منٹو ۔۔۔۔ مجید امجد کی لافانی نظم


\"\" میں نے اُس کو دیکھا ہے

اُجلی اُجلی سڑکوں پر

اک گرد بھری حیرانی میں

پھیلتی پھیلتی بھیڑ کے اندھے اوندھے

کٹوروں کی طغیانی میں

جب وہ خالی بوتل پھینک کر کہتا ہے:

’’دنیا تیرا حسن یہی بدصورتی ہے‘‘

دنیا اس کو گھورتی ہے

شورِسلاسل بن کر گونجنے لگتا ہے

انگاروں بھری آنکھوں میں یہ تند سوال

کون ہے یہ جس نے اپنی بہکی بہکی سانسوں کا جال

بامِ زماں پر پھینکا ہے

کون ہے جوبل کھاتے ضمیروں کے پرپیچ

دھندلکوں میں

روحوں کے عفریت کدوں کے زہر اندوز

محلکوں میں

لے آیا ہے، یوں بن پوچھے اپنا آپ

عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروںکی چاپ

کون ہے یہ گستاخ

تاخ تڑاخ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مجید امجد کی دیگر تحریریں
مجید امجد کی دیگر تحریریں