ٹیٹوال کا کتا


\"\"

کئی دن سے طرفین اپنے اپنے مورچے بر جمے ہوئے تھے۔ دن میں ادھر اور ادھر سے دس بارہ فائر کیے جاتے جن کی آواز کے ساتھ کوئی انسانی چیخ بلند نہیں ہوتی تھی۔ موسم بہت خوشگوار تھا۔ ہواخود رو پھولوں کی مہک میں بسی ہوئی تھی۔ پہاڑیوں کی اونچائیوں اور ڈھلوانوں پر جنگ سے بے خبرقدرت اپنے مقررہ اشغال میں مصروف تھی۔ پرندے اسی طرح چہچہاتے تھے۔ پھول اسی طرح کھل رہے تھے اور شہد کی سست رو مکھیاں اسی پرانے ڈھنگ سے ان پر اونگھ اونگھ کر رس چوستی تھیں۔ جب پہاڑیوں میں کسی فائر کی آواز گونجتی تو چہچہاتے ہوئے پرندے چونک کر اڑنے لگتے، جیسے کسی کا ہاتھ ساز کے غلط تار سے جا ٹکرایا ہے۔ اور ان کی سماعت کو صدمہ پہنچانے کا موجب ہوا ہے۔ ستمبر کا انجام اکتوبر کے آغاز سے بڑے گلابی انداز میں بغل گیر ہورہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ موسمِ سرما اور گرما میں صلح صفائی ہورہی ہے۔ نیلے نیلے آسمان پر دھنکی ہوئی روئی ایسے پتلے پتلے اور ہلکے ہلکے بادل یوں تیرتے تھے جیسے اپنے سفید بجروں میں تفریح کررہے ہیں۔ پہاڑی مورچوں میں دونوں طرف کے سپاہی کئی دن سے بڑی کوفت محسوس کررہے تھے کہ کوئی فیصلہ کن بال کیوں وقوع پذیر نہیں ہوتی۔ اکتا کر ان کا جی چاہتا تھا کہ موقع بے موقع ایک دوسرے کو شعر سنائیں۔ کوئی نہ سنے تو ایسے ہی گنگناتے رہیں۔ پتھریلی زمین پر اوندھے یا سیدھے لیٹے رہتے تھے۔ اور جب حکم ملتا تھا ایک دو فائر کردیتے تھے۔ دونوں کے مورچے بڑی محفوظ جگہ تھے۔ گولیاں پوری رفتار سے آتی تھیں اور پتھروں کی ڈھال کے ساتھ ٹکرا کر وہیں چت ہو جاتی تھیں۔ دونوں پہاڑیاں جن پر یہ مورچے تھے۔ قریب قریب ایک قد کی تھیں۔ درمیان میں چھوٹی سی سبز پوش وادی تھی جس کے سینے پر ایک نالہ موٹے سانپ کی طرح لوٹتا رہتا تھا۔ ہوائی جہازوں کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ توپیں ان کے پاس تھیں نہ ان کے پاس، اس لیے دونوں طرف بے خوف و خطر آگ جلائی جاتی تھیں۔ ان سے دھوئیں اٹھتے اور ہواؤں میں گھل مل جاتے۔ رات کو چونکہ بالکل خاموشی ہوتی تھی، اس لیے کبھی کبھی دونوں مورچوں کے سپاہیوں کو ایک دوسرے کے کسی بات پر لگائے ہوئے قہقہے سنائی دے جاتے تھے۔ کبھی کوئی لہر میں آکے گانے لگتا تو اس کی آوازرات کے سناٹے کو جگا دیتی۔ ایک کے پیچھے ایک باز گشت صدائیں گونجتیں تو ایسا لگتا کہ پہاڑیاں آموختہ دہرا رہی ہیں۔ چائے کا دور ختم ہو چکا تھا۔ پتھروں کے چولھے میں چیڑ کے ہلکے پھلکے کوئلے قریب قریب سرد ہو چکے تھے۔ آسمان صاف تھا۔ موسم میں خنکی تھا۔ ہوا میں پھولوں کی مہک نہیں تھی جیسے رات کو انھوں نے اپنے عطردان بند کرلیے تھے، البتہ چیڑ کے پسینے یعنی بروزے کی بوتھی مگر یہ بھی کچھ ایسی ناگوار نہیں تھی۔ سب کمبل اوڑھے سورہے تھے، مگر کچھ اس طرح کہ ہلکے سے اشارے پر اٹھ کر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہو سکتے تھے۔ جمعدار ہرنام سنگھ خود پہرے پر تھا۔ اس کی راسکوپ گھڑی میں دو بجے تو اس نے گنڈا سنگھ کو جگایا اورپہرے پر متعین کردیا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ سو جائے، پر جب لیٹا تو آنکھوں سے نیند کو اتنا دور پایا جتنے کہ آسمان کے ستارے تھے۔ جمعدار ہرنام سنگھ چٹ لیتا ان کی طرف دیکھتا رہا۔ اورگنگنانے لگا۔ جُتیّ لینی آں ستاریاں والی۔ ستاریاں والی۔ وے ہر نام سنگھا ہو یارا، بھاویں تیری مہیں وک جائے اور ہرنام سنگھ کو آسمان ہر طرف ستاروں والے جوتے بکھرے نظر آئے۔ جو جھلمل جھلمل کررہے تھے جتی لے دؤں ستاریاں والی۔ ستاریاں والی۔ نی ہرنام کورے ہونارے، بھاویں میری مَہیں وک جائے یہ گا کر وہ مسکرایا، پھر یہ سوچ کر کہ نیند نہیں آئے گی، اس نے اٹھ کر سب کو جگا دیا۔ نار کے ذکر نے اس کے دماغ میں ہلچل پیدا کردی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اوٹ پٹانگ گفتگو ہو، جس سے اس بولی کی ہرنام کوری کیفیت پیدا ہو جائے۔ چنانچہ باتیں شروع ہوئیں مگر اُکھڑی اُکھڑی رہیں۔ بنتا سنگھ جو ان سب میں کم عمر اور خوش آواز تھا، ایک طرف ہٹ کر بیٹھ گیا۔ باقی اپنی بظاہر پرلطف باتیں کرتے اور جمائیاں لیتے رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد بنتا سنگھ نے ایک دم اپنی پرسوز آواز میں ہیر گانا شروع کردی۔ ہیر آکھیا جو گیا جھوٹھ بولیں، کون روٹھڑے یار مناؤندائی ایسا کوئی نہ ملیا میں ڈھونڈتھکی جیہڑا گیاں نوں موڑلیاؤندائی اک باز تو کانگ نے کونج کھوئی دیکھاں چپ ہے کہ کرلاؤندائی دکھاں والیاں نوں گلاں سُکھدیاں نی قصے جوڑ جہان سناؤندائی پھر تھوڑے وقفے کے بعد اس نے ہیر کی ان باتوں کا جواب رانجھے کی زبان میں گایا ؂ جیہڑے بازتوں کانگ نے کونج کھوئی صبرشکر کر بازفناہ ہویا اینویں حال ہے اس فقیر دانی دھن مال گیا تے تباہ ہویا کریں صدق تے کم معلوم ہووے تیرا رب رسول گواہ ہویا دنیا چھڈ اداسیاں پہن لیاں سید وارثوں ہن وارث شاہ ہویا بنتا سنگھ نے جس طرح ایک دم گانا شروع کیا تھا، اسی طرح وہ ایک دم خاموش ہو گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خاکستری پہاڑیوں نے بھی اداسیاں پہن لی ہیں۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے تھوڑی دیر کے بعد کسی غیر مرئی چیز کو موٹی سی گالی دی اور لیٹ گیا۔ دفعتہً رات کے آخری پہر کی اس اداس فضا میں کتے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ سب چونک پڑے۔ آواز قریب سے آئی تھی۔ صوبیدار ہرنام سنگھ نے بیٹھ کر کہا۔

