سیکولرازم کیا ہے؟


 

karimullahکریم اللہ

آج کل سیکولر نظامِ سیاست ومعاشرت سے متعلق ادبی حلقوں اور روشن خیال دانشوروں میںبحث ومباحثوں کا بازارگرم ہے۔ پاکستان میں جدید فلسفیانہ تصورات کی تاریخ اور روزمرہ زندگیوں میں انہیں قابلِ استعمال بنانے کے حوالے سے اس قسم کی بحثوں کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ جب کہ گزشتہ ستر برسوں سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہئے یا پھر جدید سیکولر انداز سے ملک کا نظم ونسق چلانے کی ضرورت ہے؟حالیہ بحث کا آغا ز نامور ادیب اور دانشور جناب وجاہت مسعود نے ’سیکولرازم کیا ہے‘ کے عنوان سے پانچ قسطوں پر محیط طویل مضمون کے ذریعے کیا۔ وجاہت مسعود جیسے روشن خیال اور صاحبِ مطالعہ دانشور سے اختلاف رکھنا اس طالب علم کے لئے سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ البتہ موصوف نے اپنے کالموں کے مجموعے میں سیکولرازم پر تاریخی تناظر میں روشنی ڈالنے کی بجائے سیکولرازم کو حالاتِ حاضرہ کے تناظرمیں بیان کرتے ہوئے طالب علموں کو اس جدید علمی اصطلاح سے متعلق مزید کنفیوژن میں مبتلا کردیا۔ سیاسیات وتاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے خاکسار سیکولرازم کو تاریخی تناظر میں زیادہ سلیس اندازسے بیان کرنے کی جسارت کررہاہوں۔ میرے اس مضمون کا زیادہ ترحصہ ’لالٹین ڈاٹ کام‘ میں شائع ہونے والے ایک پرانے بلاگ بہ عنوان”سیکولرازم کیا ہے؟“سے ماخوذ ہے۔ سیکولر لاطینی زبا ن کا لفظ سیکولم (Seculum) سے ماخوذ ہے جس کے معنی دنیا کے ہیں۔ سیکولرازم جدید سیاسی اصطلا ح ہے جس کا مطلب ” ایسا سیاسی اور سماجی نظام ہے جس کی بنیادیں مذہب اور مابعد الطبیعیاتی نظریات کی بجائے عقل اور سائنسی اصولوں پر رکھی گئی ہو“۔ نامور دانشور اور مصنف محترم سبطِ حسن اپنی تصنیف ’نویدِ فکر‘ میں سیکولرازم کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”قرونِ وسطیٰ میں رومن کیتھولک پادری دو گروہوں میں بٹے ہوئے تھے، ایک وہ پادری جو کلیسائی ضابطوںکے تحت خانقاہوں میں رہتے تھے۔ دوسرے وہ پادری جو عام شہریوں کی سی زندگی بسر کرتے تھے کلیسا کی اصطلاح میں آخرالذکر کو سیکولرپادری کہا جاتا تھا وہ تمام ادارے بھی سیکولر کہلاتے تھے جو کلیسا کے ماتحت نہ تھے اور وہ جائیداد بھی جسکو کلیساءفروخت کر دیتا تھا آج کل سیکولرازم سے مراد ریاستی سیاست یا نظم ونسق کی مذہب یا کلیسا سے علیحدگی ہے“۔ (نویدِ فکر صفحہ69 )۔

انسائیکلوپیڈیا امریکانا کا حوالہ دیتے ہوئے سبطِ حسن لکھتے ہیں ”سیکولرازم ایک اخلاقی نظام ہے جو قدرتی اخلاق کے اصول پر مبنی ہے۔ جو الہامی مذہب یا مابعداطبیعیات سے جدا ہے۔ اس کا پہلا کلیہ فکر کی آزادی ہے یعنی ہر شخص کو اپنے لئے کچھ سوچنے کا حق۔ ۲: تمام فکری امور کے بارے میں اختلافِ رائے کا حق “۔ ڈاکٹر مولوی عبدالحق کے انگلش اردو ڈکشنری کے مطابق ’سیکولرازم اس معاشرتی اور تعلیمی نظام کو کہتے ہیں، جس کی اساس مذہب کے بجائے سائنس پر ہو اور جس میں ریاستی امور کی حد تک مذہب کے مداخلت کی گنجائش نہ ہو “ (نویدِ فکرصفحہ 70)۔

مولانا وحید الدین خان’ مسائل اجتہاد‘ میں لکھتے ہیں ” حقیقت یہ ہے سیکولرازم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں سیکولرازم کا مطلب لادینیت نہیں بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانب دارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے۔ یہ ایک عملی تدبیر ہے اسکا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کانظام چلایاجائے “۔

سیکولرازم یہ دعویٰ تو نہیں کرتا کہ اس دنیا وی خوشی کے علاوہ اور کوئی خوشی نہیں ہو سکتی، البتہ ایسے ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں انسانی سوچ اور فکر آزاد ہو جس کی بناپر انسان مظاہرِ قدرت اور کائنات کی تخلیق اور یہاں موجود فطرت کے کرشمات پر غورو فکر کرکے اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔

سیکولر نظام کی بنیادیں انتہائی قدیم ہے، البتہ سیکولر اور سیکولرازم کی اصطلاح پہلی مرتبہ 18ویں صدی کے ایک انگریز مفکر اور دانشور ’ جارج جیکب ہولی اوک‘ نے وضع کی۔ جیکب ہولی اوک برطانیہ کے شہر برمنگھم کے ’میکنکس انسٹی ٹیوٹ‘ کااستاد تھا۔ مشہور خیالی سوشلسٹ رابرٹ اووین کا ہم نوا ہونے کے جرم میں اسے ادارے سے نکال دیا گیا، اس زمانے میں لندن سے روشن خیالوں کا ایک رسالہ ’ندائے عقل‘ شائع ہوتا تھا، جیکب ہولی اوک بھی اسی رسالے سے منسلک ہوا۔ 1841ء میں اس رسالے کے مدیر کو مسیحی اصولوں سے انحراف کے جرم میں ایک سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا، تو ہولی اووک اس رسالے کا مدیر مقرر ہوا۔ ابھی چھ ماہ ہی گزرے تھے کہ انہیں (ہولی اوک کو) بھی منطقی دلائل پر مبنی ایک تقریر کرنے کی پاداش میں چھ ماہ کے لئے قید کی سزادی گئی، قید سے رہائی کے بعد ہولی اوک ترقی پسند سائنسی خیالات کی ترویج کے لئے تقریریں کرتا اور رسالے لکھتا رہا۔ 1851ء میں انہوں نے لندن میں ”سنٹرل سیکولر سوسائیٹی “ کے نام سے ایک علمی وادبی انجمن قائم کیا ہولی اوک کا موقف تھا کہ

1:انسان کی سچی رہنما سائنس ہے۔

2:اخلاق مذہب سے جدا ایک پرانی حقیقت ہے۔

3 :علم وادراک کی واحد کسوٹی اور سند عقل ہے۔

 4:ہر شخص کو فکر اور تقریر کی آزادی ملنی چاہئے۔

 5:ہم سب کو دنیا کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ (نویدِ فکر، سبطِ حسن)۔

سیکولرازم کے بغیر جمہوریت کا خواب تپتے صحرا میں سراب کی مانند ہے، دورِ حاضر میں سیکولرجمہوریت کے بغیر مہذب جدید ریاست کا تصور غیر فطری امرہے جوکہ اپنے اندرونی تضادات کی وجہ سے زیادہ دیر اپنی وجودبرقرار نہیں رکھ سکتی۔ سیکولرازم کا متضاد تھیوکریسی یا مذہبی ریاست کے ہے۔ اگر تاریخی عمل اور سماجی ارتقاءکا بغورگہرائی سے مطالعہ کیاجائے تو ریاست ہزاروں برسوں کی ارتقائی عمل کے باووجود اپنے خواص کے لحاظ سے ہمیشہ سیکولر ہی رہی۔ البتہ مختلف ادوار میں حکمران اپنی حکومتوں کو طول دینے کی خاطر مذہب کا سیاسی استحصال کرتے رہے۔ یہاں بنیادی مظہر کی جانب توجہ مرکو زکرنے کی ضرورت ہے۔ کہ مذہب عشق ومحبت اور عقیدے کا نام ہے جو انسان کے دلی جذبات اور خداکی ذات سے تعلق رکھتے ہیں کسی انسان کا عقیدہ ایک پیچیدہ مابعدالطبعیاتی عمل ہے۔ جسے خدا کی ذات کے علاوہ کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔ باالفاظِ دیگر مذہب ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے۔ ایک مذہب کے پیروکار کسی حد تک ایک جیسے نظریات کے حامل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ریاست کا معاملہ اجتماعیت پر مبنی ہے ایک مذہب میں ایک ہی نقطہ نظر کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ البتہ ریاست مختلف مکتبہ فکرکے افراد کا مجموعہ ہے۔ دنیا میں جب بھی ریاست کو یک قطبی بنانے کی کوششیں ہوتی رہی توہر دورمیں تکثیریت اور گوناگونی کے علم بردار وں نے ایسی کوششوںکو ناکام بنا کر معاشرے کی فطری رنگارنگی کو برقراررکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انسانوں سے لے کر معاشروں تک کو زندہ رہنے کے لئے فطری قوانین کا احترام ناگزیر ہے۔ سیکولرازم کے بغیر مہذب معاشرے کا خیال ہی ایک غیر فطری امر ہے۔ دورِ جدید میں معاشروں میں امن وسلامتی کا قیام سیکولرازم کے بغیرممکن نہیں۔ اگر ہمیں اپنے معاشرے میں امن وخوشحالی کی ضرورت ہے تو لامحالہ پاکستان کوترقی کے لئے محدود مذہبی جمہوریت یا موروثی بادشاہتوں کی جگہ مکمل سیکولر جمہوریت رائج کرنا ہوگی۔ جمہویت کی کامیابی کے لئے بھی ایک سیکولر معاشرہ، آئین اور سیاسی ثقافت ناگزیر ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments