کراچی لٹریچر فیسٹول ۔ ایک رپورتاژ (دوسرا حصہ)


jamil abbasiپہلے دن کی جن دیگر تقاریب تک میں پہنچ پایا ، ان میں لکشمی نرائن ترپاٹھی کے پروگرام کی بات نہ کرنا نا انصافی ہوگی۔ لکشمی کی کتاب دی دلماس آف دی ٹرانس جینڈر”مخنث کے مسائل“ کی تقریب مین گارڈن میں منعقد ہوئی۔ لکشمی نرائن ترپاٹھی جنہیں بولنے کے لئے ماڈریٹر عارفہ سیدہ زہرا کی زیادہ معاونت حاصل نہ رہی اور عارفہ سیدہ ان سے بلوانے کے بجائے خود بولنے میں دلچسبی لیتی نظر آئیں، نے مخنث کے ساتھ ہمارے معاشرتی سلوک کا جس تکلیف دہ انداز میں ذکر کیا وہ سن کر مجھے اپنا آپ اچھا نہ لگا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانوں سے آج تک ہم نے مخنث کو صرف ایک چیز کی حیثیت دی ہے۔ اور زیادہ افسوسناک بات یہ ہے آج تک مخنثوں کے لئے جو ایک رویہ طے کردیا گیا ہے وہ کسی بھی طور انسانیت کے قدروں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ویسے تو سمجھ یہ آتا ہے کہ عام طرح انسان نفرت اور تذلیل اسی کے لئے خاص کردیتا ہے جس سے اسے یا اس کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو۔ مخنثوں سے کس قسم کی تکلیف یا خطرہ درپیش ہے؟ چلیں یہ بھی سنیے۔ اسی تقریب میں ایک صاحب اٹھ کھڑے ہوئے کہ جناب میں جب پاکستان میں رہتا تھا توہمارے قریب مخنثین کی رہائش تھی۔ میں انہیں پسند نہیں کرتا تھا اور ان کے قریب تو جانے کا تصور تک نہ تھا۔ پر ان دنوں جب میں ملائیشیا گیا تو مخنثین کے ساتھ میری علیک سلیک اور قربت ہوئی تب میں نے محسوس کیا کہ میرے اخلاق میں خرابی واقع ہونے لگی۔ یہ سوال معاشرے کا عمومی رویہ نہ ہم کہیں لیکن کافی صورتحال واضح کر رہا ہے ا س پر لکشمی نرائن ترپاٹھی نے انہیں جو جواب دیا وہ ہماری سوچ میں تبدیل لانے کی ضرورت بیان کر رہا ہے۔ لکشمی نے کہا تم اپنا ناڑا مضبوطی سے کیوں نہیں باندھ لیتے؟

شام پونے چار بجے ایکیورس ہال میں انتخاب کلام منیر نیازی اور اردو ورثہ سیریز کی تقریب رونمائی کے دوران فہمیدہ ریاض، فاطمہ حسن اور اصغر ندیم سید منیر نیازی کی یادوں اور باتوں کو سننے والوں کے ساتھ بانٹتے رہے۔ اس تقریب کو مجاہد بریلوی صاحب نے اچھا نبھایا۔ موسیقی کی ایک سرور بھری محفل ملکہ پکھراج کے نام پر منائی گئی اور اس میں طاہرہ سیداور ارشد محمود صاحب ساز چھیڑنے کے بجائے ملکہ پکھراج، ان کا اپنے کام سے مکمل لگاﺅ، کاملیت پسندی کی باتیں چھیڑتے رہے۔ خوب تھا وہ بھی۔ تو مجموعی طرح پہلا دن کام کا رہا اور کافی کچھ سیکھنے کو حاصل ہوا۔ اسی دن میں مستنصر صاحب کے ساتھ کچھ وقت گذرا اور وہ یوں کہ وہ عبداللہ حسین اور انتظار حسین ان کے سنگ سنگ رہے یا یوں کہ تارڑ صاحب ان کے ساتھ رہے۔ میں اگر یہ کہوں تب بھی غلط نہیں کہ مجموعی ماحول پر انتظارصاحب کی جدائی نے غم اور سوگواری کے قوی اثرات قائم کر رکھے تھے جو محسوسات میں رچ بس گئے تھے مگر مستنصر صاحب جس گم شدگی اور تنہائی کی کیفیت میں تھے اس سے عبداللہ صاحب اور انتظار صاحب کی غیر موجودگی کا احساس دو چند ہوجاتا تھا۔ اسی کیفیت کے تحت ہفتہ کے دن مین گارڈن میں ہونے والی اپنی نشست میں مستنصر صاحب کا بیانیہ یوں رہا کہ پچھلے سال کراچی لٹریچر فیسٹول میں تین حسین کا تذکرہ رہا تومیں یوں سمجھ رہا ہوں کہ ان دو حسین کی وجہ سے میں قائم تھا اور گلزار صاحب کے شعر کی طرح وہ جانے والے دو حسین میرا کچھ سامان ساتھ لے گئے۔ انتظار صاحب کے حوالے سے اپنا دکھ بیان کروں کہ اس نادر اور کلاسیکل ادیب سے میں کبھی ملاقی نہ ہوپایا۔ ان دنوں ان کی تین کتابیں بستی، آگے سمندر ہے اور زمین اور فلک اور خریدی تھیں کہ کراچی لٹریچر فیسٹول پر صاحب کتاب کے چرن چھوﺅں گا اور ان کے دستخط حاصل کروں گا مگر….

