واقعہ چکوال اور قلم برداروں کی عید


\"\"بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ اِس ضرب المثل کے سارے زاویے اور جہتیں ہم پر اس وقت کھلیں جب دوالمیال (چکوال) میں قادیانیوں کے ساتھ مسلمانوں کا جھگڑا ہوا اور مسلمانوں کی طرف سے زیادتی کاارتکاب ہوا، اسے عید میلاد کے جلوس کے شرکا کی نادانی سمجھیں یا کچھ خفیہ ہاتھوں کی کارستانی لیکن یار لوگوں کی عید ہو گئی۔ اسلام اور مسلمانوں پر تنقید کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا اپنے آپ کو سیکولر کے خوبصورت نام سے موسوم کرنے والے اہل قلم اور دانشور اس طرح اسلامی تعلیمات پر حملہ آور ہوئے گویا برسوں سے کسی موقع کے انتظار میں تھے ۔

قادیانیوں کی متنازع عبادت گاہ پر حملے کو حلب کی بربریت سے تشبیع دی گئی ،پھر منظر اس طرح پیش کیا گیا جیسے کچھ جنونیوں نے انسانیت کا دامن تار تار کردیا ہو ۔یار لوگ جوش تحریر میں یہ حقیقت بھول گئے کہ اس واقع میں دو مسلمان شدید زخمی ہوئے اور ایک اللہ کو پیارا ہوگیا۔ بات یہاں پر آ کر رکتی تو کہا جا سکتا تھا کہ قلم کش جذباتیت میں حدود سے کچھ تجاوز کر گئے ہیں لیکن ستم بالائے ستم یہ بحث دوبارہ شروع کردی گئی ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو کیوں مسلم نہیں کہلوا سکتے حالانکہ یہ بحث دلیل اور قانون کے ایوانوں میں بہت عرصہ پہلے ختم ہو چکی تھی۔ اب ذرا اس اجمال کی تفصیل :

کیا کسی نظریے اور مذہب کا موقف سمجھے بغیر اس پر تنقید کی جا سکتی ہے ؟مگر سیکولر ذہن استدلال کی بجائے اشتعال کی زبان استعمال کررہا ہے ۔ اسلام زندگی کا مکمل نظام ہے جو خالق کائنات نے اپنے رسولوں کے ذریعے انسانوں کو عطا کیا ہے اور اس کی تکمیل امام الانبیاءحضرت محمد مصطفی ﷺ کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوئی ۔ ہم اسے یوں بھی بیان کر سکتے ہیں کہ اسلام بذاتِ خود ایک ریاست ہے جس میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں ایک وہ جو اسلام کے تمام بنیادی اصولوں پر ایمان رکھتے ہیں ،اس کے تقاضوں کو تسلیم کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ قرآن کی اصطلاح میں مسلم ہیں جبکہ دوسرے گروہ غیر مسلم ہیں جو توحید، رسالت اور آخرت میں سے کسی بھی اصول کے منکر ہوں۔ غیر مسلم تمام انسانی حقوق رکھتے ہیں اپنے نظریہ زندگی پر عمل کرنے میں آزاد ہیں ،اپنی گروہی زندگی کے دائرے میں اپنے پسندیدہ قانون کے مطابق اپنے معاملات حل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ یہ سوچ اسلام سے ناواقفیت یا تعصب کی پیداوار ہے کہ مسلمان دوسروں کو کم تر سمجھتے ہیں یا ان پر جبر کرنے کو روا خیال کر تے ہیں۔ البتہ وہ دوسرے مذاہب کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ اسلام کی شکل و صورت کو مسخ کر دیں۔ تمام مسلمان نبی رحمت ﷺ پر ایمان لانے کے نتیجے میں ایک برادری بنتے ہیں، دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ وہ اسلام کے قانونی شہری ہیں۔ جو لوگ حضور ﷺ کے بعد کسی اور نبوت پر یقین رکھتے ہیں وہ کسی اور برادری کے افراد ہیں کیوں کہ اسلام کی رو سے حضور ﷺ کے سر پر ختم نبوت کا تاج رکھ کر اللہ نے یہ اعلان فرمادیا ہے کہ اب قیامت تک کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔ سیکولر ذہن نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ فکری غلطی کرتا ہے کہ نئی نبوت پر ایمان لانے کے مفہوم کو زیر بحث نہیں لاتا۔

اسی بارے میں: ۔  ٹیکس نہیں تو شکایت نہیں مگر آپ ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

نئی نبوت کا مطلب ہے نئی شریعت ،زندگی کا نیا طریقہ ،تہذیب کے نئے اصول اور حیاتِ اجتماعی کا نیا اسلوب ،انصاف کی بات یہ تھی کہ جب قادیانی گروہ مرزا غلام احمد کے دعوی ٰ نبوت پر ایمان لے آیا تو اپنی پہچان کے لیے کوئی الگ شعار اختیار کرتا۔ آخر وہ اس پر کیوں مصر ہے کہ اُسے مسلمان کہاجائے ؟ ”مسلمان کسی دانشور طبقے کا نام نہیں جس میں ہرقلم برادر خود بخود شامل ہو جاتا ہے۔ ایک ذاتی مثال زیر نظر ہے کہ میں نے اپنا نام کافی دنوں سے دانشور رکھا ہوا ہے لیکن میرے کچھ مہربان ابھی تک تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں ۔ اگر میں اپنے نام کے ساتھ حاجی لکھ لوں تو کیا میں حاجی ہو جاﺅں گا یا کہ مجھے حج کے تمام مراحل طے کرنے پڑیں گے ؟

بہاءاللہ ( ایران) اور اس کے ساتھیوں نے خود اپنے آپ کو امتِ مسلمہ سے الگ کیا اور اپنی الگ شناخت بہائی پر اصرار کیا جبکہ قادیانی گروہ نے مسلم اکثریت کے ساتھ یہ زیادتی کی کہ اپنے آپ کو ملتِ اسلامیہ میں زبردستی شامل کیا اور قرآن و سنت کی جگہ نئے احکام کی تبلیغ بھی کی۔ جب 1974ءمیں یہ بحث قومی اسمبلی میں جاری تھی تو اس کی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے مرزا غلام احمد کے خلیفہ مرزا طاہر احمد نے اپنے اس عقیدے کا اعتراف کیا کہ وہ اپنے سوا دوسرے تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں ۔ جبکہ آج کا سیکولر ذہن اپنے بیانیہ میں یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ ”کسی اکثریتی گروہ یا ریاست کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ عددی برتری کے بل بوتے پر کسی بھی اقلیتی گروہ پر مرضی کا لیبل چسپاں کرے یا اسے غیر مسلم قرار دے “ ایک منٹ کے لیے آپ ہی کی بات کو میزانیہ بناتے ہوئے میرا یہ سوال ہے کہ کیا کسی اقلیت کو یہ حق حاصل تھا یا ہے کہ وہ پوری امت مسلمہ کو غیر مسلم قرار دے جیسا کہ مرزا طاہر نے کیا؟ جبکہ علامہ اقبال بہت پہلے فرما گئے ۔

پنجاب کے اربابِ نبوت کی شریعت

کہتی ہے کہ یہ مومنِ پارینہ ہے کافر

(پنجاب سے مراد قادیان )

جبکہ مولانا ظفر علی خان نے کہا :

اسی بارے میں: ۔  حلب کی جنگ اور ’’ہم‘‘ (فرح احسان)۔

میں مسلماں زادہ ہوں چکوال ہے میرا وطن

لیکن اول یثربی بعد اس کے چکوالی ہوں میں

قادیانیت سے پوچھا کفر نے تو کون ہے

ہنس کے بولی آپ ہی کی دلبربا سالی ہوں میں

انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ امتِ مسلمہ سے کٹ جانے والی اس اقلیت کو سمجھایاجائے کہ وہ اپنے لیے لفظ مسلم اور اپنی عبادت گاہ کے لیے لفظ مسجد استعمال نہ کریں اورنہ ہی اس کی شکل مسجد جیسی بنائیں ۔ لیکن یہ طرفہ تماشہ ہے کہ روشن خیالی کا نزلہ اکثریت پر گرایا جا رہا ۔ ان احباب سے یہی کہا جا سکتا ہے :

