خواجہ سرا کی پوری زندگی اور ادھورے سانس


\"\"دروازے پر دستک سن کر میں ذرا دیر سے باہر نکلی. دروازہ کھولا تو کوئی نظر نہیں آیا لیکن تھوڑے ہی فاصلے پر سامنے گلی میں ایک عورت کالی چادر پہن کر زمین پر بیٹھی پیٹ کی دوزخ بھجانے کے لیے روکھی سوکھی روٹی کھا رہی تھی جو محلے میں سے کسی نے اس لیے دی تھی کیوں اس کے بدلے اسے اپنے بچے کے لیے دعا کروانی تھی – عجیب دنیا ہے۔ بچپن سے یہی سن رکھا ہےلوگوں نے کہ اس آدھی ادھوری جنس سے دعا کروانے سے دعا قبول ہو جاتی ہے- جس کا جی چاہتا ہے دھتکارتا ہے، جس کا جی چاہتا ہے اپنے ذاتی مفاد کے لیے تھوڑی سی ہمدردی کر دیتا ہے –

بچپن سے ہی مجھے ان آدھی ادھوری جنس میں بہت کشش محسوس ہوتی تھی ہمیشہ کوشش ہوتی تھی کبھی ان سے بات کروں ان کے پاس بیٹھوں آدھے ادھورے ہیں لیکن دل ان کے سینے میں بھی ہم پورے مکمل لوگوں جیسا ہی ہے۔ سن شعور میں قدم رکھنے سے پہلے تک ادھر ادھر کے قصے کہانیاں سن سن کر بھی میرا دل نہیں مانتا تھا کہ حقیقت وہی ہے جو سب لوگ بتاتے ہیں۔ بعض دفعہ جس کو سب ٹھیک کہہ رہے ہوتے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہوتا۔ ایک ایسی سوچ ہوتی ہے جو نسل در نسل چلی آ رہی ہوتی ہےاور لوگ اسے بنا سوچے سمجھے مانتے چلے آتے ہیں – خیر اس کی میری طرف پشت تھی میں اپنی ہی سوچوں میں غلطاں اس کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی کہ اسی دوران گلی میں 3، 4 کتے داخل ہوے اور اس کے پاس آکر رک گیے– اس نے انھیں بھی روٹی ڈالی اور وہ بھی اس کے ساتھ کھانے میں شریک ہو گئے – اتنے میں کھانا کھا کر وہ اٹھی اور پیچھے کی طرف مڑی مجھے دیکھتے ہی بولی \”نی کچھ دو گی\” میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے پاس بلایا – ہاں دیتی ہوں رکو –دل تو میرا یہ تھا کہ اسے گھر میں بلا لوں۔ اس کے ساتھ بیٹھوں، باتیں کروں، چاے پیوں اس کے ساتھ لیکن میں یہ صرف سوچ کر ہی رہ گئی لیکن ایک بات کی خوشی ہے کہ وہ میرے دروازے سے خوشی خوشی گئی واپس۔

ایک دفعہ میرا یونیورسٹی میں ایک خواجہ سرا سے سامنا ہوگیا – ان لوگوں کو دیکھتے ہی کبھی مجھے غصہ نہیں آیا، ان کا مانگنا مجھے \"\"کبھی برا نہیں لگا، ان کی باتوں میں کبھی یہ نہیں لگا کہ یہ ڈرامہ کر رہے ہیں۔ جتنے صاف دل، پیارے، معصوم، بے ضرر، سچے یہ خواجہ سرا ہوتے ہیں اور کوئی نہیں، ہم نام نہاد انسانیت کا لبادہ پہنے چلتے پھرتے جانور بھی نہیں۔ سچ ہے ہم سا جانور بھی کوئی نہ ہو گا اس دینا میں – میک اپ کی دبیز تہوں کے نیچے چھپاتے غم اور چہرے پر مسکراہٹ سجاے گلی گلی پھرتی یہ آدھی ادھوری مخلوق کے بارے میں، میں کبھی کبھی سوچتی ہوں یہ روتے بھی ہوں گے ، کیسے لگتے ہوں گے روتے ہوے، ان کے آنسووں کا رنگ کیسا ہوتا گا؟ ان کو بھی درد ہوتا ہو گا؟ اگر یہ ہم جیسے ہی ہیں تو پھر یہ ناانصافی کیسی ہے اس معاشرے میں اور یہ بے حسی کیسی ہے؟ یہ کیسا دیس ہے آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھے لوگوں کا؟ کیوں نظر نہیں آتا ہمیں کہ یہ خواجہ سرا بھی انسان ہیں –خواجہ سراوں کے بارے میں کسی صحیفے کچھ کیوں نہیں کہا گیا؟ خدا بھول گیا تھا کہ ایسی آدھی ادھوری مخلوق بھی پیدا ہوگی ماوں کے بطن سے جو کسی گنتی میں نہیں آتی – خدا ستر ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے اپنی مخلوق سے۔۔۔ خدا یقیناً یہ ماننے کو تیار ہو گا کہ خواجہ سرا اس کی ہی مخلوق ہے –