’’یہ کہاں سے آگیا بھونکو؟‘‘

کتا پھر بھونکا۔ اب اس کی آواز اور بھی نزدیک سے آئی تھی۔ چند لمحات کے بعد دور جھاڑیوں میں آہٹ ہوئی۔ بنتا سنگھ اٹھا اور اس کی طرف بڑھا۔ جب واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک آوارہ سا کتا تھا جس کی دم ہل رہی تھی۔ وہ مسکرایا۔

’’جمعدار صاحب۔ میں ہوکمر ادھر بولا تو کہنے لگا، میں ہوں چپڑ جُھن جُھن!‘‘

سب ہنسنے لگے۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے کتے کو پچکارا۔

’’ادھر آچپڑ جُھن جُھن۔ ‘‘

کتا دم ہلاتا ہرنام سنگھ کے پاس چلا گیا اور یہ سمجھ کر کہ شاید کوئی کھانے کی چیز پھینکی گئی ہے، زمین کے پتھر سونگھنے لگا۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے تھیلا کھول کر ایک بسکٹنکالا اور اس کی طرف پھینکا۔ کتے نے اسے سونگھ کر منہ کھولا، لیکن ہرنام سنگھ نے لپک کر اسے اٹھالیا۔

اسی بارے میں: ۔  منٹو کا خود پر لکھا ہوا خاکہ

’’ٹھہر۔ کہیں پاکستانی تو نہیں!‘‘

سب ہنسنے لگے۔ سردار بنتا سنگھ نے آگے بڑھ کر کتے کی پیٹھ پرہاتھ پھیرا اور جمعدار ہرنام سنگھ سے کہا۔

’’نہیں جمعدار صاحب، چپڑ جُھن جُھن ہندوستانی ہے۔ ‘‘

جمعدارہرنام سنگھ ہنسا اور کتے سے مخاطب ہوا۔

’’نشانی دکھا اوئے؟‘‘

کتا دم ہلانے لگا۔ ہرنام سنگھ ذرا کھل کے ہنسا۔

’’یہ کوئی نشانی نہیں۔ دم تو سارے کتے ہلاتے ہیں۔ ‘‘

بنتا سنگھ نے کتے کی لرزاں دم پکڑلی۔

’’شرنارتھی ہے بے چارہ!‘‘

جمعدار ہرنام سنگھ نے بسکٹ پھینکا جو کتے نے فوراً دبوچ لیا۔ ایک جوان نے اپنے بوٹ کی ایڑھی سے زمین کھودتے ہوئے کہا۔

’’اب کتوں کو بھی یا تو ہندوستانی ہونا پڑے گا یا پاکستانی!‘‘

جمعدار نے اپنے تھیلے سے ایک بسکٹ نکالا اور پھینکا۔

’’پاکستانیوں کی طرح پاکستانی کتے بھی گولی سے اڑا دیے جائیں گے!‘‘

ایک نے زور سے نعرہ بلند کیا۔

’’ہندوستان زندہ باد!‘‘

کتا جو بسکٹ اٹھانے کے لیے آگے بڑھا تھا ڈر کے پیچھے ہٹ گیا۔ اس کی دم ٹانگوں کے اندر گھس گئی۔ جمعدار ہرنام سنگھ ہنسا۔

’’اپنے نعرے سے کیوں ڈرتا ہے چپڑجُھن جُھن۔ کھا۔ لے ایک اور لے۔ ‘‘

اس نے تھیلے سے ایک اور بسکٹ نکال کر اسے دیا۔ باتوں باتوں میں صبح ہو گئی۔ سورج ابھی نکلنے کا ارادہ ہی کررہا تھا کہ چار سو اجالا ہو گیا۔ جس طرح بٹن دبانے سے ایک دم بجلی کی روشنی ہوتی ہے۔ اسی طرح سورج کی شعاعیں دیکھتے ہی دیکھتے ہی اس پہاڑی علاقے میں پھیل گئی جس کا نام ٹیٹوال تھا۔ اس علاقے میں کافی دیر سے لڑائی جاری تھی۔ ایک ایک پہاڑی کے لیے درجنوں جوانوں کی جان جاتی تھی، پھر بھی قبضہ غیریقینی ہوتا تھا۔ آج یہ پہاڑی ان کے پاس ہے، کل دشمن کے پاس، پرسوں پھر ان کے قبضے میں اس سے دوسرے روز وہ پھر دوسروں کے پاس چلی جاتی تھی۔ صوبیدار ہرنام سنگھ نے دوربین لگا کر آس پاس کا جائزہ لیا۔ سامنے پہاڑی سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ اس کا یہ مطلب تھا کہ چائے وغیرہ تیار ہورہی ہے ادھر بھی ناشتے کی فکر ہورہی تھی۔ آگ سلگائی جارہی تھی۔ ادھر والوں کو بھی یقیناً اِدھر سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا تھا۔ ناشتے پر سب جوانوں نے تھوڑا تھوڑا کتے کو دیا جس کو اس نے خوب پیٹ بھر کے کھایا۔ سب اس سے دلچسپی لے رہے تھے جیسے وہ اس کو اپنا دوست بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے آنے سے کافی چہل پہل ہو گئی تھی۔ ہر ایک اس کو تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد پچکار کر

’’چپڑ جُھن جُھن‘‘

کے نام سے پکارتا اور اسے پیار کرتا۔ شام کے قریب دوسری طرف پاکستانی مورچے میں صوبیدار ہمت خان اپنی بڑی بڑی مونچھوں کو جن سے بے شمار کہانیاں وابستہ تھیں، مروڑے دے کر ٹیٹوال کے نقشے کا بغور مطالعہ کررہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی وائرلیس آپریٹر بیٹھا تھا اور صوبیدار ہمت خاں کے لیے پلاٹون کمانڈر سے ہدایات وصول کررہا تھا۔ کچھ دور ایک پتھر سے ٹیک لگائے اور اپنی بندوق لیے بشیر ہولے ہولے گنگنا رہا تھا۔ ؂ چن کِتھے گوائی آئی رات وے۔ چن کتھے گوائی آئی بشیر نے مزے میں آکر ذرا اونچی آواز کی تو صوبیدار ہمت خان کی کڑک بلند ہوئی۔

’’اوئے کہاں رہا ہے تو رات بھر؟‘‘

بشیر نے سوالیہ نظروں سے ہمت خان کو دیکھنا شروع کیا۔ جو بشیر کے بجائے کسی اور سے مخاطب تھا۔

’’بتا اوئے۔ ‘‘

بشیر نے دیکھا۔ کچھ فاصلے پر وہ آوارہ کتا بیٹھا تھا جو کچھ دن ہوئے ان کے مورچے میں بن بلائے مہمان کی طرح آیا تھا اور وہیں ٹک گیا تھا۔ بشیر مسکرایا اور کتے سے مخاطب ہو کر بولا۔

’’چن کتھے گوائی آئی رات وے۔ چن کتھے گوائی آئی؟ کتنے نے زور سے دم ہلانا شروع کردی جس سے پتھریلی زمین پر جھاڑوسی پھرنے لگی۔ صوبیدار ہمت خاں نے ایک کنکر اٹھا کر کتے کی طرف پھینکا۔

’’سالے کو دم ہلانے کے سوا اور کچھ نہیں آتا!‘‘

بشیر نے ایک دم کتے کی طرف غور سے دیکھا۔

’’اس کی گردن میں کیا ہے؟‘‘

یہ کہہ کروہ اٹھا، مگر اس سے پہلے ایک اور جوان نے کتے کو پکڑ کر اس کی گردن میں بندھی ہوئی رسی اتاری۔ اس میں گتے کا ایک ٹکڑا پرویا ہوا تھا۔ جس پر کچھ لکھا تھا۔ صوبیدار ہمت خاں نے یہ ٹکڑا لیا اور اپنے جوانوں سے پوچھا۔

’’لنڈے ہیں۔ جانتا ہے تم میں سے کوئی پڑھنا۔ ‘‘

بشیر نے آگے بڑھ کر گتے کا ٹکڑا لیا۔

’’ہاں۔ کچھ کچھ پڑھ لیتا ہوں۔ ‘‘

اور اس نے بڑی مشکل سے حرف جوڑ جوڑ کر یہ پڑھا۔

’’چپ۔ چپڑ۔ جُھن جُھن۔ چپڑ جُھن جُھن۔ یہ کیاہوا؟‘‘

صوبیدار ہمت خاں نے اپنی بڑی بڑی تاریخی مونچھوں کو زبردست مروڑا دیا۔

’’کوڈورڈ ہو گا کوئی۔ ‘‘

پھر اس نے بشیر سے پوچھا۔

’’کچھ اور لکھاہے بشیرے۔ ‘‘

بشیر نے جو حروف شناسی میں مشغول تھا۔ جواب دیا۔

’’جی ہاں۔ یہ۔ ہند۔ ہند۔ ہندوستانی۔ یہ ہندوستانی کتا ہے!‘‘

صوبیدار ہمت خاں نے سوچنا شروع کیا۔

’’مطلب کیا ہوا اس کا؟۔ کیا پڑھا تھا تم نے۔ چپڑ؟ ؟‘‘

بشیر نے جواب دیا۔

’’چپڑ جُھن جُھن!‘‘

ایک جوان نے بڑے عاقلانہ انداز میں کہا۔

’’جو بات ہے اسی میں ہے۔ ‘‘

صوبیدار ہمت خان کو یہ بات معقول معلوم ہوئی۔

’’ہاں کچھ ایسا لگتا ہے۔ ‘‘

بشیر نے گتے پر لکھی ہوئی عبارت پڑھی۔

’’چپڑ جھن جھن۔ یہ ہندوستانی کتا ہے!‘‘

صوبیدار ہمت خان نے وائرلیس سیٹ لیا اور کانوں پر ہیڈ فون جما کر پلاٹوں کمانڈر سے خود اس کتے کے بارے میں بات چیت کی۔ وہ کیسے آیاتھا۔ کس طرح ان کے پاس کئی دن پڑا۔ پھر ایکا ایکی غائب ہو گیا اور رات بھر غائب رہا۔ اب آیا ہے تو اس کے گلے میں رسی نظر آئی جس میں گتے کا ایک ٹکرا تھا۔ اس پر جو عبارت لکھی تھی وہ اس نے تین چار مرتبہ دہرا کرپلاٹون کمانڈر کو سنائی مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ بشیر الگ کتے کے پاس بیٹھ کر اسے کبھی پچکار کر، کبھی ڈرا دھمکا کر پوچھتا رہا کہ وہ رات کہاں غائب رہا تھا اور اسکے گلے میں وہ رسی اور گتے کا ٹکڑا کس نے باندھا تھا مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملا۔ وہ جو سوال کرتا، اس کے جواب میں کتا اپنی دم ہلا دیتا۔ آخرغصے میں آکر بشیر نے اسے پکڑ لیا اور زور سے جھٹکا دیا۔ کتا تکلیف کے باعث چاؤں چاؤں کرنے لگا۔ وائرلیس سے فارغ ہو کر صوبیدار ہمت خان نے کچھ دیر نقشے کا بغور مطالعہ کیا پھر فیصلہ کن انداز میں اٹھا اور سگریٹ کی ڈبیا کا ڈھکنا کھول کر بشیر کودیا۔

اسی بارے میں: ۔  مراسلہ ۔۔۔ نیئر مسعود کا افسانہ

’’بشیرے، لکھ اس پر گورمکھی میں۔ ان کیڑے مکوڑوں میں۔ ‘‘

بشیر نے سگرٹ کی ڈبیا کا گتا لیا اور پوچھا۔

’’کیا لکھوں صوبیدار صاحب۔ ‘‘

صوبیدار ہمت خاں نے مونچھوں کو مروڑے دے کر سوچنا شروع کیا۔

’’لکھ دے۔ بس لکھ دے!‘‘

یہ کہہ اس نے جیب سے پنسل نکال کر بشیر کودی

’’کیا لکھنا چاہیے؟‘‘

بشیر پنسل کے منہ کو لب لگا کر سوچنے لگا!پھرایک دم سوالیہ انداز میں بولا

’’سپڑ سُن سُن؟۔ ‘‘

لیکن فوراً ہی مطمئن ہو کر اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا

’’ٹھیک ہے۔ چپڑ جُھن جُھن کا جواب سپڑ سُن سُن ہی ہو سکتا ہے۔ کیا یاد رکھیں گے اپنی ماں کے سکھڑے۔ ‘‘

بشیر نے پنسل سگرٹ کی ڈبیا پرجمائی۔

’’سپر سن سن؟‘‘

’’سولہ آنے۔ لکھ۔ سب۔ سپر۔ سن سن!‘‘

یہ کہہ کرصوبیدار ہمت خاں نے زور کا قہقہہ لگایا۔

’’اور آگے لکھ۔ یہ پاکستانی کتا ہے!‘‘

صوبیدار ہمت خاں نے کتا بشیر کے ہاتھ سے لیا۔ پنسل سے اس میں ایک طرف چھید کیا اوررسی میں پرو کرکتے کی طرف بڑھا۔

’’لے جا، یہ اپنی اولاد کے پاس!‘‘

یہ سن کر سب خوب ہنسے۔ صوبیدار ہمت خاں نے کتے کے گلے میں رسی باندھ دی۔ وہ اس دوران میں اپنی دم ہلاتا رہا۔ اس کے بعد صوبیدار نے اسے کچھ کھانے کو دیا اور بڑے ناصحانہ انداز میں کہا۔

’’دیکھو دوست غداری مت کرنا۔ یادرکھو غدار کی سزا موت ہوتی ہے!‘‘

کتا دم ہلاتا رہا۔ جب وہ اچھی طرح کھا چکا تو صوبیدار ہمت خاں نے رسی سے پکڑ کر اس کا رخ پہاڑی کی اکلوتی پگڈنڈی کی طرف پھیرا اور کہا۔

’’جاؤ۔ ہمارا خط دشمنوں تک پہنچا دو۔ مگر دیکھوواپس آجانا۔ یہ تمہارے افسر کا حکم ہے سمجھے؟‘‘

کتے نے اپنی دم ہلائی اور آہستہ آہستہ پگڈنڈی پر جو بل کھاتی ہوئے نیچے پہاڑی کے دامن میں جاتی تھی چلنے لگا۔ صوبیدار ہمت خاں نے اپنی بندوق اٹھائی اور ہوا میں ایک فائر کیا۔ فائر اور اس کی باز گشت دوسری طرف ہندوستانیوں کے مورچے میں سنی گئی۔ اس کا مطلب اُن کی سمجھ میں نہ آیا۔ جمعدار ہرنام سنگھ معلوم نہیں کس بات پر چڑچڑا ہورہا تھا، یہ آواز سن کر اور بھی چڑچڑا ہو گیا۔ اس نے فائر کا حکم دے دیا۔ آدھے گھنٹے تک چنانچہ دونوں مورچوں سے گولیوں کی بیکار بارش ہوتی رہی۔ جب اس شغل سے اکتا گیا تو جمعدار ہرنام سنگھ نے فائر بند کرادیا اور داڑھی میں کنگھا کرنا شروع کردیا۔ اس سے فارغ ہو کر اس نے جالی کے اندرسارے بال بڑے سلیقے سے جمائے اور بنتا سنگھ سے پوچھا۔

’’اوئے بنتاں سیاں! چپڑ جُھن جُھن کہاں گیا؟‘‘

بنتا سنگھ نے چیڑ کی خشک لکڑی سے بروزہ اپنے ناخنوں سے جدا کرتے ہوئے کہا۔

’’کتے کو گھی ہضم نہیں ہوا؟‘‘

بنتا سنگھ اس محاورے کا مطلب نہ سمجھا۔

’’ہم نے تواسے گھی کی کوئی چیز نہیں کھلائی تھی۔ ‘‘

یہ سن کر جمعدار ہرنام سنگھ بڑے زور سے ہنسا۔

’’اوئے ان پڑھ۔ تیرے ساتھ تو بات کرنا پچانویں کا گھاٹا ہے!‘‘

اتنے میں وہ سپاہی جو پہرے پر تھا اور دور بین لگائے اِدھر سے اُدھر دیکھ رہا تھا۔ ایک دم چلایا۔

’’وہ۔ وہ آرہا ہے!‘‘

سب چونک پڑے۔ جمعدار ہرنام سنگھ نے پوچھا۔

’’کون؟‘‘

پہرے کے سپاہی نے کہا۔

’’کیا نام تھا اس کا؟۔ چپڑ جُھن جُھن!‘‘

’’چپڑ جُھن جُھن؟‘‘

یہ کہہ کر جمعدار ہرنام سنگھ اٹھا۔

’’کیا کررہا ہے۔ ‘‘

پہرے کے سپاہی نے جواب دیا۔

’’آرہا ہے۔ ‘‘

جمعدار ہرنام سنگھ نے دور بین اس کے ہاتھ میں لی اور دیکھنا شروع کیا۔

’’ادھر ہی آرہا ہے۔ رسی بندھی ہوئی ہے گلے میں۔ لیکن۔ یہ تو اُدھرسے آ رہا ہے دشمن کے مورچے سے۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے کتے کی ماں کو بہت بڑی گالی دی۔ اس کے بعد اس نے بندوق اٹھائی اور شست باندھ کر فائر کیا۔ نشانہ چُوک گیا۔ گولی کتے سے کچھ فاصلے پر پتھروں کی کرچیں اڑاتی زمین میں دفن ہو گئی۔ وہ سہم کر رُک گیا۔ دوسرے مورچے میں صوبیدار ہمت خاں نے دور بین میں سے دیکھا کہ کتا پگڈنڈی پر کھڑا ہے۔ ایک اور فائر ہوا تووہ دم دبا کر الٹی طرف بھاگا۔ صوبیدار ہمت خاں کے مورچے کی طرف۔ وہ زور سے پکارا۔

’’بہادر ڈرا نہیں کرتے۔ چل واپس‘‘

اور اس نے ڈرانے کے لیے ایک فائر کیا۔ کتا رک گیا۔ ادھر سے جمعدار ہرنام سنگھ نے بندوق چلائی۔ گولی کتے کے کان سے سنساتی ہوئی گزر گئی۔ اس نے اچھل کر زور زور سے دونوں کان پھڑپھڑانے شروع کیے۔ ادھر سے صوبیدار ہمت خاں نے دوسرا فائر کیا جو اس کے اگلے پنجوں کے پاس پتھروں میں پیوست ہو گیا۔ بوکھلا کر کبھی وہ ادھر دوڑا، کبھی ادھر۔ اس کی اس بوکھلاہٹ سے ہمت خاں اور ہرنام دونوں مسرور ہوئے اور خوب قہقہے لگاتے رہے۔ کتے نے جمعدار ہرنام سنگھ کے مورچے کی طرف بھاگنا شروع کیا۔ اس نے یہ دیکھا تو بڑے تاؤ میں آکر موٹی سی گالی دی اور اچھی طرح شِست باندھ کر فائر کیا۔ گولی کتے کی ٹانگ میں لگی۔ ایک فلک شگاف چیخ بلند ہوئی۔ اس نے اپنا رخ بدلا۔ لنگڑا لنگڑا کر صوبیدار ہمت خاں کے مورچے کی طرف دوڑنے لگا تو اُدھر سے بھی فائر ہوا، مگر وہ صرف ڈرانے کے لیے کیا گیا تھا۔ ہمت خاں فائر کرنے ہی چلایا۔

’’بہادر پروا نہیں کیا کرتے زخموں کی۔ کھیل جاؤ اپنی جان پر۔ جاؤ۔ جاؤ!‘‘

کتا فائر سے گھبرا کر مڑا۔ ایک ٹانگ اس کی بالکل بیکار ہو گئی تھی۔ باقی تین ٹانگوں کی مدد سے اس نے خود کو چند قدم دوسری جانب گھسیٹا کہ جمعدار ہرنام سنگھ نے نشانہ تاک کر گولی چلائی جس نے اسے وہیں ڈھیر کردیا۔ صوبیدار ہمت خاں نے افسوس کے ساتھ کہا۔

’’چچ چچ۔ شہید ہو گیا بے چارہ!‘‘

جمعدار ہرنام سنگھ نے بندوق کی گرم گرم نالی اپنے ہاتھ میں لی اور کہا۔

’’وہی موت مرا جو کتے کی ہوتی ہے !‘‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