کپتان کی بجائے اصل جماعت اسلامی کیوں نہیں


\"\"

کپتان ایک کنفیوز جماعتی کارکن ہے۔ یہ اپنی ساری طاقت جماعتی فکر سے متاثرہ طبقات سے حاصل کر رہا ہے۔ اس کا ووٹر زیادہ تر وہ ہے جس کی سوچ اصل میں جماعت اسلامی کی فکر سے قریب ہے۔ مارک کی رائے حیران کن تھی۔ اس سے پوچھا کہ تم یہ سب کیسے کہہ سکتے ہو کبھی کپتان کے جلسے نہیں دیکھے کیا۔ وہاں تو یوتھ آتی ہے میوزک چلتا ہے ایک جوش ہوتا ہے۔ جماعت کے جلسوں میں ایسا تم نے کب دیکھا۔

مارک نے کہا کہ ٹھیک کہتے ہو کپتان کو ایک بگڑا ہوا جماعتی کارکن سمجھ لو۔

مارک یہ تم کیا الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہو۔ مارک نے کہا کپتان کے خیالات ایک اوسط درجے کے جماعتی کارکن جیسے ہیں۔ تمھیں یاد نہیں اس کا طالبان کے بارے میں موقف کیا ہے۔ وہ ان سے لڑائی کی بجائے مذاکرات چاہتا ہے۔ بعد میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کپتان نے ٹی ٹی پی کو پشاور میں دفاتر کھولے کی دعوت دے دی تھی۔ ٹی ٹی پی والے بھی کپتان کا دعوت نامہ دیکھ سن کر سن ہو کے رہ گئے تھے۔

بات مارک کی ہو رہی تھی۔ مارک پاکستان میں سوشل میڈیا کے سیاسی استعمال پر تحقیق کر رہا تھا۔ یہ دو ہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے کی بات ہے۔ سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال پی ٹی آئی ہی کر رہی تھی۔ مارک نے بہت گہرائی میں جا کر اپنی ریسرچ کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ کپتان کو ایک بڑے صدمے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ الیکشن نتائج پر سوشل میڈیا کے اثرات تین فیصد کے قریب ہوں گے۔ یہ پاکستان کے بڑے شہروں میں چار چھ سیٹیں ہی جیت پائے گا سوشل میڈیا کے زور پر۔

کراچی لاہور پنڈی اور کپتان کی پشاور والی سیٹ پر جیت کو بھی مارک کی اسی پیش گوئی کے مطابق مان لیں۔ مارک کے دو ہزار تیرہ الیکشن کے بارے میں اندازے تو کافی ٹھیک رہے۔ لیکن جو اب یاد آ رہا ہے وہ ان اندازوں سے زیادہ مارک کا کپتان کو ایک عام جماعتی کارکن جیسی سوچ کا حامل بتانا ہے۔

مارک نے کہا کہ کپتان پاکستان کو ویسا سا ہی دیکھنا چاہتا ہے جیسا جماعت بنانا چاہتی ہے۔ ایک ماڈرن سی مسلم ریاست جہاں انصاف اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔ جو ایک طاقتور ملک ہو دنیا میں اس کا ایک اہم کردار ہو ایک مقام ہو۔ کپتان اسلامی سوچ رکھنے والے شدت پسندوں کے مقابلے پر بھی آنا پسند نہیں کرتا۔ وہ ان کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے۔

\"\"

جماعت اسلامی اور کپتان میں بس ایک فرق ہے۔ کپتان یوتھ کو زیادہ سپیس دے رہا ہے۔ وہ ان پر کوئی قدغن لگاتا دکھائی نہیں دیتا۔ وہ انہیں خوش رہنے کی گانے ناچنے کی آزادی دیتا ہے۔ ان کے ذاتی معاملات میں نہ تو خود مداخلت کرتا ہے نہ ریاستی مداخلت کی دھمکیاں دیتا ہے۔ اس نے تبدیلی کے لئے پاکستان کی یوتھ کو آن بورڈ لے لیا ہے۔

کپتان تبدیلی کا نعرہ دے کر بھی تبدیلی لانے میں ابھی کامیابی سے دور ہے۔ اس کی جدوجہد جاری ہے۔ اس جدوجہد کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔ ہم ادھر ایک اور سوال پر غور کر لیتے ہیں۔ فرض کر لیتے ہیں کہ مارک نے کپتان کی جماعت اسلامی سے ملتی جلتی سوچ کا اندازہ ٹھیک لگایا۔

اگر یہ اندازہ ٹھیک ہے تو پھر یہ جائزہ لینا ہو گا کہ کپتان نے جماعت والی سوچ رکھ کر کیسے اتنی سیاسی سپورٹ حاصل کی۔ ایک صوبے میں حکومت بنا لی سب سے بڑی اپوزیشن بن گیا۔ اگلے الیکشن کے لئے ایک موثر ترین قوت کے طور پر سامنے ہے۔ جماعت اسلامی کپتان کی پارٹی سے کہیں زیادہ منظم ہو کر سیاسی طور پر ناکام ہے۔

جماعت کی ناکامی کی وجہ کیا یہ ہے کہ وہ ووٹر تک اپنا پیغام پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔ اس ناکامی کی وجہ کیا یہ ہے کہ وہ جدید سیاسی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکی۔ وہ لوگوں کے انفرادی معاملات میں اتنی روک لگاتی دکھائی دیتی ہے کہ لوگوں نے اسے اپنے اجتماعی معاملات سے بیدخل کر رکھا ہے۔

\"\"

جماعت اسلامی ایک بہت منظم تنظیم رکھتی ہے۔ اس کی قیادت الیکشن کے ذریعے تبدیل ہوتی ہے۔ اس کے اراکین جماعت کو باقی سیاسی جماعتوں کے ارکان سے دیانتدار بھی مانا جاتا ہے۔ تو پھر سیاسی ناکامی کی کیا وجہ ہے۔ ایسے میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب جماعت والی سوچ رکھ کر کپتان کہیں بہتر سیاسی پوزیشن پر موجود ہے۔

کیا جماعت اسلامی کپتان کی سیاست سے کچھ سیکھنے کو تیار ہے۔ جماعت اسلامی اگر اپنا سیاسی موقف برقرار بھی رکھے۔ لوگوں کے اجتماعی فائدوں پر فوکس ہو جائے ان کو انفرادی معاملات میں زیادہ آزادی دے دے اس سے لاتعلق ہو جائے تو ایک نیا سیاسی جنم لے سکتی ہے۔

ایک منظم جماعت اسلامی نئے انداز میں سامنے آ کر پاکستانی سیاست میں سب کو حیران پریشان کر سکتی ہے۔ شاید!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ آپ کو کبھی پختون لگوں گا تو کبھی پنجابی۔ کہانیاں بس ایسی ہی ہیں کہ سمجھ آئیں یا نہ آئیں مگر شاید پسند ضرور آ جائیں۔

wisi has 236 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “کپتان کی بجائے اصل جماعت اسلامی کیوں نہیں

Comments are closed.