نور الہدی شاہ صاحبہ کا پروگرام بنام ’جلا وطن سے جنگل تک‘ میں سندھ زیربحث رہااور نورالہدی صاحبہ نے سندھی سیدوں کے رویوں کو کما حقہ بیان کیا۔ پہلے دن کے اختتام پر چل بھلیا حیدرآباد چلیے اور اگلی سویر کل والی سویر سے زیادہ عجلت بھری تھی۔ نہ صرف پروگرام اردو کالم سے بلاگر تک میں شرکت مقصود تھی بلکہ استاذی محترم وجاہت مسعود صاحب سے فیض یابی کا حصول بھی پیش تھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر ہال میں داخل ہوا تو پروگرام کا دوسرا حصہ چل رہا تھا۔ پھولی سانس کو قابو میں لا کر مبشر زیدی صاحب کی طرف کان لگائے جو بیان فرما رہے تھے کہ الیکٹرانک میڈیا کے آنے کے بعد کالموں کی بہار آنا شروع ہوئی کہ خبریں وبریں تو دیکھنے والا رات کو سن لیتا تھا تو اخبار کاہے کو خریدے۔ اسی وجہ اردو کالم نویسی نے پاکستان میں زور پکڑا۔ اصغر ندیم سید صاحب نے دلچسپ باتیں کیں۔ وجاہت مسعود صاحب کے سوال آپ کالمز میں موضوعات کیسے ڈھونڈتے ہیں ، کے جواب میں فرمایا کہ ایک صبح کچھ ذہن میں نہیں تھا۔ ٹی وی لگایا تو ایک پر مارننگ شو آرہا تھا جو مولوی کوکنگ آئل نے اسپانسر کیا تھا اور پھر دوسرے کو صوفی بناسپتی نے۔ بس پھر کالم بنتا گیا کہ جب بھی آپ کچھ بنانا چاہیں تو سب سے پہلے مولوی لائیں۔ ذرا سا مولوی لیں اور اسے فرائنگ پان میں ڈال کر پہلے اسے تھوڑا سا تل لیں۔ جب مولوی سرخ ہوجائے تو اس میں پیاز ڈال دیں۔ مطلب کہ قہقہوں سے ہال کی چھت لرزش میں تھی اور اصغر ندیم صاحب اسی طرح صوفی کا حشر فرما رہے تھے۔ وسعت اللہ اور وجاہت صاحبان نے سنسر پر خوب سنائیں۔ اسی دوران تذکرہ چھڑا کہ ایک کالم میں برہنہ پا لفظ کو برہنہ کی وجہ تبدیل کردیا گیا اور وجاہت صاحب کہنے لگے کہ ایک کالم میں کچھ لکھتے “ایران توران” کا ذکر آگیا جس پر ایڈیٹر صاحب نے ایران کا لفظ مٹا کر برادر اسلامی ملک لکھ دیا۔ پروگرام کے اختتام پر وجاہت مسعود صاحب سے ہم نشینی رہی جس میں اجمل کمال، سبوخ سید، علی ارقم، راشد درانی صاحبان سے بھی فیض پایا۔ مجھے ان دنوں میں دیکھ، سن، سمجھ کر یہ علم ہوا کہ کراچی لٹریچر فیسٹول جیسے پروگرام ذریعہ ہیں علم و ادب نوازی کا۔ ایسی محافل ہمارے معاشرے میں ایک ایسا اضافہ ہیں کہ مجھ جیسا بے پہنچ انسان بھی صاحبان فکر و حکمت تک رسائی پا سکتا ہے اور اپنی ذہنی، تفریحی و فکری خوراک حاصل کر سکتا ہے۔ کراچی لٹریچر فیسٹول کے منتظمین نے ایسا ماحول دیا اور بہتر موضوعات کو انتخاب میں لاکر ایسے مقررین کو مدعو کیا ہے جن کو سنے جانے کی معاشرے میں بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ندیم ایف پراچہ، محمد حنیف، باربرا مٹکاف، برکھا دت، امر سندھو، زاہدہ حنا، انور مسعود اور کئی ایک دیگر کو نہ صرف یکجا کرنا بلکہ وقت کی پابندی کے ساتھ اس طرح کی فضا تیار کرنا کہ آنے والوں کے اندر سننے اور سیکھنے کا شوق اور صلاحیت پیدا ہو۔ یہ محافل اگر جاری رہیں اور عوام ان سے سیکھتے ، سنتے اور تفریح حاصل کرتے رہے تو یقینی طور پر یہ ایک امید کا دیا ہے اور یہ ان دنوں ناپید ہے۔ حرف آخر میں عرض کروں کہ مجھے سب سے زیادہ اس بات پر خوشی ہوئی کہ کراچی لٹریچر فیسٹول میں ایسی آوازیں تھیں جن پر قدغن جاری کی گئی تھی۔ اور مجھے وہ آواز یں طاقتور ہوتی محسوس ہوئیں بھی۔ اور عوام میں ان آوازوں کی چاہ نظر آئی۔ اس آواز کی سلامتی اور پائندگی کی خواہش کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ایسی محافل اور ایسے باعلم سے آج بھی ہم اور آپ دانائی دریافت کر سکتے ہیں ، اگر چاہیں تو….


Comments

FB Login Required - comments