ٹیکنالوجی کا جِن


\"\"

کوئی بم پھٹا نہ کوئی میزائل داغا گیا، کہیں سرحدی خلاف ورزی ہوئی نہ کسی فوجی کیمپ پر حملہ ہوا۔۔۔اس کے باوجود بھارتی فوج ہِل کر رہ گئی، آرمی چیف سے لے کر وزیر داخلہ تک سب کو وضاحتی بیان جاری کرنے پڑ گئے، بھارتی عوام نے اپنی فوج پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی، میڈیا میں بھونچال آگیا، دنیا بھر میں انڈین آرمی مذاق بن کر رہ گئی۔۔۔ اور یہ سب کچھ بھارتی فوج کے جوان کی وجہ سے ہوا جس نے گھٹیا معیار کے کھانے کی ویڈیو بنا کر فیس بک پر اپ لوڈ کی تھی۔ 10 جنوری سے اب تک اس ویڈیو کو اسّی لاکھ مرتبہ دیکھا گیا ہے جس میں پاکستانی سرحد کے قریب تعینات تیج بہادر یادیو نامی اس جوان نے اپنے کھانے کی ویڈیو بنائی اور کہا کہ جس قسم کا کھانا انہیں دیا جاتا ہے وہ کئی مرتبہ اتنا گھٹیا ہوتا ہے کہ جوان کھائے بغیر ہی باہر چلے جاتے ہیں، جلی ہوئی روٹی اور پانی جیسی دال کی تصاویر دکھا کے یادیو اس ویڈیو میں کہتے ہیں کہ اس قسم کے کھانے کے بعد کوئی کیا ڈیوٹی کرے گا، یادیو نے ان حالات کی وجہ BSFکے افسران کی کرپشن بتائی۔ اس ویڈیو کا وائرل ہونا تھا کہ بھارت میں گویا زلزلہ آگیا، آرمی چیف کو بیان دینا پڑا کہ اگر کسی کو شکایت ہے تو وہ فوج کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق درج کروائے سوشل میڈیا پر جانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی کیونکہ اس سے فوج کا مورال ڈاؤن ہوتا ہے۔ ادھر وزیر داخلہ کو کہنا پڑا کہ ہم اس معاملے کی جانچ کرکے’’راست کارروائی‘‘ کریں گے وغیر ہ وغیرہ۔
بھارتی فوج کو اس کے حال پر چھوڑتے ہیں کیونکہ ہمارا موضوع بھارتی فو ج کا مورال نہیں ہے۔ ذرا ڈیڑھ سو برس پیچھے چلتے ہیں اور حالات کو ریوائنڈ کر کے دیکھتے ہیں۔ ’’کمپنی کے عدالتی نظام میں کسی گورے کے ہاتھوں کالےکا قتل بڑا جرم شمار نہ ہوتا تھا۔ ایسے مقدمات میں مقتول اکثر بنگلوں اور دفتروں کے پنکھا قلی ہوتے تھے۔ انہوں نے دن رات مسلسل پنکھا کھینچنے کی بڑی مہارت حاصل کر رکھی تھی۔ بسا اوقات وہ پنکھے کی رسّی اپنے پاؤں کے انگوٹھے کے ساتھ باندھ کر فرش پر لیٹ جاتے تھے۔ اس حالت میں اگر کبھی انہیں اونگھ بھی آ جاتی تھی تو اِن کی ٹانگ متواتر چلتی رہتی تھی اور پنکھا بدستور ہلتا رہتا تھا۔ لیکن شومئی قسمت سے کسی وقت پنکھا بند ہوجائے، تو گرمی، نیند اور شراب کے خمار میں بوکھلایا ہوا ’’صاحب‘‘ ہربڑا کر اٹھتا تھا اور سوئے ہوئے قُلی کے پیٹ میں زور سے ٹھوکر مار کر اُسے بیدار کرتا تھا۔ کئی بار اس ٹھوکر کی ضرب سے بچارے قُلی کی تِلی پھٹ جاتی تھی، اور وہ وہیں لیٹے لیٹے دم توڑ دیتا تھا۔ اس جرم کی پاداش میں صاحب کو کبھی ایک روپیہ جرمانہ ہو جاتا تھا، کبھی محض وارننگ ملتی تھی، کبھی بالکل باعزت بری۔‘‘ (شہاب نامہ)
یہ ڈیڑھ سو سال کا سفر ہے، اس عرصے میں ٹیکنالوجی نے دنیا بدل کر رکھ دی ہے، اب کوئی سیشن جج اپنی آٹھ برس کی ’’ملازمہ‘‘ پر تشدد کرتا ہے تو اسے نوکری سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں اور ایک جوان محض موبائل فون پر بننے والی ویڈیو کی مدد سے دنیا کی دوسری بڑی آرمی کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ اس ضمن میں تین باتیں اہم ہیں جن کا ادراک ہم میں سے بہت سوں کو اب تک نہیں ہو پایا۔ پہلی، ٹیکنالوجی کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، بات تو گھسی پٹی ہے مگر دہرائے بغیر چارہ نہیں کہ جن لوگوں نے لاؤڈا سپیکر کو حرام قرار دیا آج اسی لاؤڈا سپیکر کے بغیر اُن کا گزارہ نہیں، ٹیکنالوجی پر بند نہیں باندھا جا سکتا، وقتی طور پر آپ یا میں کچھ مزاحمت کر سکتے ہیں مگر اس کا فائد ہ نہیں ہوتا، ٹیکنالوجی ہم ایسوں کو روندتی ہوئی آگے بڑھ جاتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی ایک خاموش انقلاب بھی برپا کرتی ہے جو ثقافتی بھی ہوتا ہے اور سماجی بھی، معاشی بھی اور سیاسی بھی۔ مثلاً آج سے چند سال پہلے تک لوگ اس بات کا سخت خیال رکھتے تھے کہ اُن کی شادی پر بہو بیٹیوں کا ڈانس کوئی یو ٹیوب پر نہ ڈال دے، اب وہ خود یہ کام کرتے ہیں، اور سب یوں عادی ہو گئے ہیں کہ اب یہ بات نارمل لگتی ہے۔ دوسری بات جو اِس سے جڑی ہے اور جس کا ہمیں ادراک نہیں ہو پا رہا وہ سوسائٹی کے تبدیل ہونے کی رفتار ہے، جو تبدیلی گزشتہ ڈیڑھ سو برس میں آئی اب اُس سے زیادہ تبدیلی آئندہ پندرہ برس میں آ جائے گی۔ وہ لوگ جو اِس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم کمپیوٹر نہیں جانتے، اسمارٹ فون نہیں رکھتے، ای میل نہیں پڑھ سکتے، انہیں اس کے مضمرات کا اندازہ نہیں۔ اسی طرح تیزی سے تبدیل ہوتی اس دنیا کا اندازہ حکومتوں کو بھی نہیں ہو پا رہا خاص طور سے پسماندہ ممالک کے حکمرانوں کو، وہ ذہنی طور پر ابھی تک اسی دنیا میں جی رہے ہیں جب انگریز بہادر اپنے پنکھا قُلی کو پسلیوں میں لات مار کر ہلاک کر دیا کرتا تھا۔ تیج بہادر یادیو کو غیر معیاری کھانا دینے والے بھی اُسی دنیا میں جی رہے تھے۔
تیسری اور آخری بات۔ اِس ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہم ایک خطرناک عہد میں داخل ہو چکے ہیں، اس دور میں کیا ہو سکتا ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں، انٹرنیٹ پر ہماری ذاتی معلومات موجود ہیں، ہمارے کھانے پینے کی عادات سے لے کر سونے کے اوقات تک سب چیزیں ہم اپنے ہاتھوں سے موبائل فون پر محفوظ کر رہے ہیں، اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے کسی کو اندازہ نہیں اور ہم اِس ضمن میں کچھ خاص فکر مند بھی نہیں۔ ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ فکرمند ہو کر بھی ہم کیا کر سکتے ہیں، اِس ٹیکنالوجی جس کے ہم محتاج ہو چکے ہیں اِس سے چھٹکارا ممکن ہے اور نہ اِس کے بغیر گزارہ، پھر کیا کیا جائے؟ یہ سوال ہمیں اُس وقت ہانٹ کرے گا جب ٹیکنالوجی کا یہ جِن بوتل سے باہر نکل کر بے قابو ہو جائے گا۔

(بشکریہ جنگ نیوز)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 131 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada