جاؤ۔ ہم نے تمہارا پرندہ آزاد کیا


\"\"

جاؤ
ہم نے تمہارا پرندہ آزاد کیا
بس چونچ اس کی کاٹ دی ہے
جو دراصل چبھتی بہت ہے ان انگلیوں میں
جو فیصلہ لکھنے کے بعد قلم توڑ دیتی ہیں
بس ایک ذرا سی زبان ہی تو تھی اس کی
جو ہم نے اپنے پاس رکھ لی ہے
تاکہ اس کے شور و شرابے سے بیدار نہ ہوں
گہری نیند میں مدفون اہلِ چمن
اور پنجے مروڑ دیے ہیں ذرا زرا سے
تاکہ چمن کی ٹہنیوں پر جم کر بیٹھا نہ رہے
پروں کو بھی تھوڑا سا نوچ لیا ہے
تاکہ دوبارہ اتنی اُڑان نہ بھر سکے
کہ زندانوں کی اونچی فصیلوں پر آ کر بیٹھ جائے
اور تم ہمیں الزام دو
کہ ہمارا پرندہ قید میں ڈال دیا ہے تم نے
چلو اب لوٹ جاؤ سب کے سب اپنے گھروں کو
اور لمبی تان کر ایک مطمئن نیند سو جاؤ
کہ اب پھر کبھی ایسا نہ ہوگا
جاؤ
ہم نے تمہارا پرندہ آزاد کیا


Comments

FB Login Required - comments

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 25 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah