پی آئی اے اور ہماری منافقت


ammar masoodہم بھی بڑے منافق ہیں۔ اپنے کہے لفظ بھول جاتے ہیں۔ اپنے قول سے مکر جاتے ہیں۔ اپنے لفظوں سے خود ہی پلٹ جاتے ہیں۔ جو کل سچ ہوتا ہے اسے آج ہم جھوٹ بتاتے ہیں۔ جو آج حقیقت ہے دل کرے تو اس کو فسانہ بتاتے ہیں۔ دعوے، وعدے، ارادے سب جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں اپنے مفاد کی جنگ کو ہم حق بتاتے ہیں۔ مخالف سوچ کو باطل بتاتے ہیں۔ خود کو خیر کہلاتے ہیں اور باقی سارے جہاں کو شر گردانتے ہیں۔ ہم بڑے منافق لوگ ہیں۔

یہی پی آئی اے کی ائر لائن تھی جس کی برائیاں کرتے ہم تھکتے نہ تھے۔ کبھی اس کے فلائٹ کچن میں سے چوہا برآمد ہو ا تو مہینوں اس کا مذاق اڑتا رہا۔ کبھی پروازیں جو تاخیر سے آئیں تو ہم نے سب سے بڑھ کر اس کا تمسخر اڑایا۔ کبھی ائر ہوسٹس نے بد زبانی کی تو ہر محفل میں چرچا رہا۔ کبھی سالانہ خسارے کا ذکر ہوا تو ہم نے خود سب سے زیادہ شور مچایا۔ سرکاری بھرتیوں کا تذکرہ ہوا تو سب سے پہلے پی آئی اے کا نام آیا۔ بدترین مینجمنٹ کا ذکر ہوا تو ہم نے اپنی قومی ائر لائن پر لطیفے بنا لئے۔ کبھی جہاز کا ٹائر پنکچر ہوا تو ہم نے اسی ائر لائن کی تذلیل شروع کر دی۔ کبھی ایمر جنسی لینڈنگ ہوئی تو ہم نے پوری ائر لائن کو ہی توم ڈالا۔

یہ ہمارا رویہ اس ائر لائن کے بارے میں مدتوں سے رہا ہے۔ جس قومی ادارے کے دفاع کے لئے آج چند افراد جلوس نکالے کھڑے ہیں وہ ایک لمحے میں سارا ماضی بھول گئے۔ سارے داغ دھل گئے۔ سارے گناہ معاف ہو گئے۔ اس معافی کی وجہ صرف اتنی ہے پہلی دفعہ اس ائرلائن کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جا رہا ہے۔ مزید بھرتیوں کے بجائے نیشنل کیرئیر کی بہتری پر غور کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں گھوسٹ ملازمین کی کارکردگی کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ پہلی دفعہ ماہانہ اربوں روپے ملکی خسارے کو کم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ ایک ادارے کہ بہتری کے جانب قدم بڑھایا جا رہا ہے۔

ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ پی آئی اے کی نج کاری کے فوائد کیا کیا ہوں گے۔ یہ قومی ائر لائن کیا سے کیا ہو جائے گی۔ اس کے حالات کتنے بدل جائیں گے۔ اس کی کارکردگی میں کیا فرق پڑ جائے گا۔

سب سے پہلے تو قومی خزانے کو ہر ماہ تین ارب روپے سے زیادہ ہونے والے خسارے سے نجات ملے گی۔ اگر حکومت پی آئی اے کسی کو مفت بھی دے تو ہر ماہ تین ارب روپیہ کی بچت ہو گی جو سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں اور سڑکوں پر لگا یا جا سکتا ہے۔ پی آئی اے کو پرائیوٹیائز کرنے سے اس کی کارکردگی بہتر ہو گی۔ نئی مینجمنٹ مزید سرمایہ کاری کرے گی اور غیر ملکی سرمایہ پاکستان میں آئے گا۔ نجی شعبے میں ہونے کی وجہ سے نئے جہاز خریدے جائیں گے جس کی سکت اس وقت حکومت وقت میں نہیں ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں گھوسٹ ملازمین کا خاتمہ ہو گا۔ سیاسی بھرتیوں پر پابندی لگے گی۔ عملہ اور سروس بہتر ہوں گے۔ پروازیں وقت پر آئیں گی۔ بوسیدہ جہاز فارغ کیئے جائیں گے۔ ان فلائٹ پر اشیائے خورونوش کا معیار بہتر ہو گا۔ مسافروں کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات کم ہوں گے۔ خوش اخلاقی شعار بنے گی۔

وہ تمام حضرات جو مندرجہ بالا باتوں کو مجذوب کی بڑ قرار دے رہے ہیں۔ وہ کسی بھی پرائیوٹ بینک میں جا کر دیکھ لیں اور اس کا موازنہ کسی بھی سرکاری بینک سے کر لیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ یہی وہ بینک تھے کہ جن میںبل جمع کروانے کے لیئے گھنٹوں ذلیل ہونا پڑتا تھا۔ یہی وہ بینک تھے جن میں اکاونٹ کھلوانے کے لیئے مہینوں درکار تھے، یہی وہ بینک تھے جن میں اپنے ہی اکاونٹ سے پیسے نکلوانے کے لیئے کتنا کھجل ہونا پڑتا تھا۔ یہی وہ بینک تھے جہاں عملے کا ہر فرد اپنے آپ کو خدا سمجھتا تھا۔ اور اب یہی بینک ہیں جہاں کلائنٹ کے ہر طرح کے نخرے اٹھائے جاتے ہیں۔ اکاونٹ کھلوانا ہو یا بل جمع کروانا ہو عملہ آپ کی بلائیں لے لے نہیں تھکتا۔

 دراصل اس قوم کو جذباتی کرنا بہت آسان ہے۔ یہ کہنا بہت سہل ہے کہ قوم کو بیچ دیا گیا۔ یہ بھی عام سی بات ہو گئی ہے کہ لوگوں کو کسی بھی چوک میں اکھٹا کر نعرے لگائے جائیں۔ ٹی وی پر بریکنگ نیوز چلائی جائے۔ اپنے ہی لفظوں سے پھر جانا بھی کوئی نئی بات نہیں۔

نہ ہمیں احتجاج کا سلیقہ ہے نہ اپنی بات منوانے کے طریقے سے ہم واقف ہیں۔ ہم جذبات سے بھرے لوگ اس شدت سے مخالفت برائے مخالفت پر عمل پیرا ہیں کہ ہماری سب سوچیں مفلوج ہو جاتی ہیں اور دماغ بند ہو جاتے ہیں۔ نعرے لگاتے۔ سرکاری املاک کو توڑتے پھوڑتے، ٹائروں کو سڑکوں پر جلاتے، شاہراوں پر ٹریفک بند کرتے اور احتجاج کی آخری حد سے گزرتے لمحہ بھر کو ہمیں اس بات کا خیال نہیں آتا کہ جس ملک و قوم کے حق میں ہم گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہے ہیں ہم اسی ملک و قوم کو اپنے اعمال سے، احتجاج سے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ترقی کی راہ روک رہے ہیں، بہتری کے رستہ میں خود حائل ہو رہے ہیں۔

وہ ادارے جو کینسر کی طرح اس معیشت کو چاٹ رہے ہیں ان سے معذرت ہی اس دور کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ ان کی نج کاری ہی حل ہے۔ ان اداروں کے حالات اگر بہتر ہونے ہوتے تو کئی دہائیوں میں ہو چکے ہوتے۔ اب ان کی بہتری کا کوئی طریقہ کسی بھی حکومت کے پاس موجود نہیں ہے۔ خدارا ملکی معیشت کے ان اہم فیصلوں کو بچوں کا کھیل نہ سمجھیں۔ سنجیدہ معاملات سنجیدہ طرز عمل کے متقاضی ہوتے ہیں۔ احتجاج کی اپوزیشن کے لئے اس ملک نے بہت موقع دئیے ہیں۔ ان مواقع پر اپنے دل کی بھڑاس نکالیں۔ قوم کو پستی میں نہ دھکیلیں۔

میں جانتا ہوں کہ میرے اس بیان سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کل پھر لوگ سڑکوں پر نکلیں گے، ٹائر جلائیں گے، ہڑتال کریں گے، توڑ پھوڑ کریں گے اس لئے کہ ہم بھی بڑے منافق ہیں۔ اپنے کہے لفظ بھول جاتے ہیں۔ اپنے قول سے مکر جاتے ہیں۔ اپنے لفظوں سے خود ہی پلٹ جاتے ہیں۔ جو کل سچ ہوتا ہے اسے آج ہم جھوٹ بتاتے ہیں۔ جو آج حقیقت ہے دل کرے تو اس کو فسانہ بتاتے ہیں۔ دعوے، وعدے، ارادے سب جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں اپنے مفاد کی جنگ کو ہم حق بتاتے ہیں۔ مخالف سوچ کو باطل بتاتے ہیں۔ خود کو خیر کہلاتے ہیں اور باقی سارے جہاں کو شر گردانتے ہیں۔ ہم بڑے منافق لوگ ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 42 posts and counting.See all posts by ammar