بریلوی علمائے کرام کی خدمت میں چند گزارشات


\"\"

حالات واقعات سے باخبر لوگ جانتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد دیوبندی مکتبہ فکر مسلسل حکومتی اشکنجوں میں کسا ہوا ہے۔ دنیا نے دیوبندیوں کا چہرہ ایک دیو کی طرح دکھایا پاکستان و افغانستان کی مسلح تنظیموں نے دنیا بھر میں تشدد کے حوالے سے شہرت حاصل کی۔

دیوبندیوں کا جب بھی نام آتا تو سبھی یک زبان ہو کے کہتے وہ جو شدت پسند ہیں۔ وہ جو کفر کے فتوے بانٹتے ہیں۔ وہ جو لوگوں کی گردنیں کاٹتے ہیں۔ ایک طرف عوامی رد عمل دوسری طرف حکومتی کارروائیاں جاری رہیں۔ ہزاروں لوگ مرے۔ ہزاروں عورتیں بیوہ ہوئیں۔ ہزاروں آج بھی غائب ہیں۔ معاملات قابو سے باہر تھے دیوبندیوں کے پاس دو راستے تھے ایک یہ کہ لڑنا ہے اور بچی قوت کو بھی ختم کرنا ہے دوسرا راستہ ہے پرامن جدوجہد کا مسلح تنظیموں کی نفی کا۔

ان دو نکات کو سامنے رکھ کر ایک دن تمام دیوبندی اکابرین بیٹھے انہوں نے اس آگ کو کم کرنے کی کوشش کی۔ فتوی بازی کی روک تھام کی۔ مسلح جدوجہد کو حرام قرار دیا اور مخالفین کے خلاف نعرے بازی بند کروائی۔ کچھ حالات کا جبر اور کچھ مولانا فضل الرحمن کی مہربانیوں سے یہ آگ بجھی تو نہیں البتہ کم ضرو ہوئی۔ اگر مولانا فضل الرحمن کی بجائے ہمارے مفتی کفایت اللہ ہوتے تو کچومر نکل جانا تھا دیوبندیت کا۔ اب دیوبندیوں کا عالم یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں بھائی چلنے دو وقت کے تقاضوں کو سمجھا جائے۔ یہ سبق بہت مار کھانے کے بعد حاصل کیا گیا۔ بدنامی جب عروج پہ پہنچی تو اس کی روک تھام کا فیصلہ کیا گیا۔ لوگوں نے اسلام کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا۔ بات اسلام کی ہوتی تو یار لوگ دیوبندی اسلام کو بیچ میں لے آتے۔

اس دوران جب بھی بریلوی مکتبہ فکر کی بات ہوتی تو لوگ کہتے وہ صوفیاء کے ماننے والے لوگ ہیں وہ اولیاء کے ماننے والے ہیں۔ وہ داتا کی نگری والے ہیں وہ لوگوں میں محبت اور پیار بانٹتے ہیں۔ یقیناً یہ سن کے خوشی ہوتی کہ چلو دنیا اہل مذہب کے کسی چہرے کو تو خوبصورت مانتی ہے پھر معلوم نہیں کیا ہوا یکا یک بریلوی مکتبہ فکر کے لوگوں میں بھی تبدیلی رونما ہونا شروع ہو گئی۔ کراچی کے ایک عالم کی تقریر سنی جس میں وہ کہتے ہیں کہ صحابہ تو سب کے ہیں لیکن جب بات اہل تشیع کی آتی ہے تو سپاہ صحابہ کا نام لیا جاتا ہے ہمارا کیوں نہیں؟ اس لیے کہ انہوں نے خود کو منوایا ہمیں بھی منوانا ہو گا۔ ختم نبوت کی بات ہوتی ہے تو دیوبندیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے ہمارا نہیں اس لیے کہ ہم نے خود کو منوایا نہیں۔ ہمیں اپنی حیثیت منوانی ہو گی۔ ہمیں ہر باطل کے خلاف نکلنا ہو گا۔ ہمیں سیاست کے میدان سے لے کر فرق باطلہ تک سبھی کے خلاف موثر آواز بلند کرنی ہوگی۔ پھر زمانے نے دیکھا کہ سنی تحریک پہ پابندی لگی کہ یہ پرتشدد جماعت ہے۔ اس کے علاوہ طاہرالقادری صاحب نے دھرنا دے کر اور پولیس پہ تشدد کر کے ایک پیغام دیا کہ ہم یوں بھی کر سکتے ہیں۔ پھر ممتاز قادری کا اقدام تو ایک نئی روح پھونک گیا۔ اب بریلوی مکتبہ فکر کے لوگ ممتاز قادری کا نام لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ جوبن پہ ہے اور اس کے ایک ذمہ دار جب گالیاں دیتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے عشق رسول کے نام لیوا گالیاں اور بیہودہ جملے کس رہے ہیں۔ اب آئے روز لوگوں کو گستاخ رسول ڈکلیئر کیا جارہا ہے نوجوانوں کو جذباتی کیا جا رہا ہے۔ رسول اللہ کی حرمت پہ میری جان قربان۔ میرے ماں باپ قربان۔ لیکن آقا کے نام پہ اب جو دھما چوکڑی مچائی جا رہی ہے یہ مذہب کے اس خوبصورت چہرے کو بھی بدنما بنا دے گی۔