اسی بارے میں: ۔  ایدھی، ایسا کہاں سے لاؤں!

دل دہلا دینے والے واقعات رونما ہوتے ہیں روز اس ادھوری مخلوق کے ساتھ لیکن یہ سماج کے ٹھیکدار ٹس سے مس نہیں ہوتے طرفہ تماشا یہ کہ ہم عام انسانوں کو بھی شرم نہیں آتی۔ مزے سے بیٹھے ہیں کیوں کہ ہمیں کیا۔۔۔ کون سا ہمارا کوئی عزیز، رشتے دار ہے – کون سا کوئی والی وارث آے گا ان کے پیچھے، کون سا کوئی تھانے میں رپورٹ درج ہو گی –

پچھلے دنوں ایک دل دہلا دینےوالی خبر سنی جس میں کچھ خواجہ سراوں کو وجہ کوئی بھی ہو ساری رات تششدد کا نشانہ بنایا گیا غیر انسانی \"\"سلوک کیا گیا – دیکھ کر روح کانپ گی لیکن کوئی نہیں جو ان باتوں کا نوٹس لےلیکن پھر کیا ہوا لوگ افسوس کر کے آگے بڑھ گیے۔ المیہ ہے یہ آج کا – حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر دل کو جھوٹی تسلیاں دینے کے لیے لوگ کہتے ہیں کہ یہ جان بوجھ کر خود کو ایسا بناتے ہیں میں پوچھتی ہوں ایک انسان جانتے بوجھتے کہ ان آدھے ادھورے لوگوں کے ساتھ کیسا جانوروں جیسا سلوک ہوتا ہے روٹی تک کے لیے ترس رہے ہیں جنھیں نہ مذہب اپناتا ہے نہ ہی ریاست پھر کیسے اپنی مرضی سے اتنی ساری تعداد میں لوگ خود کو خواجہ سرا میں تبدیل کریں گے؟ عزت کس کو پیاری نہیں–  میرے نزدیک یہ صرف ایک بودا سا جواز ہے۔  99٪ خواجہ سرا پیدایشی ہوتے ہیں اور جو 1٪ خود کو تبدیل کرتے ہیں وہ بھی کسی نفسیاتی مسئلے کی وجہ سے یہ سمجھنے کہ لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کیا مسائل ہیں جن کی وجہ ایک عام انسان یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

نفسیات کی طالبہ ہونے کی حیشیت سے میں اس بات کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ سکتی ہوں – ایک دفعہ فیس بک پر ایک بندے نے \"\"رابطہ کیا اور پوچھنے لگا اگر کسی لڑکے کا دل کرے لڑکیوں والے کپڑے پہننے کا، بڑے بال رکھنے کا، تو کیا یہ نارمل ہے – میں نے کہا ہاں ، پھر کہتا ہے کیا پتہ چل جاتا ہے اگر کسی کا شوہر ایسا ہو میں نے کہا ہاں – اس کی باتوں سے میں جان چکی تھی کہ اس کو یہ مسئلہ ہے میں نے پوچھ لیا کہ یہ سب تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ پریشان ہو گیا۔ میں نے اس کا اعتماد بحال کیا۔ پھر اس نے مجھے بتایا بچپن سے ہی اسے لڑکیوں کی طرح کپڑے، زیور، میک اپ کرنے کا شوق ہے۔ اس کی جلد بھی لڑکیوں کی طرح اور بال بھی لڑکیوں کی طرح نرم وملایم اور چمکدار ہیں – اور آواز بھی مردانہ نہیں ہے – جب بھی گھر والے باہر جاتے ہیں وہ لڑکیوں والا لباس پہن کر خوش ہوتا ہے۔ پورا تیار ہوتا ہے۔ مجھے تصویریں بھی دکھائیں اس نے اور میں اسے پہچان نہیں سکی کہ یہ وہی ہے – میں نے اس قایل کرنے کی کوشش کی کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تم اپنی جنس تبدیل کر سکتے ہو۔ آج کل یہ ممکن ہے لیکن یہی خوف آڑے آتا رہا کہ لوگ کا کیا کہیں گے– کچھ لوگ پیدایشی یا پھر کچھ نفسیاتی مسایل کی وجہ سے اپنی جنس کو قبول نہیں کر پاتے- ہو جاتے ہیں مسئلے مسائل، اسی کا نام تغیر ہے –

اسی بارے میں: ۔  فلرٹ اور ہراسمنٹ میں فرق

ماہر نفسیات کہتے ہیں انسان کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ بڑے ہونے کے بعد وہ اپنی مرضی کی جنس اختیار کرے – لیکن ہم ترقی پذ یر معاشروں کا یہ المیہ ہے کہ ہم مسایل کا حل نہیں تلاشتے، انہیں اور پیچیدہ بنا دیتے ہیں – ان خواجہ سراوں کی اس حالت کے ذمہ دار ہم ہیں – ناچنا گانا ان کی مرضی نہیں، یہ کام اس معاشرے نے انہیں دیا ہے – کیا ہوگا اگر ایک خواجہ سرا سکول میں پڑھے گا – کیا فرق پڑتا ہے اگر ایک خواجہ سرا ڈاکٹر ہو، وکیل ہو، انجینیر، پایلٹ ہو، ہم اس کے جسمانی اختلاف کو جواز بنا کر اسے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے سے کیسے روک سکتے ہیں؟ اسے پڑھنے لکھنے سے کیسے محروم کر سکتے ہیں –

\"\"ایک دفعہ سکول میں ایک خواجہ سرا کو دعوت دی گی تاکہ بچے ان سے ملیں، ان کے بارے میں جانیں۔ بہت سےوالدین نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا اور وہی باتیں سنے کو ملیں جو بچپن سے سنتی آ رہی ہوں – ببلی باجی جو کہ 45 سال کی ہیں اور ایک باعزت مقام بنا چکی ہیں اپنی محنت سے ایک مشہور تعلیمی ادارے میں کینٹین چلاتی ہیں اور بہت خوب چلاتی ہیں جتنا ان کے ہاتھ میں ذایقہ ہے اتنا ہی پیار سے کھلاتی بھی ہیں اور اپنی کمیونٹی کے لیے کام بھی کر رہی ہیں۔ سڑکوں پر بھیک نہیں مانگ رہی نہ ہی ناچ گا رہی ہیں- مواقع تو دو ان لوگوں کو۔ ہاتھ تو تھاموان کا۔ اعتماد تو دو ان کو، کیا ہوا اگر تم مختلف ہو۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں یہ اعتماد تو دو –

حکومت کی طرف دیکھنا یا کسی نجات دھندہ سے امیدیں لگانا بند کر دو۔ ہر انسان کا نجات دہندہ اس کے اندر ہے، باہر کچھ بھی نہیں ہے – یہ ادھورے لوگ من کے سچے اور پیارے ہیں – ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک بند کرنا ہوگا – کیا خوصورت الفاظ میں اعجاز منگی نے اس دکھ کو اجاگر کیا ہے ایک ایک لفظ میں کرب چھپا ہے

دوستو!  یہ دنیا ادھوری سی ہے

میرے تن کی طرح

اس کو پورا کرو

میرے من کی طرح

دوستو! یہ دنیا بہت تنگ ہے

 بندگی کی طرح

\"\"

یہ کشادہ کرو زندگی کی طرح

دوستو! یہ دنیا حسیں زخم ہے

چشمِ نم کی طرح

ان کہی آرزو کی طرح

میرے غم کی طرح

دوستو! یہ دنیا دکھی ہے بہت

اس وطن کی طرح

اس ادھورے سے میرے بدن کی طرح!

 روز سہتے ہیں جو

اس ستم کی طرح!

اس جنم کی طرح!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عظمیٰ عارف کی دیگر تحریریں
عظمیٰ عارف کی دیگر تحریریں