سپریم کورٹ کے نئے دربان اور شیخ رشید کی حکمت عملی


\"\"

خبر اڑی ہے کہ پیر کو جب پاناما کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوئی تو عدالت کے مرکزی دروازے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری آفتاب باجوہ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ آج تو وہ کسی بھی رکن پارلیمنٹ کو کمرہ عدالت میں نہیں جانے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کے ارکان کے لئے ہاؤسنگ سکیم کے لئے چھ ارب روپے حکومت کو دیے ہیں لیکن ابھی تک اس بارے میں کوئی این او سی جاری نہیں کیا گیا۔ ہماری رائے میں تو یہ وجہ نہایت معقول ہے کہ اس کی بنیاد پر اراکین پارلیمنٹ، سرکاری ملازمین، میڈیا اور ہر اس شخص کا سپریم کورٹ میں داخلہ بند کر دیا جائے جو حلیے سے تعمیرات سے متعلق دکھتا ہو یا دفتری بابو نظر آئے۔

آج کل تو ملک بھر میں دہشت گردی کی شدید لہر چلی ہوئی ہے اور ریڈ زون تو شدید قسم کا حساس علاقہ ہے۔ ادھر اگر ہر ایرے غیرے کو جانے سے نہ روکا گیا تو بڑی گڑبڑ ہو سکتی ہے۔ اب اگر وکلا اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر خود سے یہ دربانی کرنے لگے ہیں اور سپریم کورٹ تک جانے سے لوگوں کو روکنے لگے ہیں تو اس پر ان کی جتنی تعریف بھی کی جائے وہ کم ہے۔ وکلا تحریک کے بعد سے بیداری کی جس لہر نے کچہریوں کو گرفت میں لیا تھا، اب وہ سپریم کورٹ کے دروازے تک پہنچ چکی ہے اور سپریم کورٹ کے عزت مآب ججوں سے انصاف لینے کے لئے بھی فاضل وکلا کی اجازت لازم ٹھہری ہے۔

\"\"

وکلا کو ہاؤسنگ سکیم کا این او سی جاری نہ کرنے والے جو مشکوک افراد سب سے پہلے دکھائی دیے وہ تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق تھے۔ غالباً ان دونوں نے وکلا کے دلائل سے قائل ہو کر ہاؤسنگ سکیم کا این او سی جاری کر دیا ہو گا اس لئے کچھ دیر بعد ان کو عدالت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی۔

اس کے بعد عمران خان صاحب اپنے مصاحبین کے ساتھ تشریف لائے۔ دربان روکتے ہی رہ گئے مگر وہ این او سی دیے بغیر ہی ہر رکاوٹ کو روندتے ہوئے اندر چلے گئے۔ دربانوں نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور میڈیا کو بتایا کہ وہ تو صرف حکومتی نمائندے یا اس کے کسی وکیل کو روکنے کے لئے کھڑے ہیں۔ اس لئے انہوں نے پاناما کیس کی پیروی کے لئے آئے ہوئے نواز شریف صاحب کے وکیل مخدوم علی خان صاحب کو روک لیا۔ اب اگر مخدوم صاحب ہمارے جیسے نازک مزاج ہوتے تو وہیں سے پلٹ جاتے اور بھری عدالت اور عمران خان ان کا انتظار ہی کرتے رہ جاتے، مگر خوش قسمتی سے وہ صبر تحمل والے ہیں اس لئے اٹارنی جنرل صاحب سے سفارش کروا کر وہ اپنے کیس کی پیروی کے لئے کمرہ عدالت میں جانے میں کامیاب ہو گئے۔

\"\"

اس کے بعد حکومتی ترجمان اور اطلاعات و نشریات کی وفاقی وزیر مملک محترمہ مریم اورنگ زیب تشریف لائیں تو دربانوں نے انہیں روک لیا۔ غالباً ان کا خیال تھا کہ محترمہ کے ساتھ خان صاحب جیسا لاؤ لشکر نہیں ہے اور وہ کمزور سی خاتون ہیں تو ان پر دھونس جمائی جا سکتی ہے۔ لیکن دربانوں کے تجربے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا جب انہوں نے ایک ایسی خاتون سے جھگڑنے کی کوشش کی جو کہ ان خواتین کی طرح جھگڑ سکتی ہیں جو کہ جھگڑتی ہیں۔ وکیل تو شریف لوگ ہیں، اور خواتین تو لڑتے ہوئے چپل بیلن طعنہ ہر شے ہی استعمال کر جاتی ہیں۔ وہ بھی اندر چلی گئیں اور آخری اطلاعات آنے تک دربان ایک نیا موقف تلاش کر رہے تھے لیکن اتنا انہوں نے بتا دیا کہ انہیں ہاؤسنگ سکیم کا این او سی نہ دیا گیا تو وہ کسی حکومتی رکن پارلیمان یا وزیر کو سپریم کورٹ سے انصاف نہیں لینے دیں گے۔

\"\"

اس کے بعد پاناما کیس کی سماعت شروع ہوئی۔ گزرے وقتوں کے مقررین کے بارے میں سنتے آئے تھے کہ وہ ساری ساری رات تقریر کرتے تھے اور مجمع جاگتا رہتا تھا۔ مخدوم علی خان صاحب نے اس سے بڑھ کر کام کیا۔ ان کی تقریر شروع ہوئی تو ایسا سماں چھایا کہ عمران خان، شیریں مزاری اور جہانگیر ترین سحر زدہ سے ہو کر اونگھنے لگے اور شیخ رشید صاحب تو باقاعدہ خراٹے لے کر دلائل کی داد دینے لگے۔ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے بھی نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل نہایت توجہ سے سنے اور اس دوران شیخ رشید کی مانند ہی آنکھیں بن کر کے ان دلائل پر بے پناہ توجہ مرکوز کرتے دکھائی دیے۔ واللہ ایسا وکیل دفاع تو کمال ہوتا ہے جو مدعی کو ہی میٹھی باتوں میں لگا کر سلا دے۔

دکھائی یہ دے رہا تھا کہ بھری عدالت میں صرف عزت مآب جج حضرات کو ہی کیس سے دلچسپی ہے کہ انصاف کرنا ان کا فرض ہے۔ ورنہ مدعی کو اس سے کچھ مطلب نہیں ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 630 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar