادکاری کے مطابق نمائندگی ہونی چاہیے۔ سوائے اس کے کہ غیر مسلم شعبہ فوج اور محکمہ عدالت میں نہ لئے جا سکیں گے، نہ وزیر مقرر کیے جا سکیں گے اور نہ کسی اعتماد کے عہدے پر فائز ہو سکیں گے۔
سوال۔ کیا آپ کا مقصد اس سے یہ ہے کہ غیر مسلموں کا موقف ذمیوں کا سا ہو گا یا اس سے بہتر ہو گا؟
جواب۔ جی نہیں۔ ذمیوں سے مرادان ملکوں کی غیر مسلم آبادی سے ہے جن کو کسی اسلامی مملکت نے فتح کیا ہو۔ اس لفظ کا اطلاق ان غیر مسلم اقلیتوں پر نہیں کیا جا سکتا جو کسی اسلامی مملکت میں پہلے سے آیا ہو ایسی اقلیتیں معاہد کہلاتی ہیں (یعنی وہ لوگ جن سے کوئی معاہدہ کیا گیا ہو)
سوال۔ اگر ان سے کوئی معاہدہ نہ ہو تو پھر ان کی حیثیت کیا ہو گی؟
جواب۔ ایسی حالت میں ان قوموں کو شہریت کے کوئی حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔
سوال۔کیا پاکستان میں رہنے والی غیر مسلم اقلیتیں آپ کے نزدیک معاہد کہلا سکتی ہیں۔
جواب۔ جی نہیں تاوقتیکہ ان سے کوئی معاہدہ نہ ہو۔ میرے علم میں ایسی قوموں کے ساتھ پاکستان میں اب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔( صفحہ نمبر332 ،333)
یہ بحث بہت طویل ہو جائے گی۔ فاضل کالم نگار پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والا سلوک دیکھ لیں اور پھر ان کے بارے ہمارے جید علما کے ان اقوال پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ فکر پہلے موجود تھی اب نہیں ہے۔اب بھی ٹی ٹی پی سمیت یہ بیانیہ اپنے پورے شد و مد سے موجود ہے۔ معزز کالم نگار اگر اصرار کریں تو ان کی خدمت میں اب بھی پاکستان کے جید علمائے کرام کے ایسے فتاوی کی ایک لمبی فہرست پیش کیے جا سکتی ہے جن میں لوگوں کو ایک اقلیت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی کمپنی میں کام کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ جس میں اقلیت کے ساتھ میل جول، مراسم اور دوستی کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔جس میں اقلیت کے ساتھ کھانے پینے منع کیا گیا۔ منصفی چاہنے کا مدعامگر یہ ہے کہ ’ جب بھی بات اسلامی نظام کی جائے تو نہ جانے کیوں یہ’دانشور‘ یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلامی پاکستان کا مطلب یہ ہے کہ اقلیتوں کے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں ہو گی اور اس پر لمبی لمبی تقریریں کرنے لگتے ہیں ‘۔ حفیظ میرٹھی نے منصفی کے بارے میں کیا خوب لکھا تھا۔
عجیب لوگ ہیں کیا خوب منصفی کی ہے
ہمارے قتل کو کہتے ہیں خودکشی کی ہے

( حوالہ جات:۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب1953 مقرر کردہ زیر پنجاب ایکٹ 1954,2 المعروف منیر انکوائری رپورٹ، شائع کردہ نیا زمانہ پبلیکشنز 14 بی ٹیمپل روڈ لاہور)


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 81 posts and counting.See all posts by zafarullah

2 thoughts on “بقا کا مسئلہ یا دانشورانہ بے اعتنائی

  • 09-02-2016 at 10:11 pm
    Permalink

    great one again sir ji

  • 09-02-2016 at 10:13 pm
    Permalink

    from where can we get this report sir

Comments are closed.