وفا کے معنی بدلنے پڑیں گے

تمہارا طریقِ وفا گر یہی ہے

دوالمیال میں رہنے والے احمدی بھی یہ موقف رکھتے ہیں کہ وہ حنفی اور جعفری لوگوں کی طرح ایک فقہی گروہ ہیں گویا وہ ایک اسلامی فرقہ ہیں جبکہ پوری امت مسلمہ کے علمائ، فقہا اور آئین ساز اداروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احمدی( وہ قادیانی ہوں یا لاہوری) غیر مسلم ہیں ۔ جس عبادت گاہ پہ جھگڑا ہوا ہے وہ1858 کی جمع بندی میں مسجد مسلماناں درج ہے ۔ اس میں احمدی بھی نماز پڑھتے تھے ۔جب احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو انہوں نے اس مسجد میں آنا جانا چھوڑ دیا کچھ عرصہ بعد اس مسجد کا امام قادیانی ہو گیا جس پر یہ عملاً قادیانیوں کے ہاتھ چلی گئی ۔ جب یہ قانون بنا کہ قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے تو مسلمانوں نے اسے حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ سیشن کورٹ میں مسلمانوں کے حق میں فیصلہ ہو گیا جس پر قادیانیوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی اور اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے اس کیس کی فائلیں غائب کردیں جس کی وجہ سے اس کا مقدمہ آج تک حل طلب ہے ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جو دانشور تاریخ سے متعلق کسی بات پر آثارِ قدیمہ کھنگالتے ہیں ہر قابلِ حصول کتاب پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں ،حلب کی گلیوں تک جھانکتے ہیں ۔اپنے ملک کے ایک قصبے میں جا کر حالات معلوم کرنے سے قاصر ہیں ۔ ذہین لوگو غیر مسلم کا لفظ کوئی گالی نہیں ہے حقارت اور نفرت کی علامت نہیں ہے بلکہ اسلام کے علاوہ کسی دوسرے نظریے یا مذہب کا حامل ہونے کا تعارف ہے ۔ 1974ءکی جس قومی اسمبلی نے متفقہ آئینی ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا اُس میں اکثریت مذہبی طبقہ کی نہیں بھٹو صاحب کی تھی لبرلز جن پر فخر کرتے اور اپنا سمجھتے ہیں ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “واقعہ چکوال اور قلم برداروں کی عید

  • 21-01-2017 at 5:21 pm
    Permalink

    “میں قادیانیوں کے ساتھ مسلمانوں کا جھگڑا ہوا اور مسلمانوں کی طرف سے زیادتی کاارتکاب ہوا، ”

    آپکا ان الفاظ کو بھی تحریر فرمانے کا شکریہ یہ بھی آپکی بلند ضرفی ہے،
    ورنہ ۔۔۔۔

    آپ خدارہ جو چاہیں مُجھے (احمدیوں) کو سمجھیں، جانیں، کہیں، اور سلوک کریں، میں تو اپنی زات میں اُن کافروں سے بھی کروڑدرجہ بدتر سمجھتا ہوں۔ صرف اس “ستار کی ستاری” پر اُمید ہے،،،،

    مگر فیصلے کی عدالت تک جانے دیں، جو میرا یقین ہے درست فیصلہ کرےگا۔

    ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ۔
    یہی اللہ میرا رب ہے جس پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے
    اور جس کی طرف میں جھکتا ہوں۔

    مگرجومیرا دل کہتا ہے، مانتا ہے، وہ تومُجھے اپنے پروردگار، وَحْدَهُ لا شَريكَ کے سامنے پیش کرنے کی اجازت دے دیں، جہاں نہ آپ میرے ساتھ ہونگے نہ کویی اور،
    ۔
    شکریہ۔

Comments are closed.