سلمان حیدر کے نام ایک خط


\"\"شکریہ سلما ن حیدر !

یہ بات عیاں کرنے کا کہ ابھی جہالت پر ایقان رکھنے والوں میں کمی نہیں آئی ۔ شکریہ یہ بھید کھولنے کا کہ مذہب آج بھی ہمارے ہاں ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے ایک آلہِ کار کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ شکریہ کہ تم نے مجھ پر یہ معاشرتی حقیقت منکشف کی کہ ہمارے ہاں آج بھی دلیل کی بجائے تذلیل، گفتگو کی بجائے تکرار، بحث کی بجائے توہین، برداشت کی بجائے عدم برداشت، امن کی بجائے تشدد، مفاہمت کی بجائے مخاصمت، تعمیر کی بجائے تخریب، اور تنقید کی بجائے تقلید کی روش کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔

شکریہ سلمان حیدر!

کہ تم نے معاشرے میں موجود تضاد کو اپنی گمشدگی سے اور نمایاں کر دیا اور یہ بات ثابت کردی کہ اس ملک میں قانون صرف کتابوں، اقلیتوں، غریبوں اور کمزوروں تک ہی محدود ہوکر رہ گیا ۔ شکریہ اس مفروضے کو حقیقت کا روپ دینے پر کہ اس نگر کے اکثر باسیوں کو میڈیا اور عدالت کے درمیان فرق کی نہ تو کوئی پہچان ہے اور نہ ہی پرواہ، اور یہ کہ اب سے جزا و سزا، گناہ و بے گناہ کے فیصلے صرف عدالتیں ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر چند مخصوص گروہ بھی کریں گے ۔

شکریہ سلمان حیدر!

کہ تم نے اس مضحکہ خیز سچ کو دریافت کیا کہ میڈیا پر موجود ہر فرد اپنی ذات میں جج اور ہر سوشل میڈیا اکاﺅنٹ ایک عدالت ہے جہاں ملزم کو سزا پہلے سنائی جاتی ہے اور الزام بعد میں لگایا جاتا ہے۔ صفائی کا موقع اگلے جہان میں دیا جائے گا ۔

اسی بارے میں: ۔  حافظ منجن، قومی سلامتی، اور ہم سب

شکریہ یہ راز فاش کرنے کا کہ حب الوطنی کی سند دینے کا ٹھیکہ صرف چند مخصوص گروہوں کے پاس ہے۔

شکریہ یہ سچائی عوام کے سامنے لانے کا کہ سوال اٹھانے اور ان کے من گھڑت جواب بنانے کے جملہ حقوق صرف چند گروہوں کے پاس محفوظ ہیں ۔

شکریہ اس لاعلمی کو منظر عام پر لانے کا کہ ہمارے ہاں بنیادی انسانی حقوق جیسی کوئی بھی خرافاتِ زمانہ نہیں پائی جاتی ۔

شکریہ اس کم عقلی کو ثابت کرنے کا کہ اس ملک کے اکثر لوگ گوانتا ناموبے اور پاکستان میں فرق نہیں کر پاتے۔ حالانکہ اولِ الذکر ایک جیل ہے اور آخرِ الذکر ایک جمہوری فلاحی ریاست۔ ویسے بھی اس معاشرے میں جھوٹ بولنا ایک عام روایت ہے اور ہم بحثیت معاشرہ روایات سے انحراف گناہ تصور کرتے ہیں ۔

شکریہ کہ تمہاری گمشدگی سے مجھے یہ معلوم پڑا کہ اہل وطن کی اکثریت یہ یقین کر بیٹھی ہے کہ مستند ہے ان کا فرمایا ہوا ۔

شکریہ سات پردوں میں چھپی یہ بات ظاہر کرنے کا کہ ہمارے ہاں آج بھی خوف کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ شکریہ کہ تمہاری وجہ سے بلوچستان اور اسلام آباد میں ایک فرق کم ہوگیا ۔ شکریہ اس تلخ راز کو بے نقاب کرنے کا کہ اس ملک میں ابھی تک آدمی کو میسر نہیں ہے انسا ں ہونا ۔ شکریہ اپنی گمشدگی سے یہ پیغام دینے کا کہ اہل حکم آج بھی اہل  قلم سے خاص رغبت رکھتے ہیں اور ان سے زیادہ دیر جُدائی برداشت نہیں کر پاتے۔ (عقلمند کے لئے اشارہ ہی کافی ہے۔)

اسی بارے میں: ۔  مذہبی نما سیکولرز کا تماشا

 شکریہ کہ تم نے مجھے غلط ثابت کرنے میں کوئی رعایت نہیں برتی۔ ورنہ مجھے تو یہ یقین ہوچلا تھا کہ اس ملک میں جہالت اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ رہی ہے اور محض چند یوم ہی کی مہمان ہے ۔ لیکن اب حالات دیکھ کر یقین ہوا جاتا ہے کہ جہالت جلد ہماری جان نہیں چھوڑنے والی۔

 شکریہ کہ تم نے تو اپنے آپ سے بھی کوئی رعایت نہیں برتی اور خود کو بھی غلط ثابت کردیا ۔ محض سن کر تمہیں یہ یقین ہوچلا تھا کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی۔ کہا تھا نا کہ سُنی سنائی باتوں پر یقین نہ کرو۔ اور جو ماں خود اپنی حفاظت سے ہی قاصر ہو اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنی اولاد کا بھی تحفظ کرے گی اک دیوانے کا ہی خواب ہوسکتا ہے۔ اور یہاں نہ دیوانوں کی کمی ہے اور نہ ابھی تک خواب دیکھنے پر کوئی پابندی ۔

شکریہ سلمان حیدر !

لوگوں کی سوئی ہوئی جہالت کو جگانے پر ۔ مجھے غلط ثابت کرنے پر ۔ خود کو غلط ثابت کرنے پر ۔ اور میرے پہلے کالم کا موضوع بننے پر ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسامہ فاروق کی دیگر تحریریں
اسامہ فاروق کی دیگر تحریریں

3 thoughts on “سلمان حیدر کے نام ایک خط

  • 19-01-2017 at 2:45 am
    Permalink

    واہ واہ واہ پہلا کالم لکھا اور وہ بھی عجیب و غریب, معذرت کیساتھ آپ کی تحریر اور لال مسجد کے مولوی میں کوئی فرق نظر نہیں آیا مجھے , وہ مذہبی طور پر متعصب ہیں اور آپ روشن خیال تنگ نظر , اگر قانون کی عملداری پہ تنقید کرنا مقصود تھا تو حکومت کو کوستے یا اداروں کو , ساری قوم کو جاہل کس بنا پر کہہ رہے جناب ? ہاں یاد آیا سیکولر اور لبرل لوگوں کا یہی تو المیہ ہے کہ ان کو اپنے علاوہ سارے جاہل نظر آتے ہیں , نبی پاک ص کی سنت میں کوئی اونچی شلوار پہن لے تو جہالت اور اگر آدھی ٹانگوں والی چڈی پہن لے تو آپ لوگوں کی نظر میں روشن خیالی اور ترقی پسند , الفاظ کا گورکھ دھندا بڑا کارگر ہتھیار ہے روشن خیالوں کا لیکن کیا کیجیے صاحب یہ قوم بکھری ہوئی لیکن ایمان ضرور قائم ہے ٹوٹا پھوٹا ہی سہی

  • 20-01-2017 at 8:27 am
    Permalink

    اسامہ فاروق صاحب نے سب ٹھیک لکھااگر یہ درد کسی اور کے لیے بھی اٹھتا، اس ملک میں اور بھی بے شمار بے گناہ لا پتہ ہیں جن کا جرم بھی ان کی طرح لاپتہ ہے، صاحب آپ نے جو جو برائیاں بیان کی ہیں جناب نے اپنے رویے سے ثابت کیا کہ آپ بھی ان سب کا شکار ہیں۔

  • 20-01-2017 at 2:46 pm
    Permalink

    نکتہ چینی کرنے والے ہمیشہ کسی ایسے نکتے کی تلاش مین رہتے ہیں جس سے سامنے والے کی بھکیاں ادھیڑی جا سکیں۔ لکھتے رہیے آپ اچھا لکھنا جانتے ہیں

Comments are closed.