وزیر اعظم کو امور مملکت میں استثنیٰ حاصل ہوتا ہے: مخدوم علی خان


\"\"پاناما کیس میں وزیر اعظم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو امور مملکت میں استثنیٰ حاصل ہوتا ہے ، پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کو عدالت میں نہیں لایا جاسکتا ، جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ یہاں سوال مختلف ہے ، پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہوئی ، وزیر اعظم نے کرپشن کے الزامات کا جواب دیا۔ سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کو عدالت میں نہیں لایا جاسکتا۔ وزیر اعظم کو امور مملکت پر استثنیٰ حاصل ہوتا ہے لیکن یہ لامحدود نہیں جبکہ صدر اور گورنر کو آئین مکمل استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔ مخدوم علی خان نے بھارت اور نیوزی لینڈ کے عدالتی فیصلوں کے بھی حوالے دیئے اور کہا کہ ارکان پارلیمنٹ آرٹیکل چھیاسٹھ کا استحقاق رکھتے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا وہ پاناما کیس میں آپ آرٹیکل 66 کا استحقاق مانگ رہے ہیں ، دو سو اڑتالیس کا استثنیٰ نہیں۔ وکیل نے کہا کہ وہ آرٹیکل چھیاسٹھ کی بات اس لیے کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم نے تقریر ایوان میں کی ، جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ارکان پارلیمنٹ کے استحقاق کے معاملے پر پوری دنیا کے مقدمات کا حوالہ دینا ضروری نہیں ، یہاں سوال مختلف ہے کیونکہ پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہوئی وزیر اعظم نے کرپشن کے الزامات کا جواب دیا ، لہٰذا اس معاملے کو نظر میں رکھیں گے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سزا دینا چاہتے ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں