کاش ایسا سیاستدان پاکستان میں بھی ہو


\"\"پاکستان میں ہماری زندگی کا خواب یہ ہے کہ امریکی کانگرس مین جان لیوس جیسا ایک مدبر ہمارے ملک کی پارلیمنٹ میں بھی موجود ہو۔ جان لیوس نے مارٹن لوتھر کنگ کے ساتھ مل کر ساٹھ کی دہائی میں سول رائٹس کی جدوجہد کی۔ اس دوران پولیس تشدد سے ان کے سر پر گہرے زخم آئے۔ تب جان لیوس بیس برس کے تھے۔ پچاس برس گزر چکے ہیں۔ کانگرس کے رکن جان لیوس کے اندر انصاف، غریبوں کی حالت سنوارنے اور اخلاقی قدروں کی بنیاد پر سیاست کی تڑپ اس طرح برقرار ہے۔
یہاں اس وڈیو میں کانگرس مین جان لیوس نومنتخب صدر ڈانلد ٹرمپ کی طرف سے نامزد اٹارنی جنرل سینیٹر سیسشنز کی نامزدگی کو مسترد کر رہے ہیں۔ سات منٹ کی یہ مختصر تقریر جیسے جیسے اپنے اختتام کی طرف بڑھتی ہے، جان لیوس کے استدلال میں ٹکسالی کھنک پیدا ہوتی ہے، ایک شہری کے طور پر ان کی اخلاقی قامت کسی چھتنار درخت کی طرح پوری بحث پر محیط ہو جاتی ہے۔ اس تقریر کے بعد ڈانلڈ ٹرمپ نے جان لیوس پر کڑی تنقید کی لیکن ڈانلد ٹرمپ جان لیوس کے دلائل کو دھندلانے میں ناکام رہے۔ سیاست دان کی عظمت اس کے منصب سے نہیں، اس کے موقف کی استواری سے طے پاتی ہے


image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں