سندھ رینجرز۔۔۔ میں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح


\"\"سندھ میں رینجرز کے اختیارا ت کی توسیع کو ہر بار سندھ حکومت کیوں ٹالنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس حوالے سے چند حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کراچی میں قیام امن میں رینجرز کا کردار اظہر من شمس ہے۔ کراچی میں سڑیٹ کرائمز سے نڈھال عوام بھتہ مافیا، ٹارگٹ کلرز، ڈکیتوں اور چوروں سے ستائے ہوئے تھے۔ دھشت گردی کا طوفان تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ جب رینجرز کی تعیناتی جیسے انتہائی اقدام عمل میں لائے گئے۔ عوام نے امن و عامہ کے مسائل میں واضح کمی کے باعث سکھ کا سانس لیا۔ مگر ساتھ ہی ساتھ رینجرز کی کئی کارروائیاں اربا ب اختیار کی دکھتی رگ بن چکی ہیں۔ اس معاملے کی اگر تہہ تک پہنچنا مقصود ہو تو پانچ سوالوں کے جواب ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ سندھ حکومت رینجرز اختیارات کی مدت میں توسیع کا معاملہ کیوں لٹکا رہی ہے؟ دوسرا یہ کہ سندھ حکومت رینجرز اختیارات کی مدت میں ایک سال کی توسیع کیوں نہیں کرتی؟ اور سندھ حکومت ایک مرتبہ پھر رینجرز اختیارات پر سیاست کیوں کر رہی ہے؟ چوتھا سوال یہ ہے کہ رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان مستقبل قریب میں تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی؟ اور پانچوں سوال یہ ہے کہ پیپلزپارٹٰی نے رینجرز اختیارات کا معاملہ اسمبلی سے منظوری کے ساتھ مشروط کیوں کر رکھا ہے؟

ان سب سوالوں کا جواب جاننے کے لیے اس معاملے کے پس منظر کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے اور وہ یہ کہ 15 جون 2015 کو رینجرز نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ مارا جس کے بعد سندھ حکومت اور رینجرز کے تعلقات میں کشیدگی کا آغاز ہوا۔ 8 جولائی کو سندھ حکومت نے رینجرز کو خصوصی اختیارات کی مدت میں 3 ماہ کے بجائے 1 ماہ کی توسیع کا نوٹٰیفیکشن جاری کیا۔ 8 اگست 2015 کو سندھ حکومت نے رینجرز اختیارات میں 4 ماہ کی توسیع کر دی۔ ڈاکٹر عاصم کیس رینجرز اور سندھ حکومت کے درمیان تنازع کی ایک بڑی اور اہم وجہ بنا۔ 6 دسمبر 2015 کو سندھ حکومت نے رینجرز اختیارات میں توسیع کو سندھ اسمبلی سے منظور کروانے سے مشروط کر دیا۔ چوہدری نثار نےسخت ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر رینجرز احتیارات کی مدت میں توسیع نہ کی گئی تو اور آپشنز بھی موجود ہیں۔ جس کے بعد 16 دسمبر 2015 کو سندھ اسمبلی میں رینجرز کے قیام اور اختیارات میں توسیع کی قرارداد منظور ہوئی۔ رینجرز اختیارات کو صرف دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی تک محدود کر دیا گیا۔ 20 دسمبر کو سندھ حکومت نے نوٹیفکیشن کے ذریعے رینجرز اختیارات کی مدت میں 60 دن کی توسیع کی۔ گذشتہ برس سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز اختیارات کے معاملے پر کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔ رینجرز کو حاصل خصوصی اختیارات کی مدت 15 جنوری کی رات 12 بجے ختم ہو چکی ہے اور اب یہ معاملہ پھر سےوفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان لٹک رہا ہے جس کی بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ 23 دسمبر کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں رینجرز نے سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کے گھر پر چھاپہ مارا، بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولیاں برآمد کرکے 2 گارڈز کو گرفتار کرکے رینجرز افسران کی مدعیت میں مقدمات درج کرلئے گئے ہیں۔ سیکورٹی اداروں نے غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں نامزد ملزم انور مجید کے گھر پر بھی چھاپا مارا۔ گھر کی تلاشی کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولیاں برآمد کرلی گئیں۔ یہ کارروائی سابق صدر آصف زرداری کی وطن واپسی سے چند گھنٹے پہلے رینجرز نے کی اور ا س کارروائی کو زرداری کے آرمی مخالف بیان کے بعد خود ساختہ جلاوطنی اختیا ر کرنے کے بعد وطن لوٹنے پر ایک سخت پیغام کے طور پر لیا گیا۔ اس سب صور ت حال پر زرداری نے کہا تھا کہ میں نے نہ کبھی انور مجید سے دوستی سے انکار کیا ہے اور نہ ہی کبھی کروں گا مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ اس واقعے نے پیپلز پارٹی کے رینجرز مخالف رویے کو اور ہوا دی۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگر عوام کے لیے امن و امان کاقیام عمل میں لانا ہے تو ان تمام سیاسی جماعتوں کو متشدد عناصر کو اپنی صفوں سے نکالنا ہوگا یا پھر رینجرز اور فوج جیسا کوئی ادارہ اس پر کام کرے گا۔ یہ کام جس بھی سیاسی جماعت کے خلاف کیاجائے گا یقینا اس کو ان اداروں پر تحفظات ہونگے چونکہ ہماری اکثرسیاسی جماعتوں میں موجود کئی سیاسی شخصیات بلکہ کچھ تو پوری جماعت کی سیاست کاانحصار ان متشدد عناصر پر موجود ہے جو ان سیاسی جماعتوں کو غیر جمہوری طور پر جمہوری ایوانوں میں قائم دائم رکھے ہوئے ہیں۔ ن لیگ کس منہ سے رینجرز کے حوالے سے کوئی انتہائی قدم سندھ میں اٹھائے جبکہ پنجاب میں رینجرز کو انھیں مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روکے رکھنا ن لیگ کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

بہرکیف جیسے تیسے سندھ میں رینجرز کے اختیارات کی مدت میں توسیع کردی جائے گی۔ پہلے انھیں پابند کیا گیا تھا کہ کسی بھی سیاسی شخصیت پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے لازمی طور پر سپیکر سے اور بعض معاملات میں وزیراعلیٰ سے پہلے اجازت لی جائے اب شاید کسی بھی شخصیت پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے اس قسم کی اجازت کی پابندی لگا دی جائے گی۔ رینجرز کے پاس ایف آئی آر کا اختیار پہلے ہی نہیں ہے وہ جس بھی مجرم کوپکڑتے ہیں اس کی سزا کے درمیان مجرم کی پشت پر کھڑی کوئی بھی بااثر شخصیت حائل ہو جاتی ہے اور وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے کے مصداق عوام اور مظلوم بے یارو مددگار حسرت و یاس کی تشریح کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اور یوں بھی بے اختیار رینجرز کو سندھ میں توسیع دینا رینجرز اور اس ادارے کی ساکھ کے اوپر کاری ضرب ہے۔ بہرکیف انتہائی نامساعد حالات کے باوجود رینجرز نے سندھ اور خاص کر کراچی میں کارکردگی دکھائی ہے اور اپنا لوہا منوایا ہے۔ رینجرز کا پھر آنا اور سندھ میں تعینات رہنا کرپٹ مافیا کی گردن پر لٹکتی وہ تلوارہے جس سے گردن کٹے نہ کٹے گردن کا سریا ڈھیلا ہو چکا ہے۔ عوام کو اگرچہ پوری طرح نہیں مگرخاصی حد تک امن میسر آ گیا ہے اور سیاسی جماعتوں کی سرکاری بدمعاش پالنے کی بیماری کو بھی خاصہ افاقہ ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