میں دکھی ہوں میں رنجیدہ ہوں کاش میرا احساس کوئی جان لے۔ میں چاہتا ہوں کہ بریلوی مکتبہ فکر کے سنجیدہ علماء آگے بڑھیں اور اس سیلاب کو روکیں۔ اب یہ طے ہے کہ سرکار یہ سب کچھ نہیں مانے گی اب اکنامکس الائنس بن رہے ہیں معاشی دور دورہ ہے۔ معاشی ترقی کے لیے ہیجان اچھا نہیں ہوتا معاشی ترقی تبھی ہوتی ہے جب امن ہو۔ معاشرہ پرسکون ہو۔ اب رٹ سرکار کی چلے گی۔ قبل اس کے کہ آپ مار بھی کھائیں، مذہبی لوگوں کا یہ خوبصورت چہرہ بھی داغدار ہو، نوجوان قتل ہوں اور حالات قابو سے باہر ہوجائیں۔ تب آپ امن کی بات کریں تو ماضی جان نہیں چھوڑے گا۔ صرف ماضی ہی نہیں بلکہ وہ نوجوان بھی جان نہیں چھوڑیں گے جن کو آج آپ تیار کر رہے ہیں۔

دیکھیں نا جب شمس الرحمن معاویہ قتل ہوئے اسی دن ناصر عباس کو بھی قتل کیا گیا۔ لشکر جھنگوی کے لڑکوں نے شمس الرحمن معاویہ پہ جو گولی چلائی وہی گولی ناصر عباس پہ بھی چلائی۔ پھر فرق مٹ گیا۔ جو گولی اور بارود کسی فوجی کے خلاف استعمال ہوتا ہے اسی بارود سے مولانا فضل الرحمن کو طالبان نے نشانہ بنایا ہے۔ پھر کوئی مرید اٹھتا ہے اور پیر حسن جان صاحب کو قتل کر دیتا ہے۔ آپ یہ دن کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟ واپس پلٹیں۔ نعرہ اور ہیجان بھاپ کی طرح ہوتا ہے۔ آپ اولیاء کے نمائندے اچھے لگتے ہیں آپ امن کی تبلیغ کرتے اچھے لگتے ہیں یہ گالیاں یہ مار دھاڑ آپ سے اچھی نہیں لگتی۔ میری گزارش ہے کہ سنجیدہ علماء کرام آگے آئیں اپنے نوجوانوں کو بچائیں، انہیں پریشانی میں مبتلا نہ کریں اور اس خوبصورت مذہبی چہرے کو روشن رہنے دیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “بریلوی علمائے کرام کی خدمت میں چند گزارشات

  • 18-01-2017 at 2:51 pm
    Permalink

    یہ لوگ نہیں مانیں گے لیکن آپ سمجھانے کی کو‎شش جاری رکھیں۔ کچھ فرق تو آ جا‍‌‌‏‌‌ۓ گا۔

  • 25-01-2017 at 10:26 am
    Permalink

    Good message

Comments are closed.